بلوچستان اسمبلی میں بھی ایک ہی دن پورے ملک میں انتخابات کرانے کی قرارداد منظور
کوئٹہ(مانیٹرنگ ڈیسک)سینیٹ اور پارلیمنٹ کے بعد بلوچستان اسمبلی نے بھی پورے ملک میں ایک ہی دن انتخابات کروانے کی قرارداد منظور کر لی جبکہ بلوچستان اسمبلی میں مردم شماری میں حصہ لینے والے اہلکاروں کو اعزازیہ دینے کی قرارداد بھی پیش کی گئی اس قرارداد کو بھی متفقہ طور کر منظور کر لیا گیاگزشتہ روزبلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر جان محمد جمالی کی زیرصدارت ہوا، اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ و قبائلی امور میر ضیااللہ لانگو نے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہو ری پاکستان کے آئین سپریم دستاویز ہے اور آئین کی پاسداری کر نا ہر ادارے پر فرض ہے ، آئین پاکستان کے آرٹیکل 176کے تحت سپریم کورٹ آف پاکستان چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے دوسرے جج پر مشتمل ہے اور آئین کے آرٹیکل 184کے تحت اختیارات معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کے پاس ہو تے ہیں نہ کہ کسی خاص جج کے پاس یہ کہ حال ہی میں پنجاب اور کے پی کے میں انتخابات کے انعقاد سے متعلق ایک فیصلہ کی وجہ سے ایک تنازعہ کھڑا ہوا ہے جس میں چار معزز ججز نے سومو نو ٹس کو بر خاست کر دیا جبکہ تین معززججز نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہدایت جا ری کی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ فیصلے اکثریت کے ذریعے کئے جا تے ہیں اور اقلیت کے فیصلے اکثریت کی رائے پر غالب نہیں آسکتے ہیں یہ عدلیہ کے تقدس کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ اکثریت کے فیصلے کا احترام کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ صرف پار لیمنٹ ہی آئین میں ترمیم کر سکتی ہے اور تشریح کے ذریعے معزز ججز آئین میں الفاظ کا اندراج نہیں کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے دوبارہ لکھ سکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ 18ویں ترمیم کے تحت آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو با اختیار بنانا اور عام انتخابات سے پہلے نگراں حکومتیں بنانا تھا اس لئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں ہوں۔انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ پنجاب کی اجارہ داری بنا نے اور دوسرے صوبوں کو کمزور کر نے کی روش پر گامزن ہے اور یہ عمل جمہوری اقدار کے منافی ہے کہ پنجاب کو با قی تمام صوبوں پر فو قیت دی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں مر دم شما ری جا ری ہے اور ابھی تک نتائج آنا با قی ہیں اور مردم شماری کے نتائج کے بغیر الیکشن کا انعقاد کسی طرح ملکی مفاد میں نہیں ہے ملک ایک سخت معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور ان حالات میں ایک سے زیا دہ مر تبہ الیکشن کروانا معیشت کو مزید کمزور کر دے گا اگر پنجاب میں پہلے الیکشن ہو جا تے ہیں اور با قی ملک میں بعد میں ہو تے ہیں تو پنجاب کی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد زیا دہ ہو نے کی وجہ اس کا اثر پورے ملک میں پڑے گا ۔انہوں نے کہا کہ ایوان قرار داد پیش کر تا ہے کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پورے ملک میں ایک ہی وقت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ذریعے اور نگران حکومتوں کی موجودگی میں کرائے جائیں ۔قرار داد کی موضونیت پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ میر ضیااللہ لانگو نے کہا کہ ملک کو اگر آئین کے تحت چلایا جائے تو ملک کا نظام چلے گا ،اسمبلیوں میں اگر کسی کے خلاف قرار داد آئے یا پھر کسی ادارے اور ایگزیٹیو میں کمزور ی آجائے تو وہ جمہوری عمل ہے ۔انہوں نے کہاکہ عدلیہ ایک ایسا ادارہ ہے جس سے پاکستان اور پاکستان کے ہر فرد کی آخری امیدیں وابستہ ہیں شائد عدلیہ نیک نیتی سے کام کر رہی ہو لیکن ہمارے ملک سے ایسا تاثر جا رہا ہے کہ عدلیہ میں بھی دراڑ آ گئی ہے اور ہمارے ججز پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ تمام مسائل کا حل سب سے پہلے الیکشن کمیشن کے مسائل کو سنا جائے اور مل بیٹھ کر فیصلہ کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ ہماری آخری امیدوں کا سہارا عدلیہ ہے اگر عدلیہ بھی تقسیم ہو جا تی ہے تو ملک اور شہریوں کے پاس کہیں جا نے کی کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح الیکشن کو سپریم کورٹ کی طرف لیکر جا رہا ہے اس سے محکموم صوبوں میں احساس کمتری کا پہلوجاگ اٹھے گا ۔ انہوں نے کہاکہ تمام سیا سی جماعتوں سے مطالبہ ہے کہ سیا ست میں سیا سی مخالفت کی جائے لیکن آج جس طرح کی سیا ست میں اداروں کو بد نام کیا جا رہا ہے وہ ملک کی خدمت نہیں بلکہ ملک کے ساتھ دشمنی ہے ، ملک نازک دور سے گزر رہا ہے سیکورٹی چیلنجز کا بھی سامنا کر نا پڑ رہا ہے اگر تمام ادارے مل بیٹھ کر کسی کو مطمئن کرسکتے ہیں کہ ابھی انتخابات ہو نے چاہیے تو وہ مطمئن کر لیں ۔ انہوں نے کہاکہ تمام ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں ، سیا سی جماعتیں ملک کی سفیر ہو تی ہیں انکی باتیں دنیامیں سنی جاتی ہیں وہ ایسی باتیں نہ کریں کہ انکے سیا ست مفاد کے چکر میں ملک کو وقار میں کمی آئے ۔قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزراسردار عبدالرحمن کھیتران، نور محمد دمڑ، عبدالخالق ہزارہ، اراکین اسمبلی میر ظہور بلیدی، زابد علی ریکی، خلیل جارج نے کہا کہ آئین میں درج ہے کہ عام انتخابات پورے ملک میں ایک ہی دن ہونگے الگ الگ انتخابات کروانا آئین کی خلاف ورزی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جب ملک بھر میں مردم شماری جاری ہے تو کیسے دو صوبوں میں انتخابا ت کروا دئیے جائیں اور بعدمیں جب دیگر صوبوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات ہونگے تو ان میں دھاندلی کا عنصر شامل ہوگا ساتھ ہی ایسا کرنے سے چھوٹے صوبوں کا حق نمائندگی کم ہوکر رہ جائیگا اور انکی آواز مزید کمزور ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ملک میں علیحدہ علیحدہ انتخابات کروانے سے ملک کی جڑیں کمزور ہونگی لہذا یک ہی دن شفاف انتخابا ت کا عمل یقینی بنایا جائے ۔بعدازاں قرار داد منظور کر لی گئی ۔ اجلاس میں بی این پی کے رکن ثنابلوچ نے قاعدہ 180کی ذیلی شق 103(2)کے تحت قرارداد پیش کرنے کی تحریک پیش کی اجازت ملنے پر انہوں نے مردم شماری میں توسیع کی قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک کے دور دراز علاقوں میں سیلاب کے باعث لوگ نقل مکانی کر گئے ہیں اور مردم شماری میں انکا شمار نہیں کیا گیا بلوچستان کے 50فیصد علاقوں میں تاحال مردم شماری مکمل نہیں ہوئی ہے لہذا مردم شماری کے عمل میں 2ماہ کی توسیع کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ جو سرکاری ملازمین، استاتذہ، لیویز اور ضلعی انتظامیہ کے اہلکار بلوچستان میں مردم شماری کر رہے ہیں انہیں ایک ماہ کی تنخواہ بطور اعزازیہ دی جائے ۔قرار داد پر بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ مردم شماری کی نسبت اس مردم شماری میں تاحال شمار کا عمل مکمل نہیں ہوا مردم شماری کے عمل کی تاریخ نہ بڑھائی گئی تو صوبے کے ساتھ ذیادتی ہوگی ۔اجلاس میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن نصر اللہ خان زیرے توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وزیر برائے محکمہ تعلیم کی توجہ ایک اہم مسئلہ کی جانب مبذول کروائیں گے کہ گزشتہ دو ماہ سے صوبے کی اہم یونیورسٹیز کے اساتذہ اکرام اور دیگر ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں اور اس وقت بلو چستان یونیورسٹی اور بیوٹمز میں مکمل تالہ بندی ہے جس کی وجہ سے درس و تدریس کا سلسلہ مکمل طورپر معطل ہے اسی وجہ سے صوبے کے عوام میں سخت تشویش پائی جا تی ہے لہذ احکومت نے اس بابت اب تک کیا اقدامات اٹھائے ہیں تفصیل فراہم کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی 11سرکاری جامعات سے متعدد میں مالی بحران ہے آج بھی اسمبلی کے باہر استاتذہ کرام احتجاج پر ہیں جامعہ بلوچستان اور بیوٹمز کے ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں ایگر ی کلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تعیناتی تاحال نہیں کی گئی سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی بھی انتظامی بحران کا شکار ہے ۔انہوں نے کہا کہ صوبے کی جامعات کو وفاق 3ارب جبکہ صوبائی حکومت 2ارب روپے کا بیل آٹ پیکج دے جبکہ جامعات کی گرانٹ بڑھا کر 10ارب روپے کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وائس چانسلران کی تعیناتی کے لئے قائم سرچ کمیٹی میں جونیئر گریڈ کی سربراہ کو تبدیل کر کے نئی سرچ کمیٹی بنائی جائے ۔توجہ دلا نوٹس کا جواب دیتے ہوئے صوبائی وزیر تعلیم میر نصیب اللہ مری نے کہا کہ ایچ ای سی نے صوبے کوفنڈز نہ ملنے کی وجہ سے جامعات مالی بحران کا شکار ہیں پہلے بھی جامعہ بلوچستان کو بیل آ ٹ پیکج دیا گیا ایک بار پھر بیوٹمز اور جامعہ بلوچستان کے لئے محکمہ فنانس کو سمری ارسال کی ہے اس حوالے سے وزیراعلی سے بھی بات ہوئی ہے جلد ہی ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ حل ہو جائیگا ۔اسپیکر میر جا ن محمد جمالی نے کہا کہ صوبائی وزیر تعلیم کی قیادت میں وفد جاکر استاتذہ سے مذاکرات کرے اور انکا احتجاج ختم کروائے تاہم صوبائی وزیر نے کہا کہ وہ روزانہ مذاکرات کرے ہی رہے ہیں جس کے بعد ارکان اسمبلی نصر اللہ زیرے اور زابد علی ریکی نے اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے استاتذہ سے مذاکرات کئے اور احتجاج ختم کروایا ۔اسپیکر میر جان محمد جمالی نے رکن اسمبلی میر عارف جان محمد حسنی کی جانب سے بی ڈی اے اور واسا ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر سینئر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ کو پابند کیا کہ وہ ذاتی دلچسپی لیکر واسا اور بی ڈی اے ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ عید سے قبل حل کروائیں جس پر صوبائی وزیر نور محمد دمڑ نے کہا کہ وہ صوبائی وزیر اور سیکرٹری خزانہ سے رابطے کر کے مسئلہ حل کروانے کی کوشش کریں گے ۔بعدازاں توجہ دلا نوٹس کو نمٹا دیا گیا ۔اجلاس میں بی این پی رکن اسمبلی ثنابلوچ نے نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین پر عمل درآمد کے لئے فیڈرل آئینی کورٹ بنانے کی ضرورت ہے برابر نمائندگی آزاد آئینی کورٹ نہیں ہوگی تو آئین پر عملدرآمد کرانا مشکل ہو گا انہوں نے کہا کہ آئین کے پچاسویں سالگرہ کے موقع پر آئینی ادارے متصادم ہیں بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے آئینی اور سیاسی طریقے سے حل کیا جائے انہوں نے کہا کہ میری تجویز ہے کہ آئین کی کتاب کو گھر گھر میں ہونا چائیے۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر جان جمالی نے ثنابلوچ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں فیڈرل آئینی کورٹ کے قیام کے لئے اگلے اجلاس میں قرار دار لائیں، پشتونخواہ میپ کے رکن صوبائی اسمبلی نصر اللہ زیرے نے کہا کہ ملک میں آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہورہا ہے ،انہوںنے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں آپریشن کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان سے پوچھا جائے جنہوں نے دہشت گردوں سے مزاکرات کئے اور انہیں جیلوں سے رہا کیا انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکورٹی قونصل کے اجلاس میں یہ کہا گیا کہ دہشت گردوں سے ہونے والے مزاکرات غلط تھے تو جنہوں نے مزا کرات کئے انہیں سزا یا جائے انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات اور قبائل کے وسائل کو لوٹنے کے لئے خیبر پختونخواہ میں دوبارہ آپریشن کیا جا رہا ہے لاکھوں لوگ مہاجر بن جائیں گے انہوں نے کہا کہ اس ریاست کو پشتون دشمنی کی بنا پر نہ چلایا جائے اس وقت پاکستان میں پی ڈی ایم کی حکومت ہے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سنئیر نائب صدر محمود خان اچکزئی اور دیگر کو چائیے کہ قومی سلامتی کے اس اس فیصلے کا نوٹس لے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی آڑ میں دوبارہ پشتونوں کے قتل عام کا کسی کو بھی ایجازت نہیں دیں گے۔ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر ایڈوکیٹ نے کہا کہ پاکستان کا آئین عوام کا متفقہ آئین ہے جو ایک عظیم معاشرے کی ترجمانی کرتا ہے آئین میں اقوام کی تاریخ تحزیب اور ثقافت کو تحفظ حاصل ہے انہوں نے کہا کہ آج آئین ہمیں پکار رہا ہے کہ کہ جس مقصد کے لئے چھ کالاکھ افراد نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہم اس مقصد کو بھول گئے ہیں ہم نے حلف اٹھایا ہے کہ ہم آئین نظریہ پاکستان کا تحفظ کریں گے مگر 75سال ہونے کو ہے آئین پر اس کے آل رو کے تحت عمل نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ آئین پر اس کے اصل رو کے تحت عمل کیا جائے تو ملک سے ظلم و جبر نانا انصافیاں بھول و افلاس کا خاتمہ ہوگا آئین کا تقاضہ ہے کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر صدر اور صوبائی سطح پر گورنرز آئین شکنی کر رہے ہیں آئین کے تحت ان کی زمہ داری ہے کہ وہ سالانہ رپورٹ عدالت میں پیش کریں کہ انہوں نے قرآن و سنت کے تحت لوگوں کی زندگیاں بنانے کے لئے کون سے اقددامات کئے ہیں انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین ایک جامع آئین ہے اس آئین پر عمل درآمد نہ کرنے اور آئین شکنی کرنے والے زمہد داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔رکن بلوچستان اسمبلی میر ظہور احمد بلیدی نے بلوچستان کے سیاسی اکابرین کو آئین سازی میں کردار دار کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا گیا اس آئین کا آج تماشا بنایا گیا ہے۔ اسکی جگہ صحیح ہورہی ہے اداروں میں ٹکرا کا خمیازہ ملک کی عوام بھگتنا پڑ رہا ہے ملک میں سیاسی عدم استحکام سے لوگ نان شبینہ کے محتاج ہوکر رہ گئے ہیں آئین میں جن اداروں کا کردار متعین کیا گیا ہے انہیں چاہئے کہ وہ اپنا کردار ادا کریں انہوں نے کہاکہ پارلیمان اور عدلیہ کو اختیارات ریاست نے دیئے ہیں عدلیہ کا کام آئین پر عملدرآمد کرنا ہے ترمیم نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی جماعت کو رعایت دی جارہی ہے پنجاب میں جو بھی پارٹی انتخابات میں کامیاب ہوگی وہ فیصلہ کریگی کہ آئندہ حکومت کس کی ہوگی چھوٹے صوبوں کی حکومت سازی میں کوئی کردار نہیں ہوگا جس سے ملک میں افرا تفری پیدا ہونے کا خدشہ ہے اور بنیادی جمہوری رو کے متصادم ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت تمام صوبوں کو حکومت سازی کے عمل میں شامل کرے انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے بعد بلوچستان میں آبادی کے تناسب سے نشستوں میں اضافہ ہونے کا امکان ہے پنجاب اور کے پی کے میں اگر انتخابات ہوتے ہیں تو کیا بلوچستان میں مردم شماری کے بعد ہونے والی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات ہونگے یا پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات ہونگے اس سے ایک نیا آئینی مسئلہ پیدا ہوگا انہوں نے کہاکہ پی ڈی ایم وکلاسول سوسائٹی چیختے رہ گئے کہ عدالت کے فیصلے نے ملک کا مستقبل طے کرنا ہے اس کیلئے ایک فل کورٹ بنائی جائے لیکن تین مخصوص ججوں نے بیٹھ کر فیصلہ کیا جس سے آئینی اداروں میں تصادم ہوا جو ملکی نظام کیلئے نقصان کا باعث ہے رکن اسمبلی زابد ریکی نے کہا کہ آئین کو پچاس سال پورے ہوئے ہیں مگر افسوس اس پر عملدرامد نہیں ہوا انہوں نے کہاکہ ہم عدلیہ اور ججز کا احترام کرتے ہیں ہم ملک کے مفاد کیلئے سوچنا چاہئے انہوں نے کہاکہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق حلقہ بندیاں تشکیل دیکر ملک میں ایک ہی دن میں انتخابات کرائے جائیں ۔اجلاس میں نقطہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر مواصلات و تعمیرات سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وہ گزشتہ سال اکتوبر کے بعد سے ساڑھے تین ماہ ملک سے باہر رہ 2فروری کو وہ بارکھان پہنچے اور بلدیاتی انتخابات میں انکے امیدواروں نے کلین سوئیپ کیا 13فروری کو وہ بارکھان سے کوئٹہ پہنچے اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے 20فروری کو انہیں فون کر کے اطلاع دی گئی کہ بارکھان سے ایک خاتون اور دو نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں جس پر انہوں نے ایس پی سے رابطہ کرکے انہیں تحقیقات کی ہدایت کی مگر اگلے روز لاشوں کو کوئٹہ میں لاکر دھرنا دیا گیا انہوں نے کہاکہ واقعے کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج تھا اس کے باوجود انہوں نے از خود گرفتاری دی اور جیل گئے انہوں نے کہاکہ اس دوران کسی نے کراچی میں اپنا سیاسی دفتر کھول کر میرے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت کہانیاں گڑھنا شروع کردیں میرا میڈیا ٹرائیل کیا گیا اور میڈیا اور سوشل میڈیا میں مختلف نوعیت کے الزامات عائد کئے گئے انہوں نے کہاکہ مجھے سیاسی طور پر نشانہ بنایا گیا مجھ سے کسی کی ذاتی دشمنی تھی تو کسی کا میرے ساتھ جائیداد اور سرداری پر تنازعہ تھا انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے نے میرے مخالف مہم میں حصہ لیا کیونکہ میرا اور میرے بیٹے کا مسئلہ بلدیاتی انتخابات اور دستار بندی کے تنازعہ کا تھا انہوں نے کہاکہ جس خاتون کا کہا گیا کہ اسکی لاش ملی ہے وہ کچھ دن بعد زندہ منظر عام پر آگئی میرے خلاف جرگے بلائے گئے میں جرگے بلانوں والوں کا نام لیکر انہیں اہمیت نہیں دینا چاہتا میری سرداری کسی خان قلات کی محتاج نہیں مجھے یہ منصب میری قوم نے دیا ہے انہوں نے کہاکہ یہ ایک سوچی سمجھی سازش تھی جس کے تانے بانے حکومت کو کمزور اور غیر مستحکم کرنے والوں کی طرف جاتے ہیں میں اسمبلی فلور پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں آج بھی میر عبدالقدوس بزنجو کے شانہ بشانہ کھڑا ہوں اور آخری سانس تک کھڑا رہونگا اس قسم کے اوچھے ہتھکنڈے مجھے انکی حمایت سے نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہاکہ معاملہ سینیٹ کمیٹی داخلہ کو بھیجا گیا جس نے متاثرہ خاندان کے افراد کو طلب کرکے انہیں کمیٹی کے سامنے بٹھایا میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ بارکھان کا دورہ کرنے آئیں اور دیکھیں کہ وہاں کوئی نجی جیل ہے یا نہیں انہوں نے کہاکہ سینیٹر مشتاق میری نجی جیل ثابت کردیں میں اپنی رکنیت سے مستعفی ہو جانگا یہ سب اس شخص کیلئے کیاجارہا ہے جو کالعدم تنظیم کا کارندہ ہے انہوں نے کہاکہ سیاست کو سیاست کی حد تک رہنے دیا جائے انہوں نے کہاکہ گزشتہ دنوں تحریک طالبان پاکستان نے مجھے قتل کرنے کیلئے ایک تھریٹ جاری کیا ہے جس میں اعوان کی پراپرٹی بناتا ہوں انہوں نے کہاکہ دہشتگرد چاہتے ہیں کہ وہ بارکھان پر قبضہ کرکے دہشتگردی کے واقعات کریں ہم کسی کو بارکھان کے حالات خراب کرنے نہیں دینگے میں بے گناہ ہوں اور ہر فورم پر اپنی بے گناہی ثابت کرتا رہونگا ڈاکٹر مالک بلوچ کے دور میں بھی میرے ساتھ یہی کچھ کیا گیا کہ بارکھان میں میری نجی جیلیں ہیں میں ان تمام الزامات سے سرخرو ہوا اور اب بھی سرخرو ہونگا۔ انہوں نے کہاکہ میری میڈیا سے درخواست ہے کہ وہ یکطرفہ کوریج سے اجتناب کریں۔


