بجلی کا بحران اور بوگس بلوں کا مسئلہ
تحریر: عندلیب گچکی
ضلع کیچ کی تحصیل تمپ ایک عرصہ سے مسائل کی آماجگاہ بن چکا ہے، ہر دن ایک نیا مسئلہ سر اٹھالیتاہے، ایسا محسوس ہوتاہے کہ ایک مسائلستان ہے کہ جہاں کچھ مفاد پرست عناصر نے ہر چیز کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔ یہ مفاد پرست عوامی نمائندوں کی شکل میں بھی ہیں اور سرکاری اداروں میں بھی موجود ہیں۔ بے امنی، رشوت ستانی اور عوام کے حقوق دبا کر یہ عناصر اپنا راج قائم کیے ہوئے ہیں اور اس راج کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ہتھکنڈوں سے عوام کو پریشان کرنا ان کا معمول بن چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ دن بہ دن مسائل بڑھتے جارہے ہیں اور شہر میں مایوسی، بے بسی اور بربادی کے سائے پھیلتے جارہے ہیں۔ مظلوم اور غریب عوام کے چہروں پر ناامیدی گہری ہوتی جارہی ہے۔ اگر کوئی دردمند انسان چند لمحات کے لیے اس ویران بازار میں گھوم کران چہروں کو پڑھ لے تو اسے اندازہ ہوجائیگا کہ معاملہ کس حد تک پہنچ چکا ہے۔ عوامی مسائل سے غفلت اور چشم پوشی کی وجہ سے، یہاں عوام کا اپنے شہری ہونے کا احساس صرف آئی ڈی کارڈ تک محدود ہوکر رہ گیا ہے اور وہ بھی کسی چیک پوسٹ پر گزرتے وقت انسان سوچتا ہے کہ یہاں کس طرح کی زندگی گزاری جارہی ہے؟ ریاست نے کونسا حق یہاں کے عوام کو دیا؟ ریاست کس حد تک عوام کے بنیادی حقوق کا دفاع کرسکی ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ حالات اس نہج پہ پہنچائے گئے ہیں کہ عوام کو کوئی شعور ہی نہیں کہ ان کا بھی کوئی بنیادی حق ہے جیسا کہ دیگر ملکوں یا شہروں میں دیگر انسانوں کے ہیں اور دوسری بات یہ کہ ان کی حفاظت کی ذمہ داری بھی کسی نے اٹھائی ہے جس طرح ایک پیدائشی یتیم بچہ شفقت پدر و مادری سے محروم ہوتا ہے تو اسی طرح تحصیل تمپ کے باسی بھی ریاست کی مادرانہ شفقت تو دور، سوتیلی ماں جیسی شفقت سے بھی محروم ہیں۔ اس صدی میں بھی بجلی، تعلیم، صحت جیسی سہولیات کے فقدان پر بات کرتے اور لکھتے وقت سچ میں انتہائی شرم محسوس ہورہی ہے کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے اور ہم کہاں رہ گئے ہیں، لیکن اس کے باوجود کچھ مقتدر قوتیں مسائل کو حل کرنے کے بجائے لگتا ہے کہ مزید بگاڑ رہی ہیں۔ عوام سے اس کی محنت کا نوالہ چھین کر کچھ مفاد پرست اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ کبھی اسمگلنگ، کبھی منشیات فروشی اور کبھی ٹوکن کے نام پر انہی ویران گلیوں، ان نا امید آنکھوں اور بے بس آرزوؤں کے درمیان ایک مخصوص ٹولہ کروڑوں کا کاروبار چلا رہا ہے اور سرکاری اہلکار ان کی سہولت کاری کے عوض اپنا حصہ وصول کررہے ہیں۔ اب یہ سب کم تھا کہ بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے نام پر ایک غیر قانونی اور بوگس سسٹم بنا کرعوام کو لوٹنے کی نئی ترکیب ایجاد کی گئی ہے؟ جب ہم ان سے بات کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کیا مفت میں بجلی چاہیے؟ لیکن یہ جواب دینے والے یا تو حقیقت سے لا علم ہیں یا جان بوجھ کرمخصوص ٹولے کی لوٹ مار کو پروان چڑھانے کے لیے کچھ عجیب و غریب سوالات چھوڑ رہے تاکہ عوامی ذہنوں کو منتشر کیا جاسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمپ میں بجلی کا بحران تو ایک عرصے سے رہا ہے اور بلوں کی ادائیگی کا کیا مسئلہ ہے؟ ذرا سنیں، واپڈا کے اپنے ریکارڈ میں تمپ تاریخی طور پر ایک بلوں کی اچھی ریکوری والے علاقوں کی فہرست میں رہا ہے۔ اس بات کی گواہی یہاں پہلے تعینات اہلکار بھی دیتے ہیں مگر پھر کچھ سال پہلے مکران میں بے امنی نے زور پکڑا تو تب سے سرکاری اہلکار خوف کے باعث یہاں سے تربت چلے گئے اور واپڈا کے ادارے اور عوام کے درمیان رابطہ کٹ گیا، کسی بھی قسم کا کوئی بھی سرکاری دفتر استعمال نہیں کیا گیا۔ واپڈا کی جانب سے نہ کوئی میٹر چیک کرنے آیا اور نہ کوئی بل دینے آیا، عوام کو لاوارث چھوڑ دیا گیا اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت تک محدود ہو کر رہ گئے۔ کسی کے کنکشن کا ٹرانسفارمر اگر خراب ہوتا تو محلے والے ساتھ مل کے اسے خود ٹھیک کراتے۔ کبھی کسی پر پچاس ہزار کبھی ایک لاکھ اور کبھی اس سے بھی زیادہ کا خرچ اسے دوبارہ بنانے پر صرف ہوتا اور وہ لوگ خود سے چندہ کے ذریعے جمع کرتے۔ کسی علاقے میں بجلی کا کھمبا گرتا یا کوئی تار ٹوٹتا تو وہ بھی اپنی مدد آپ سے ٹھیک کیا جاتا رہا ہے اور ٹھیک کرتے وقت لوگ حادثات کا شکار بھی ہوئے، جس کی تازہ مثال گومازی میں حکیم کی حادثاتی موت ہے۔ بے حسی کا یہ عالم رہا کہ اگر گرڈ اسٹیشن میں ڈیوٹی دینے والے کسی اہلکار سے کوئی تار ٹھیک کرنے کا کہا جاتا تو وہ اس کا معاوضہ وصول کرتا کبھی کسی کو بل دیا نہیں گیا اور کسی نے اگر بل کے لیے اکا دُکا موجود سرکاری اہلکاروں سے خود پوچھا بھی تو اسے یہی جواب ملا کہ یہاں بل کی ادائیگی کا کوئی نظام نہیں۔ بس سال گزرتے گئے، کئی لوگ اس عرصہ میں اس جہان فانی سے ہمیشہ کے لیے کوچ کرگئے۔ اور بات یہ ہے کہ علاقے میں نہ کوئی میٹر تھا اور نہ بجلی ریڈنگ یا بلنگ کے کسی نظام کا وجود تھا، تو پتہ کیسے چلتا ہے کہ ہر ایک گھر نے واقعی میں کتنی بجلی استعمال کی ہے۔ اس کا حل واپڈا نے فرضی بلوں کی صورت میں نکالا جو کبھی کسی کو نہ ملے۔ اب اس طویل عرصے میں آبادی بھی بڑھتی رہی، نئے گھر بھی بنتے رہے، بجلی کا استعمال بھی بڑھتا گیا اور دوسری جانب کیسکو اپنے پرانے ریکارڈ کے حساب سے جن کے نام پر میٹر رجسٹرڈ تھے تو ان پر من چاہا بل بھی بناتا رہا اور اپنے پاس رکھتا گیا۔ میں اس بات کی گواہ ہوں کہ کچھ لوگ جیسا کہ میرا اپنا چاچا (جو اس وقت اس دنیا میں نہیں) وہ بینک گئے اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسے اپنا بل چاہیے اور اس کی ادائیگی کرنی ہے لیکن وہاں ان کو جواب ملا کہ اب نہ یہاں کوئی بل ہوگا نہ اس کی ادائیگی اور اس سلسلے میں کوئی آئے بھی نہیں۔ اب اتنے سال بعد اچانک سے کیسکو کو ان بلوں کی وصولی کا خیال آ گیا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ ابھی جب تربت اور گوادر کے لیے بجلی دینے کے لیے علیحدہ لائن بنائی گئی ہے تو کچھ مخصوص مفاد پرست اور عوام دشمن ذہنوں میں شاید کوئی نیا منصوبہ آیا ہے کہ کیوں نہ اب موقع سے فائدہ اٹھا کر عوام کو تنگ کیا جائے اور بلنگ کے نام پر اپنی جیب گرم کی جائے۔ اس منصوبے کے دو حصے ہیں۔ پہلے مرحلے میں عوام کو برسوں سے کیسکو کے ریکارڈ میں وہ بوگس اور فرضی نام نہاد بل تھما دیے گئے جن کی کوئی اصلیت ہی نہیں۔ پھر مزید پریشر ڈالنے کے لیے بجلی کئی دنوں تک مکمل بند کردی گئی۔ ظاہر ہے کہ اتنا بھاری بل ادا کرنا ناقابل عمل تھا اور پھر جب غربت کی ماری عوام نے یہ جمع شدہ لاکھوں اور کروڑوں کے بل ادا کرنے سے معذوری کا اظہار کیا اور عوام احتجاج پر اتر آئے تو عوام کو جھوٹے دلاسے دیے اور منصوبے کے دوسرے حصے کے طور پر کیسکو کے ان راشی عناصر نے اپنے کچھ گماشتوں کے ذریعے فی گھر پانچ ہزار یا دس ہزار کی بغیر کسی ریکارڈ کے وصولی کا منصوبہ پیش کیا جو کہ ان کا اصل پلان ہے کہ کیوں نہ عوام کی جیب کاٹ کے ہاتھ صاف کیے جائیں اور ان سے جب بھی بحث کرو تو ان کے عجیب و غریب سوال ہی ان کی اصل ذہنیت کا پردہ چاک کردیتے ہیں کہ یہاں کیا کم امیر ہیں مند اور تمپ میں؟ یہ اگر ہر مہینے پانچ ہزار یا دس ہزار ہمارے پاس جمع کرتے رہیں تو ان کو کیا ہوگا؟ یعنی کسی نے اگر محنت و مزدوری سے کچھ بنا بھی لیا ہے تو اب اِن کی اس پر نظرہے۔لیکن سوال یہ بنتا ہے کہ ایک مخصوص ٹولہ تو شاید خود کے مفاد کے لیے کچھ بھی کرے گا، تو کیا ریاست کے ذمہ داران بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کریں گے؟ کیا جب کسی علاقے میں بے امنی ہو، انتشار ہو، جنگ ہو، ریاستی ادارے خود ہی کام نہ کررہے ہوں تو پھر ان تمام صورت حال میں ریاست بوجھ کو عوام کے کندھوں پر ڈالے گی یا یہ بوجھ خود ریاست اپنے کندھوں پر اٹھائے گی؟ اور پھر بات بھی بلوچستان کی ہے جہاں قدرت نے کیا کچھ نہیں دیا ہے، کیا اس امیر بلوچستان کے باسیوں کو مزید غربت اور مسائل کے منہ میں دھکیلنا جائز ہے؟ کیا یہ عمل محبت مادرانہ کہلانے کا حق دار ہوگا؟ صد افسوس کے کچھ عوامی نمائندے بھی چند ٹکوں کے خاطر اس فراڈ منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ کیا کوئی ذی شعور اس بات کو نہیں سمجھ سکتا کہ اس طرح جمع کی جانے والی تمام رقم کچھ مخصوص سرکاری افسران کی ذاتی جیب میں جائے گی۔ یہ بات عقل سے پرے نہیں؟ کہ اس بوگس بل کو پہلے سائیڈ پر رکھو، اب ہر گھر دو ہزار، پانچ ہزار، کوئی دس، بیس ہزار ایک مخصوص ہاتھ میں جمع کرے تو مسئلہ حل ہوگا؟ یہ پیسے مخصوص ہاتھوں یا اکاؤنٹس کے ذریعے کہاں جاتے ہیں؟ اگر عوام بوگس بلوں کی تھوڑی ادائیگی قبول کریں تو پھر ان کا انجام کیا ہوگا، کیونکہ ان کی تھوڑی بھی ادائیگی کا مطلب یہ ہوگا کہ عوام نے اس کو قبول کرلیا ہے اور عوام کیوں بوگس بل کو اپنے ذمہ لے؟ اب ریاست کو چاہیے کہ اپنے مادرانہ شفقت اور محبت کے ذریعہ عوام کو اپنائیت دے کیا یہاں کوئی بھی ایسا دردمند اور عوام دوست نہیں جو مسئلے کی حقیقت کو سمجھ کر عوام کے لیے ایک قابل عمل اور عوام دوست حل دے۔ ان حالات میں جب ریاست کے اپنے ادارے کام نہیں کررہے تھے تو ریاست ان پرانے بلوں کی ذمہ داری خود لے اور اس کی ادائیگی سرکار اپنے ذمے لے، جس طرح کی غفلت ریاست کی جانب برتی گئی اب دوبارہ بوگس بلوں کو لیکر ایسی غفلت نہ برتی جائے اور عوام کو ریلیف ملنا چاہیے اور از سر نو ایک نظام کے تحت پہلے بجلی کی ترسیل کیسکو اپنے اختیار میں لے، منظم طریقے سے نئے سرے سے میٹر لگوائے جائیں اور ٹرانسفارمرز، تاروں، کھمبوں کی ذمہ داری کیسکو خود لے اور ویسے بھی یہ ان کی ہی ذمہ داری ہے اور ان اداروں کو چاہیے کہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور ان کو اپنے کندھے پر لیں نہ کہ غریب عوام کے کندھے پر ڈالیں اور بلوں کی ادائیگی کی لیے بھی اپنے اداروں یعنی کیسکو کو فعال کیا جائے اور چند مخصوص ٹولوں کی رشوت ستانی کے منصوبے سے عوام کو نجات دلائی جائے اور ریاست اس سلسلے میں اپنا بہترین کردار ادا کرے، لیکن یہ تب سب ممکن ہوںگے اگر ریاست اور ذمہ داران عوام کے لیے شفقت مادری کا جذبہ رکھیں۔


