پنجگور ٹیچنگ ہسپتال کی تباہ حالی اور انٹرنیٹ سروس کی بندش کیخلاف پیپلز پارٹی کی احتجاجی ریلی

پنجگور (آن لائن) پنجگور ٹیچنگ ہسپتال کی تباہ حالی انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندش کیخلاف پاکستان پیپلز پارٹی پنجگور کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی و شدید مظاہرہ کیا گیا ہے احتجاجی ریلی پی پی کے ضلعی دفتر سے نکل کر چتکان بازار کے مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے انٹرنیٹ ڈیٹا بحال کرو بحال کرو ہسپتال کی تباہی نہ منظور نہ منظور لاپتہ افراد بازیاب کرو کے نعرے لگاتے ہوئے بسم اللہ چوک پر جمع ہوکر جلسے کی شکل اختیار کرلی احتجاجی مظاہرین کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر انٹرنیٹ ڈیٹا کی بحالی ہسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم ڈیوٹی، لاپتہ افراد کی بازیابی بلوچ کو حق دو کے جملے نبشتہ تھے اس احتجاجی مظاہرے کو حق دو تحریک سول سوسائٹی و اسٹوڈنٹس تنظیم مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کی حمایت حاصل تھی و انکے رہنما شامل تھے، ریلی کی قیادت پاکستان پیپلز پارٹی مکران کے جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین و ضلعی کابینے کے عہدیداروں نے کی احتجاجی جلسے سے پاکستان پیپلز پارٹی مکران کے جنرل سیکرٹری آغا شاہ حسین حق دو تحریک کے ڈپٹی آرگنائزر ملا فرہاد اسٹوڈنٹس تنظیم کے رہنما فہد آصف سول سوسائٹی کے صمد صادق مسلم لیگ ن یوتھ کے قاضی رضا پی پی کے سعید موسیٰ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجگور کی آٹھ لاکھ آبادی کی زندگی و موت کا سہارا ٹیچنگ ہسپتال پنجگور ہے جس میں نہ ڈاکٹر ہے نہ میڈیسن ہے نہ دیگر ضروری سہولت ہے کئی ڈاکٹروں کی پوسٹنگ پنجگور میں ہوتے ہیں وہ حکومت وقت ضلعی انتظامیہ محکمہ صحت کی نااہلی کی وجہ سے ڈیوٹی نہیں دیتے ہیں انہوں نے کہا ہے کہ انسان کی اہم ترین بنیادی ضروریات صحت تعلیم انٹرنیٹ و اس ملک کے آئین و قانون یہی کہتا ہے کہ شہریوں کو انکے بنیادی ضروریات شہریوں کو ملیں لیکن افسوس پنجگور میں نہ ہسپتال نہ ایجوکیشن نہ کہ دنیا کی اہم و ضروری سہولت انٹرنیٹ عوام کو میسر ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہم جب اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں ہمیں غدار کہا جاتا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور کے انٹرنیٹ ڈیٹا کی بندیش کا بہانہ کے سیکورٹی ریزن پر بند کردیا گیا ہے یہ ایک غلط فہم بہانہ جو اس صدی عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش ہے پشاور سندھ پنچاب میں ہر روز دھماکے حملے ہوتے ہیں وہاں کیوں انٹرنیٹ ڈیٹا کو بند نہیں کیا جاتاہے ہم یہی سمجھتے ہیں یہ تمام تر ہسپتال کی تباہی ایجوکیشن و انٹرنیٹ کی بندیش بلوچ قوم کو ہر بنیادی ضروریات سے محروم رکھنے کی سازش ہے جو ملک کے ادارے کررہے ہیں اس ملک میں بلوچ قوم کو دشمن کی نظروں سے دیکھا اور ان سے سلوک کیا جاتا ہے اس ملک میں بلوچ قوم کے بنیادی حقوق سے انہیں محروم کیا گیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور کا ایک نمائندہ ہے جو اس وقت صوبائی اسمبلی کے رکن صوبائی وزیرِ ہیں اور ایک لاپتہ ایم این ہیں جن کا نام پنجگور کو یاد نہیں لیکن صوبائی وزیر ہر چیز کو اپنے نام کرتے ہیں کہ یہ کام وہ کام ہم نے کئے ہیں فخریہ کہتے ہیں کہ پنجگور کو ہم نے ترقی دی ہمیں افسوس ہے کہ پنجگور میں نہ ہسپتالوں میں ڈاکٹر ہے نہ اسکولوں میں ٹیچرز ہیں نہ انٹرنیٹ نہ پانی ہے پنجگور کے غریب عوام کو صرف بلڈنگ کچھ نہیں دیتے ہیں نہ ہی بلڈنگ ترقی کا نام ہے انسانی زندگی کو زندہ رہنے کی سہولت کی ضرورت ہے جان ہوگی کہ بلڈنگ دیکھیں گے بغیر صحت کے کوئی چیز معنی نہیں رکھتی ہے انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں وہ ترقی نہیں چائیے جو ہمارے ماں بہن بچوں کو ہسپتال اسکول نہ دے سکے خود عیاشیاں کریں اور غریب عوام فیناڈول کو ترسے کوئی مذہب معاشرہ اس ترقی کو قبول نہیں کرے گا انہوں نے کہا ہے کہ اداروں کی جانب سے ایک طرف بنیادی ضروریات کو دیرے دیرے تباہ کیا جارہا دوسری جانب روزگار پر کریک ڈان شروع کی جارہی ہے بارڈر کاروبار غریبوں سے چھین کر انتظامیہ کا کاروبار بن چکی ہے انتظامیہ کا دفتر سرکاری امور کیلئے بند کردی گئی ہر روز اسٹکیر ای ٹیگ کے خرید وفروخت کا مرکز بن گیا ہے پنجگور کے عوام لوکل سرٹیفیکیٹ کے دستخط کیلئے مہینوں تک دفتر کا چکر لگاتے ہیں لیکن ڈپٹی کمشنر اسٹیکرز کے دکانداری میں مصروف ہیں انہوں نے کہا ہے کہ پنجگور کے ہسپتال کے ڈاکٹروں کو ڈیوٹی کے پابند انٹرنیٹ ڈیٹا کو بحال کاروبار کو آسان نہیں کیا گیا تو سخت ترین احتجاج کرنے پر مجبور ہونگے جس کے زمہ متعلقہ ادارے ہونگے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں