آٹے اور چینی کے گوداموں پر چھاپے بلا جواز ہیں، حکومتی رویہ کیخلاف ہڑتال کریں گے، انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدر عبدالرحیم کاکڑ حضرت علی اچکزئی قیوم آغا میر یاسین مینگل مرکزی انجمن تاجران پشین کے صدر ملک بہادر خان کاکڑ حاجی حمداللہ ترین دوست محمد آغا حاجی خدائے دوست خرم اختر حاجی ودان علی کاکڑ عطامحمد کاکڑ ظہور آغا حاجی عبدالمالک لہڑی حاجی محمد یونس نقیب کاکڑ عزیز بازءقاہر ترین عنایت دورانی شکور خلیجی عبدالعلی دمڑ احسان کاکڑ نعمت ودیگر نے مشترکہ بیان کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ دو ماہ سے چینی کا کاروبار کرنے والے تاجر حضرت کو شدیدذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑ رہاہے جبکہ دوسری طرف انکی کروڑوں روپے مالیت کی چینی بغیر کسی وجہ کے قبضے میں لی جارہی ہے جو کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے بلوچستان ایک قبائلی صوبہ ہے جس کی آبادی دور دراز علاقوں میں پھیلی ہوئی ہے اور اشیاءخوردونوش کوئٹہ سے اندرون بلوچستان سپلائی کی جاتی ہیں جس میں آٹا،چینی،دالین اوردیگراشیاءشامل ہیں۔بلوچستان میں ایف سی،کسٹم اور لوکل انتظامیہ کی جانب سے ایک منصوبہ بندی کے تحت بلوچستان کے تاجروں کے گوداموں پر چھاپے مارے جارہے ہیں اور کروڑوں روپے مالیت کی چینی اور آٹے کوقبضے میں لے لیا گیا جبکہ اکثر گوداموں میں چھاپے کے دوران آدھا سامان غائب کردیاجاتا ہے جوقابل تشویش عمل ہے مرکزی انجمن تاجران بلوچستان ہمسایہ ممالک چینی، آٹے اوردیگر خوردنی اشیاءکی اسمگلنگ کے خلاف ہے لیکن اسکے باوجود انتظامیہ کی جانب سے ہمارے ساتھ ناروا سلوک روا رکھاجارہا ہے کسٹم کی چیک پوسٹوں پرسیکڑوں کے حساب سے چینی،آٹے اور کھاد سے لدے ہوئے ٹرک کھڑے ہیں جنہیں کوئٹہ سمیت اندرون بلوچستان جانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے بارشوں اورژالہ باری کے باعث ان ٹرکوں میں لوڈ سامان خراب ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہوگیا ہے اور ٹرک ڈرائیور روزانہ کی بنیاد پر اپنا کرایہ چارج کررہے ہیں جس سے دکانداروں کو دوہرے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بلوچستان کے عوام کا دارومدار زراعت پر ہے اور موسم گرما شروع ہونے کی وجہ سے زمیندارں کو فصلوں کیلئے کھاد کی اشدضرورت ہے لیکن کسٹم حکام کی جانب سے کھاد بھی کوئٹہ اور اندرون صوبہ لانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور دکانوں اور گوداموں میں چھاپے مار کر کھاد قبضے میں لی جارہی ہے جس سے زراعت کو بھی نقصان پہنچانے کا خدشہ ہے بلوچستان میں گزشتہ سال شدید بارشوں کی وجہ سے زراعت پہلے ہی تباہ ہوچکی کسٹم،ایف سی اور پولیس اندرون صوبہ اور خاص کر کوئٹہ چینی اورآٹا لیکرآنے والے ٹرکوں کو روک کر اس میں لوڈ سامان قبضے میں لے لیتے ہیں اور کیس کرکے دکانداروں اور تاجروں کو بلاجواز تنگ بلاجواز روکنےاورتاجروں کے گوداموں پر چھاپوں اوروہاں سے آدھا سے زیادہ مال غائب کرنے کا نوٹس لیں اورخضدار،واشک،کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں تاجروں کے گوداموں سے پکڑی گئی چینی فوری طور پر تاجروں کو واپس کی جائے گی گزشتہ روز پرس کانفرنس میں 6 دن کے اندرکسٹم اور کسٹم انٹیلی جنس کی جانب سے گوداموں سے قبضے میں لی گئی چینی ڈیلروں اورتاجروں کو واپس نہیں کی گئی اور چیک پوسٹوں پرچینی سے لوڈ تاجروں کے کھڑے ٹرکوں کو جانے کی اجازت نہیں دی گئی توہفتہ 6مئی سے صوبے بھر میں تاجر چینی کی فروخت بند کریں گے جبکہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان اس پریس کانفرنس کے توسط سے تمام شہروں کے صدرورکو پابند کرتی ہے کہ وہ اپنے اپنے شہروں کے مین روڈز کو بلاک کریں گے اور کوئٹہ شہر کے تاجر ائیرپورٹ روڈ پرواقع کسٹم ہاو¿س کے سامنے دھرنا دیں گے جس کی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جس کے بعد حالات کی تمام ترذمہ داری وفاقی،صوبائی حکومت اور کسٹم حکام پر عائد ہوگی اگر پھر بھی چینی کے ڈیلروں کو تنگ کرنے کا سلسلہ بند نہ ہوا اور پالیسی کا اعلان نہیں کیا گیا تو صوبے بھر میں شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کریں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں