مسلم ریاستوں کے حاکم اور مالک اب بھی انگریز یا اس کی جانشین مغربی قوتیں ہیں، مولانا شیرانی

کوئٹہ (این این آئی) مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ تخریب کاری حادثہ نہیں منصوبہ ہے، انسداد تخریب کاری کے نام پر تخریب کاری کے فروغ کے کھیل کی بنیادی اسٹریٹجی یہ ہے کہ تخریب کاری کو پوری قوت کے ساتھ ابھارا جائے اور بہت احتیاط کے ساتھ اس سے نمٹا جائے جس کے نتیجے میں تخریب کاری کے خلاف جنگ بھی مسلسل جاری رہتا ہے جبکہ تخریب کاری کا دائرہ بھی دن بہ دن پھیلتا جاتاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جے یو آئی پاکستان ضلع شیرانی کے امیر سید حاجی ظاہر شاہ حریفال کے زیرِ صدارت اوبہ سر کے مقام پر منعقد ہونے والے شعور و آگہی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مسلم دنیا کی حیثیت فاتح کی نہیں بلکہ مفتوح کی ہے انگریزوں کے غلبے سے قبل اسلام مسلم جغرافیہ کا نظام، شریعت اس کا قانون اور خلافت اس کی حاکمیت تھی انیسویں صدی میں مغربی فاتحین کے ہاتھوں تشکیل کردہ موجودہ مسلم ریاستوں کا حاکم اور مالک اب بھی انگریز یا اس کے جانشین مغربی قوتیں ہیں جبکہ ان خطوں میں نظر آنے والی حکومتی نظم اور اسٹیبلشمنٹ کے ادارے کا کام مغربی مفادات کی چوکیداری ہے اس تناظر میں ہمیں اپنی اسٹیبلشمنٹ سے خیر کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے البتہ اسٹیبلشمنٹ سے وابستہ افراد چونکہ ہمارے اپنے ہیں لہذا پالیسی یہ ہونی چاہیے کہ ادارے کی بین الاقوامی مجبوری کو تسلیم کیا جائے اور افراد کی ذاتی ہمدردی سے استفادہ کیا جائے انہوں نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کی پچھلی قیادت نے مغربی طاقتوں کے ساتھ یہ طے کیا تھا کہ کشمیر کے مسئلے کو بیس سال تک سرد خانے میں ڈالا جائے گا بیس سال بعد کشمیر نیٹو فورسز کے زیر انتظام مستقل ریاست ہوگی سی پیک منصوبے کو یکسر بند کر دیا جائے گا امریکہ کو پاکستان کا فضا اور زمین افغانستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت ہوگی، اسرائیل کو اس کے موجودہ شکل میں ہی تسلیم کیا جائے گا اور جوہری پروگرام تسلیم کیا جائے گا عمران خان حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اختلاف کا اصل سبب عمران خان کا یہی موقف تھا کہ اسرائیل کو موجودہ شکل میں تسلیم کرتے ہوئے مجھے اللہ سے حیا آتی ہے بھارت کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ وہ کشمیر کی سابقہ آئینی حیثیت کو دوبارہ بحال نہ کرے اور پاکستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دینی چاہیے انہوں نے کہا کہ ضلع شیرانی میں لیویز فورس اور بلدیاتی نمائندے مل کر علاقے کے امن و امان کے بارے میں سنجیدگی سے سوچیں علاقے کے لوگ کسی بھی انجان شخص کو پوچھ گچھ کے بغیر علاقے میں نہ رہنے دیں اور علاقے کے علماءقبائلی زعماءاور سیاسی رہنماو¿ں کے درمیان مستقل مشاورت کا اہتمام رہنا چاہیے اس موقع پر اے این پی کے ضلعی صدر ملک امان اللہ حریفال جےیوآئی پاکستان ڑوب کے ضلعی مرابط الحاج قاضی احمد خوستی جے یو آئی (ف) کے صوبائی رہنما الحاج محمد حسن شیرانی حاجی محمد یعقوب شیرانی پاکستان تحریک انصاف کے سابق ضلعی صدر عبدالوہاب شیرانی سماجی کارکن راز محمد شیرانی زکریا شیرانی سردار عزیز اللہ کبزئی سردار محمد جلال حریفال اور دیگر سیاسی و قبائلی رہنماو¿ں نے خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں