پارلیمنٹ قانون سازی نہ کرسکے تو یہ آئین شکی کا جرم تصور کیا جائے گا ،امان اللہ کنرانی

کوئٹہ( این این آئی) سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر سینیٹر ( ر) امان اللہ کنرانی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا اپنے ہمنوا ججز کی خودساختہ بنچ کی تشکیل کے زریعے عوام و وکلاءکے دیرینہ ا±منگوں کے عین مطابق قابل ستائش از خود کاروائی سے متعلق قانون سازی پر عجلت و پھرتی سے نوٹس لینا قابل مذمت بلکہ فسطائیت کے ذہنیت کی عکاس اور پارلیمنٹ کے ا±مور کی انجام دہی کے اندر کھلی مداخلت اور آئینی حدود سے تجاوز اپنے فیصلے تھونپے کی کوشش ہے جس کی ہر سطح پر مزاحمت ہوگی و ہونی چاہیے اگر پارلیمنٹ آئین کے تحت قانون سازی نہ کرسکے اور اس کو اپاہچ عضو معطل بنادیا جائے تو اس سے پارلیمانی نظام کو لپیٹے جانے کاجابرانہ عمل کہا جائے گا اور آئین شکنی کا ج±رم تصور کیا جائے گا جس پر ایسے مجرموں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 5 و حلف سے روگردانی کرنے اور حلف کی خلاف ورزی پر آئین کے آرٹیکل 6 کو بروئے کار لایا جائے جب عدلیہ کے اندر ایک مخصوص چور دروازے سے داخل ہونے والا ٹولہ اپنی مانی کرے گاتو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں