وفاق اور صوبہ کیسکو کو واجبات نہیں دے رہا، بلوچستان کے زمینداروں کا معاشی قتل کیا جارہا ہے، ملک نصیر شاہوانی
کوئٹہ : بلوچستان زمیندار ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈ ملک نصیر احمد شاہوانی نے کہا ہے کہ وفاق اور صوبہ کیسکو کو دینے والے واجبات ادا نہیں کر رہا اور بجلی بند کر کے بلوچستان کے زمینداروں اور عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے جس کی ہم اجازت نہیں دینگے، صوبے کو 300میگا واٹ بجلی دیکر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے بجلی کی بندش کیخلاف بلوچستان کے 32اضلاع میں 30مقامات پر زمینداروں نے احتجاج کرتے ہوئے روڈ بلا ک کیئے ، ”آن لائن “سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج وفاق کی غلط پالیسیوں اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بلوچستا ن کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کرنے کیلئے صوبے میں بسنے والے لوگوں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے، حالانکہ صوبے کے لوگوں کا ذریعہ معاش زراعت اور مالداری سے وابسطہ ہے، اسپیکر بلوچستان اسمبلی کی قیادت میں پارلیمان کے وفد نے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی جانب سے مقرر کردہ وفد جس میں وفاقی ورزاءخواجہ محمد آصف ،خرم دستگیرر،مصدق ملک، میر محمد ہاشم نوتیزئی اور سیکرٹری توانائی سے ملاقات کی اور بلوچستان میں توانائی کے بحران اور بجلی کی طویل بندش غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ، وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب کیسکو کے واجبات کی عدم ادائیگی کے حوالے سے آگاہ کیا، معاملات کو بہتر بنانے کی بجائے مزید خراب کیا جا رہا ہے، اور زمینداروں پر عرصہ دراز تنگ کرتے ہوئے ان کا معاشی قتل سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے 28جنوری 2001میں بھی تجربہ کیا گیا اور زمینداروں نے بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کیا اور ان پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں 3زمیندار شہید اور 15زخمی ہوئے ایک بار پھر وہی عمل اور پالیسی دوبارہ دہرائی جا رہی ہے زمینداروں کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ سراپا احتجا ج ہے،حکومت نے اس واقع سے بھی ہوش کے ناخن نہیں لئے اور زمینداروں کے مسائل کے حل کو ممکن نہیں بنایا دوبارہ تجربہ دہرا کر لوگوں کو دیوار کے ساتھ لگایا جا رہا ہے، صوبے کو 300میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ 900میگا واٹ بجلی کی موجودگی کا دعویٰ کیا جاتا ہے، اس کے باوجود صوبے میں وفاق کی ایما پر دو گھنٹے بجلی مہیا کی جا رہی ہے جو زمینداروں اور عوام کیساتھ ظلم و زیادتی کے مترادف ہے بلوچستان کے زمینداروں نے وفاق اور کیسکو کے اس ناروا اقدام کیخلاف آج بلوچستان کے 32اضلاع میں30مقامات پر کوئٹہ، لکپاس ، دشت ،خضدار قلعہ سیف اللہ ،پشین ،قلعہ عبداللہ خاران، نوشکی ،سمیت تمام علاقوں میں زمینداروں کے نمائندوں حاجی جبار حاجی کاظم اچکزئی سمیت دیگر کی سربراہی میں قومی شاہراہوں کو بلا ک کر کے احتجاج کیا جو صبح 8بجے سے شام5بجے تک جاری رہا ،ہمارا احتجاج مزید سخت ہوگا اگر وفاق نے اپنا رویہ نا بدلا تو آئندہ مزید سخت لائحہ عمل اپناتے ہوئے احتجاج کرینگے کیسکو کو سبسڈی کی مد میں وفاقی اور صوبائی حکومت نے واجبات ادا کرنے ہیں، زمینداوروں کے ذمہ کوئی واجبات نہیں انہیں بجلی نہ دیکر ان کامعاشی قتل کیا جا رہا ہے، جس کی ہم اجازت نہیں دینگے،بلوچستان میں زمینداروں کے احتجاج کے باعث قومی شاہراہوں پر ٹریفک کی آمد و رفت بند رہی جس سے ٹرانسپورٹروں اور مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا زمینداروں کے احتجاج کی مختلف جماعتوں ٹرانسپورٹ تنظیموں نے حمایت کا اعلان کیا تھا


