پاکستان بنتے ہی مراعات یافتہ طبقے نے ریاست پر قبضہ جمالیا، حقوق کیلئے ہمیں مادری زبانوںکو رائج کرنا ہوگا، مختار یوسفزئی

کوئٹہ : مادری زبانوں کے عالمی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے کہا ہے کہ مادری زبان میں علم حاصل کرنا بنیادی انسانی حق ہے اور قوموں کو اس حق سے محروم کرنا انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزی ہے۔ پنجابی استعماری پالیسیوں سے اب محکوم قوموں پشتون، بلوچ، سندھی اور سرائیکی کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوات میں مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر کیا۔ دریں اثنا پشتونخوا میپ کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا جس میں سوات، ژوب، لورالائی، قلعہ سیف اللہ، مالاکنڈ، مردان، پشاور، بنوں، چارسدہ شامل ہیں مختار خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ مادری زبانوں کے عالمی دن کو منانے کا مقصد ایک طرف بنگال کے ان مبارزین کی جدوجہد کی یاد کو تازہ کرنا ہے جنہوں نے گزشتہ روزکوقومی حق خودارادیت، واک و اختیار، قومی شناخت اور مادری زبان کیلئے جانوں کا نظرانہ پیش کیا اور دوسری طرف انہوں نے دنیا کے ان قوموں میں امید اور حوصلے کا جذبہ پیدا کیا ہے جن کی قومی شناخت اور قومی زبانیں سامراجی اور استعماری تسلط کے زیر اثر ہے۔ پشتو زبان بھی ان میں سے ایک ہے جنکو اس ملک میں سرکاری، تعلیمی اور کاروباری زبان کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا ہے اور اس زبان کی ترقی پر قدغن لگا دی گئی ہے۔ البتہ اگر پشتو زبان نے ملکی اور بین القوامی سطح پر کچھ اہمیت اور حیثیت حاصل کی ہے تو وہ پشتو سے محبت کرنے والے ادیبوں، شاعروں، لکاریوں اور قومی تحریک سے وابستہ مخلص سیاسی کارکنوں کی بےلوث خدمت اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ پشتو کی خدمت کے اس فریضہ کو ہم نے مزید جدت کے ساتھ آگے بڑھانا ہے ۔ ہم نے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم پشتو زبان کی ترقی اور اسے سرکاری، تعلیمی اور کاروباری زبان تسلیم کروانے کیلئے مشترکہ جدوجہد کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ پشتونخوا میپ پشتو زبان کے ساتھ ساتھ پشتونخوا وطن میں بولی جانے والی تمام زبانوں جس میں ہندکو، کوہستانی، چترالی، ہزارگی اور دیگر شامل ہے کے تحفظ اور ترقی کیلئے یکساں کوششیں کرے گی۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان بننے کے ابتدائی دنوں سے ہی اس ملک میں وفاقیت کی روح کو مسخ کرکے پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی سرکردگی میں سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور مراعات یافتہ طبقات نے ریاست پر قبضہ جمالیا اور قوموں کے سیاسی، معاشی، ثقافتی اور بنیادی انسانی حقوق سلب کرکے انہیں غلام اور محکوم بنا لیا اور یہ سمجھا گیا کہ استحصالی طریقے کو دوام دیکر اس ملک کو چلایا جا سکتا ہے لیکن جلد ہی یہ پالیسی اور سوچ ناکامی سے دوچار ہوا جب بنگلہ دیش کے عوام نے ناانصافیوں اور قبضہ گیری سے تنگ آکر آزادی حاصل کی ۔ لیکن پنجابی استعماری قوتوں نے بنگلہ دیش بننے کے سانحے سے بھی کوئی سبق اور عبرت حاصل نہیں کیا اور باقی ماندہ پاکستان میں قوموں کے ساتھ آقا اور غلام کے رشتے کو پروان چڑھایا اور فیڈریشن کے روح کو مسخ کرتے ہوئے قوموں کے درمیان ناانصافی اور نفرت کے بیج بوئے۔ حتی کہ پنجابی مظلوم عوام کا بھی سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے ذریعے شدید استحصال کیا گیا جو اب تک نسل در نسل غلاموں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ مقررین نے کہا کہ اب محکوم اقوام کو اپنے غلامی کا ادراک ہوچکاہے اورانکو مزید پاکستانیت اور مسلمانی کے دلفریب ناموں کے زریعےغلامی کی زنجیروں میں جکڑنا ممکن نہیں ہے۔ پنجابی استعماری قوتوں کاماضی میں غلط پالیسیوں کے نتائج آج ملک کے عوام معاشی دیوالیہ پن کی شکل میں بھگت رہے ہیں اور یہ ملک ہر آنے والے دن کے ساتھ ابتری اور تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے جس نے عوام کو شدید ذہنی کوفت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس ملک کے نااہل، بےحس ، مفاد پرست اور کوتاہ اندیش مقتدر قوتوں کو اب بھی حالات کی سنگینی کا اندازہ نہیں اور نہ ہی ان میں ملک کو صحیح سمت میں چلانے کی سنجیدگی موجود ہیں۔ ملک کو تمام بحرانوں سے نکالنے کیلئے ضروری ہے کہ فوری طور پر قوموں کے درمیان نئے عمرانی معائدے کی تشکیل پر کام کا آغاز کیا جائے جس میں قوموں کی حق خودارادیت و حاکمیت کی گارنٹی ہو، اپنے قومی وسائل پر اختیار ہو، دفاعی اور خفیہ اداروں کو سیاست میں کوئی کردار نہ ہو، ملک کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کی تشکیل منتخب پارلیمنٹ کے زریعے ہو اور ہر قسم کے استحصال سے پاک معاشرے کی از سر نو تشکیل ہو، تاکہ ملک میں رہنے والے عوام پرامن اور خوشحال زندگی گزار سکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں