اوتھل میں سیلاب زدگان کی بحالی نہ ہوسکی، متاثرین تاحال حکومتی امداد کے منتظر

اوتھل (این این آئی) گرمی گئی، سردی گئی دوبارہ گرمی آگئی لیکن بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے حالات نہ بدلے سات ماہ گزرنے کے باوجود حکومتی امداد کے منتظر،حکومت نے چپ سادھ لی، گزشتہ سال لسبیلہ سمیت بلوچستان میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی تھی کئی گھر پانی میں بہہ گئے تھے اور کئی گھر منہدم ہوگئے تھے اور کئی گھروں کو دراڑیں پڑ گئی تھی لیکن وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو صرف دلاسے ہی دیے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کچھ بھی اقدامات نہیں کئے گئے۔تفصیلات کے مطابق بلوچستان کے سیلاب متاثرین آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود حکومتی امداد کے منتظرپیں لیکن حکومت نے چپ سادھ لی ہے گزشتہ سال لسبیلہ سمیت بلوچستان میں آنے والے سیلاب نے تباہی مچا دی تھی کئی گھر پانی میں بہہ گئے تھے اور کئی گھر منہدم ہوگئے تھے اور کئی گھروں کو دراڑیں پڑ گئی تھی لیکن وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کو صرف دلاسے ہی دیے گئے لیکن سیلاب متاثرین کی بحالی کے لئے کچھ بھی اقدامات نہیں کئے گئے متاثرین سات ماہ سے حکومت کی راہیں تک رہے ہیں اور امید و یاس لگائے بیٹھے ہیں لیکن حکومت نے بھی متاثرین بحالی کے لیے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے عوامی حلقوں نے وفاقی حکومت اور بلوچستان حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کرے۔ لسبیلہ میں 25 جولائی کو سیلاب آیا جس نے کئی گھروں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا اور کئی گھروں کو دراڑیں پڑ گئی تھی اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی سیلاب کی نذر ہوگئی آنے والے سیلاب کو سات ماہ سے زائد عرصہ گزر گیا حکومت کی جانب سے تعمیر نو کے لیئے گھروں کے سروے بھی کئے گئے لیکن سیلاب متاثرین کو حکومت کی جانب سے کچھ بھی امداد مل نہ سکی عوامی حلقوں نے حکومت بالا سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ہمارے گھروں کی تعمیر کے لئے فوری اقدامات کرے کئی ماہ سے ہم اس شدید گرمی میں بھی آسمان تلے اور خیموں میں بڑی مشکلات سے اپنی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں