نوشکی، عید کی شب چاند رات پر فائرنگ سے ایک شہری جاں بحق
نوشکی(آن لائن)نوشکی عید کی شب چاند رات پر فائرنگ کے نتیجے میں ایک شہری جاں بحق‘ واقعہ پولیس کا ملزمان کے تعاقب کے دوران فائرنگ کے نتیجے میں پیش آیا واقعہ کے خلاف بی این پی کے جانب سے احتجاج، بی این پی کے ضلعی صدر حاجی میر بہادر خان مینگل کے قیادت میں نعش کو پولیس تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاجی دھرنا دیا گیا، ایس ایچ او صدر اور ایس ایچ او نوشکی سٹی بمعہ مذکورہ گشتی عملہ معطل اور گرفتار کیا جائے ایس پی نوشکی کا حاجی میر بہادر خان مینگل اور ورثا سے مزاکرات کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا تفصیلات کے مطابق نوشکی میں چاند رات کو فائرنگ سے خیر اللہ کے جاں بحق ہونے کے واقعہ کے بعد بی این پی کے کارکنان پولیس تھانے کے سامنے احتجاج کیا گیا اور پولیس کے متعلقہ زمہ داروں کو فوری معطل کرنے کا مطالبہ کیا گیا علاوہ ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز کہاگیا کہ شہید خیر اللہ کے بے وجہ شہادت اور پولیس کی غنڈہ گردی کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی صدر حاجی میر بہادر خان مینگل کی سربراہی میں پولیس تھانہ نوشکی کے سامنے نعش سمیت سینکڑوں کارکنوں نے دھرنا دیا دریں اثناء ایس پی نوشکی خود دھرنا کے مقام پر پہنچ کر دھرنا کے شرکا کی قیادت کرنے والے بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی صدر حاجی میر بہادر خان مینگل سے مذاکرات کی اور اقرار کیا کہ پولیس کی رویہ غلط رہا ہے اور پوری پولیس ٹیم ملزم ھے اور شہید خیر اللہ اور اسکے ساتھیوں کی قانون کی مدد کرتے ہوئے چوروں کو پکڑنے کی عمل کو سراہتے ہوئے اقرار کیا کہ پولیس پارٹی مجرم ھے اور آپکے مطالبات پر من و عن عمل کروایا جائے گا جس پر بلوچستان نیشنل پارٹی نوشکی کے ضلعی صدر حاجی میر بہادر خان مینگل نے یہ مطالبہ رکھا کہ نوشکی کے دونوں پولیس تھانوں کے ایس ایچ او بمعہ اپنے اپنے مذکورہ گشتی عملہ کے فوری معطل کیئے جائیں نوشکی کے دونوں پولیس تھانوں کے ایس ایچ او بمعہ مذکورہ گشتی عملہ کے گرفتار کئے جائیں انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر ملزمان کے خلاف شفاف انکوائری عمل میں لائی جائے جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو ملازمت سے برخاست کر کے قانونی طور پر سزا دلوائی جائے جس پر ایس پی نوشکی نے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے معطلی کے احکامات اور ملزموں کے گرفتاری کے لاک آپ میں بند تصاویر کی کاپیاں حاجی بہادر خان مینگل کے گھر پہنچانے کا وعدہ کرتے ہوئے شہید کے نعش کو دفنانے کی اپیل کی اور حاجی بہادر خان مینگل نے مطالبات تسلیم کرنے کے بعد شہید کے ورثا کو اعتماد میں لیتے ہوئے دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کیا بعد میں مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔


