اخترمینگل سے متعلق ثناءاللہ زہری کی من گھڑت اور دروغ گوئی پر گفتگو کی مذمت کرتے ہیں،بی این پی
کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں ثناءاللہ زہری کی جانب سے پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل سے متعلق دروغ گوئی اور من گھڑت گفتگو کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی سیاسی جماعتیں ہوں یا ملک بھر کی وہ پارٹی قائد کے کردار اور جدوجہد سے بخوبی واقف ہیں کسی ایسے شخص کو پارٹی ہرگز اجازت نہیں دے گی کہ وہ منفی پروپیگنڈہ کر کے عوام کے آنکھوں میں دھول جھونکے بلوچستان کے بلوچ ہوں یا بلوچستانی عوام پارٹی قائد کی طویل جدوجہد ، مستقل مزاجی ، ثابت قدمی سے متعلق بخوبی آگاہی رکھتے ہیں پارٹی قائد کے خاندان کی قربانیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں جبکہ موصوف نے سیاست میں آتے وقت آزاد حیثیت سے الیکشن میں کامیاب ہوئے اور اب تک انہوں نے ایک درجن سے زائد پارٹیاں بدلیں اور اپنے اکابرین بھی تبدیل کئے آزاد حیثیت کے بعد پاکستان نیشنل پارٹی پھر بلوچستان نیشنل پارٹی کا انتخاب کیا اور جسطرح سے اپنے خاندان کا شیرازہ بکھارا اسی طرح انہوں نے بی این پی کو دولخت کرنے میں کردار ادا کیاان کی سازشیں اور عزائم کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں جو تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں جبکہ 1997ئ کے الیکشن میں شکست کے باوجود بی این پی نے اپنے فیصلوں میں ترامیم کر کے انہیں سینیٹر بنوایا مگر موصوف کا پارٹیاں بدلنے کا سفر جاری رہا اس کے بعدانہوں نے بی این ڈی پی ، نیشنل پارٹی ، نام نہاد قوم پرستی کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ن) میں گروہی مفادات کے حصول تک انہوں نے ن لیگ کا پرچم لہرایا گروہی مفادات کے حصول کے بعد اب پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی اب پاکستان پیپلز پارٹی کے گن گانے لگے ہیں موصوف جھالاوان میں قبائلی طور پر سردار نہیں ہیں مگر انہوں نے کسی اور کی سرداری پر براجمان ہیں سردار لکھنے سے قبائلی طور پر کوئی سردار نہیں بنتا جو قبائلی روایات ہیں اس کے مطابق موصوف سردار نہیں بلکہ قابض شخص ہیں جھالاوان کے عوام ان کے کردار سے بخوبی واقف ہیں ان پر مزید وقت ضائع نہ کرنا ہی بہتر ہے اگر موصوف مزید حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں تو یقینا ہم ان کو مزید جواب دیتے رہیں گے بیان میں کہا گیا ہے کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت ان سے متعلق بخوبی علم رکھتے ہیں پارٹی نے جب بھی جھالاوان یا بلوچستان میں جمعیت علمائے اسلام ہو یا کوئی اور جماعت ان سے اتحاد میں اجتماعی ، قومی مسائل کے حل کیلئے اتحاد کیا 2018ئ کے انتخابات میں پارٹی اور جمعیت کا اتحاد مثالی تھا دونوں پارٹیوں نے کامیابی میں اہم کردار ادا کیا اب جبکہ الیکشن کا وقت قریب آ رہا ہے تو اس قسم کی باتوں کا مقصد بھی یہی ہے کہ جھالاوان کی سیاست میں انہیں شکست کا خدشہ ہے جس سے اب بوکھلاہٹ کا شکار ہیں جس طرح انہوں نے پارٹیاں بدلیں اور اب دیکھتے ہیں کہ موصوف پی پی پی میں کتنا وقت گزاریں گے کیونکہ یہ سیاست کو تجارت کا درجہ دیتے ہیں جہاں گروہی مفادات کا حصول ممکن ہے وہاں چلے جاتے ہیں پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل بلوچستان کی بڑی سیاسی پارٹی کی قیادت کر رہے ہیں سازشی عناصر کو ان کی مقبولیت ، جدوجہد آنکھ نہیں بہا رہی ہے ان کی حالت پر افسوس پر ہی کیا جا سکتا ہے


