گرین بلوچستان منصوبے کے تحت شجر کاری مہم میں 72 لاکھ پودے لگائے جائیں گے، سیکرٹری جنگلات
کوئٹہ (آن لائن) سیکرٹری جنگلات بلوچستان نور احمد پرکانی نے کہا ہے کہ حکومت گرین بلوچستان منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے صوبے بھر میں شجر کاری کے دوران 72لاکھ پودے لگا رہی ہے، کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی کرخسہ، اور دیگر علاقوں میں پودے لگا کر ان علاقوں کو گرین بیلٹ میں تبدیل کرینگے کیونکہ وہاں پر پانی کی وافر مقدار موجودگی اور آب و ہوا بھی بہتر ہے اس حوالے سے تاجر برادری بزنس کمیونٹی اور چیمبر آف کامرس ہمارے ساتھ تعاون کریں تاکہ شجر کاری کو کامیاب بنایا جا سکے۔ ہماری کوشش ہے کہ کوئٹہ کو گرین بیلٹ میں تبدیل کیا جائے اس کے حوالے سے شجر کاری کے دوران کوئٹہ کے اطراف میں درخت لگا رہے ہیں ہزار گنجی میں درخت لگانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے کیونکہ وہاں پر پانی وافر مقدار میں موجود ہے اور آب و ہوا بھی اچھی ہے، تربت میں37ایکڑ رقبے پر لگائے گئے درخت 100فیصد کامیاب رہے اور لسبیلہ میں بھی لگائے جانے والے درختوں کا تناسب اچھا ہے اور مجموعی طور پر شجر کاری کے دوران لگائے جانے والے درخت کا تناسب 25فیصد ہے صوبے بھر میں تقریبا72لاکھ درخت لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے، اور لگائے جانے والے درختوں کی بڑھوتری 75فیصد ہے،کرخسہ میں بھی گرین ایریا پر کام ہو رہا ہے اور گرد و نواح میں بھی اس مہم کو چلانے کی ضرورت ہے ہزار گنجی اور دیگر علاقوں میں بہتر درخت اگانے کیلئے موسم اور ماحول اچھا ہے جس کے خاطر خوا ہ نتائج حاصل ہو سکتے ہیں ہماری ٹیمیں موجود ہیں جو اپنے حصے کا کام کر رہی ہیں، باقی کام بھی مکمل کیا جا رہا ہے، ہمارا عملہ درخت لگانے کا طریقہ کار بھی منظم انداز میں سرانجام دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ شجر کاری مہم کے دوران کوئٹہ ڈویژن میں 4 لاکھ64 ہزار 560 ، ژوب ڈویژن میں 6 لاکھ 65 ہزار 175، لورالائی ڈویژن 5 لاکھ 76 ہزار، سبی ڈویژن میں 8 لاکھ 57 ہزار 900، نصیر آباد ڈویژن 4 لاکھ 93 ہزار 50، قلات ڈویژن 12 لاکھ 24 ہزار 50، رخشان ڈویژن 14 لاکھ 58 ہزار، مکران ڈویژن 5 لاکھ 27 ہزار 225، کوسٹل ایریا 9 لاکھ 50 ہزار درخت لگائے جائیں مقرر کردہ ہدف کے مطابق 72 لاکھ 15 ہزار 960 درخت لگائے جائیں گے۔ محکمے کی جانب سے شجر کاری کے لئے مختلف محکموں کو 16 لاکھ 61 ہزار 960 ، زمینداروں اور کمیونٹیز کو 23 لاکھ 82 ہزار 500 کے علاوہ مختلف دیگر کو 31 لاکھ 71 ہزار 500 درخت لگائے جائیں گے کیونکہ شناختی کارڈ پر 5 درخت دیئے جاتے ہیں اس لئے ہم زمینداروں یا کسی اور کو زیادہ درختوں کی ضرورت ہو تو انہیں قانونی تقاضوں کے مطابق مزید درخت دیئے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ پانی کو قابل استعمال بنا کر اس سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اور جنگلات کو بچانے اور اس کی آبیاری کیلئے اقدامات اٹھا رہے ہیں اس میں ہم سب کو اپنی ذمہ داری نبھانا ہوگی، تاکہ سرسبز بلوچستان کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنایا جا سکے دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے درخت لگا کر انکی حفاظت کو یقینی بنائیں تاکہ ماحول کو صاف ستھرا بنایا جا سکے ۔


