کوئٹہ میں جی ٹیوب ویلوں کو ای او سی جاری کر ے کیخلاف شہریوں کا شدید احتجاج
کوئٹہ : محمد خیر روڈ ،عبدالولی چوک ،قدوس روڈ اور تری روڈ کے رہائشیوں ے جی ٹیوب ویلز کو ای او سی جاری کر ے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سام ے مظاہرہ کیا۔ مظاہری کا کہ ا ہے کہ سرکاری ٹیوب ویل خشک ہوا تو ہزاروں گھر پی ے کے پا ی سے محروم ہو جائیں گے۔محمد خیر روڈ ،عبدالولی چوک ،قدوس روڈ اور تری روڈ کے رہائشیوں ے جی ٹیوب ویلز کو ای او سی جاری کر ے کے خلاف کوئٹہ پریس کلب کے سام ے مظاہرہ کیا،مظاہری ے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ج میں مطالبات کے حق میں عرے درج تھے، اس موقع پر مظاہری کا کہ ا تھا کہ عبدالولی چوک، محمد خیر روڈ پشتو درہ کوئٹہ کے رہائشیوں کو پی ے کے پا ی کی شدید قلت کا سام ا ہے۔ عبدالولی چوک محمد خیر روڈ پر بی واسا کے زیر ا تظام صرف ایک سرکاری ٹیوب ویل ہے جو 1993 سے محمد خیر روڈ، تری روڈ ،عبدالقدوس روڈ اور ملحقہ علاقوں کے مکی وں کو پا ی فراہم کر رہا ہے۔ بی واسا ٹیوب ویل کے بالمقابل۔ محمد خیر روڈ،پشتو درہ کوئٹہ میں کچھ تاجر لعل محمد ولد شیر محمد درا ی ے 2022 میں غیر قا و ی بور/ٹیوب ویل شروع کروائے، مکی وں کی شکایات پر بی واسا حکام ے کام روک دیا، اور مشی ری بھی غائب کر دی گئی۔ ساما ضبط کر لیا لیک حال ہی میں، مارچ 2023 میں غیر قا و ی بور پر دوبارہ کام شروع کر دیا گیا جس کے خلاف یہ مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا ہے ، دوسری جا ب بی واسا حکام ایسے غیر قا و ی واٹر بور کو روک ے اور روک ے کے لیے اپ ا فرض ادا ہیں کر رہے ہیں۔مظاہری کا کہ ا تھا کہ پی ے کے پا ی کی فراہمی صرف پبلک ہیلتھ ڈیپارٹم ٹ اور واسا کا می ڈیٹ ہے، اور کسی دوسرے فرد کو قا و ی طور پر رہائشی علاقوں میں بور/روب ویل لگا ے کی اجازت ہیں دی جا سکتی۔محمد خیر روڈ، عبدالولی چوک کے مکی وں کی بارہا درخواستوں اور شکایات کے باوجود واسا حکام ے مذکورہ غیر قا و ی بور کی ت صیب کو مستقل طور پر ہیں روکا، جو کہ خلاف قا و ہے۔ واسا کے عبدالولی چوک سب آفس کے سام ے یہ غیر قا و ی بور کھودا جا رہا ہے لیک محکمہ پلا گ ای ڈ ڈویلپم ٹ کی طرف سے ہدایت ہ ہو ے پر واسا افسرا کا وں کا دھرے بیٹھے ہیں۔ ا ہوں ے کہا کہ اگر اس غیر قا و ی بور/ٹیوب ویل کو کام کر ے کی اجازت دی جاتی ہے، تو اس کا عبدالولی چوک کے واسا کے پبلک ٹیوب ویل پر برا اثر پڑے گا،جس کا ف ی لحاظ سے خشک ہو ا یقی ی ہے۔ اس طرح محمد خیر روڈ ،عبدالقدوس روڈ ،تری روڈ اور آس پاس کے ہزاروں گھر پی ے کے پا ی کی ب یادی ا سا ی حق سے محروم ہو جائیں گے۔علاقہ مکی وں کا کہ ا تھا کہ باقاعدگی سے بل ادا کر رہے ہیں۔ کسی بھی غیر قا و ی بور کی اجازت ہیں دی جا ی چاہیے، بشمول اس مقدمے کے تحت ،محکمہ پلا گ ای ڈ ڈویلپم ٹ بلوچستا میں ترقیاتی کاموں کا مجموعی گراں ہو ے کے اطے بھی بار بار رپورٹ کر چکا ہے اور واسا، کمش ر کوئٹہ اور ڈپٹی کمش ر کوئٹہ کو غیر قا و ی بور کے خلاف کارروائی کر ے کی ہدایت کی ہے مظاہری کا مزید کہ ا تھا کہ جی ٹیوب ویل کے خلاف سابق چیف جسٹس بلوچستا ہائی کورٹ جسٹس جمال م دوخیل ے بھی فیصلہ دیا تھا کہ جی ٹیوب ویلز کے لیے متعلقہ حکام ای او سی جاری ہ کریں۔ اس کے باوجود جی ٹیوب ویل کے لیے ای او سی جاری کیا گیا ہے۔ مکی وں کا کہ ا ہے کہ عبدالولی چوک، محمد خیر روڈ ایک رہائشی علاقہ ہے۔ آس پاس میں زراعت کا کوئی سیٹ اپ ہیں ہے۔ پورے شہر میں بھی ہیں۔ قا و کے مطابق کسی جی فرد کو ٹیوب ویل کی اجازت ہیں دی جا سکتی۔ یہاں تک کہ واٹر بورڈ اور واٹر کمیٹی بھی رہائشی علاقوں میں ایسے غیر قا و ی بور/ٹیوب ویل لگا ے کی اجازت ہیں دے گی۔ پی ے کے پا ی کی فراہمی کو یقی ی ب ا ے کے لیے پی ای ڈ ڈی سے م اسب م ظوری کے بعد بھی ٹیوب ویل لگا ے کا کام صرف محکمہ پی ایچ ای اور واسا کا ہے۔مظاہری ے مطالبہ کیا کہ بلوچستا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور چیف سیکریٹری بلوچستا ایم ڈی واسا، ڈپٹی کمش ر کوئٹہ اور پولیس کو اس غیر قا و ی حرکت کے مرتکب کے خلاف کارروائی کر ے اور عبدالولی چوک محمد خیر روڈ پر بور/غیر قا و ی ٹیوب ویل کو سیل کر ے کا حکم صادر کرے۔ تمام مشی ری اور سازوساما کو ضبط کیا جائے تاکہ علاقہ مکی پی ے کے پا ی سے محروم ہ رہیں۔


