چاغی میں آٹا اور چینی کو اسمگلنگ کا نام دیکر غریب کو بھوک و افلاس سے مار دیا گیا
چاغی :بلوچستان کے ضلع چاغی میں آٹا، چینی کو اسمگلنگ کا نام دے کر ایوان بالا میں بیٹھے نمائندوں نے عوام کو بھوک اور افلاس سے مار دیا۔ ضلع چاغی کی کل آبادی چار لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، ضلع کے اندر دو مہاجر کیمپ کے ساتھ کل ملاکر پانچ سے چھے لاکھ ہے، ضلع کی زیادہ تر آبادی پہاڑی اور سرحدی علاقوں پر منتشر ہے، روزانہ کی بنیاد پر انھیں اشیا خورونوش کی ضرورت ہوتی ہے اور لوگوں کے تمام معاشی صورتحال بھی بارڈرز کے ساتھ منسلک ہے، صدیوں سے یہ سلسلہ چلا آرہا ہے، ضلع کے اندر پاکستانی پیٹرول نہ ہونے کے سبب لوگ اپنی ضرورت کے لیےایرانی پیٹرول استعمال کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے عوامی نمائندہ عوام کو روزگار دینے کے بجائے لوگوں کے اشیا خورونوش کو اسمگلنگ کا نام دے کر ضلع کے چھے لاکھ کے قریب آبادی کو آٹا اور چینی روزمرہ اشیا خورونوش کیلئے سرگرداں کردیا۔ گزشتہ ایک ہفتے سے ضلع چاغی کے پرمٹ شدہ آٹا اور چینی کو لک پاس کسٹم چیک پوسٹ اتار رہا ہے، جس سے شہر کے اندر آٹا اور چینی کا بحران پیدا ہوچکا ہے، پچاس کے جی آٹا جمعرات تک دس ہزار روپے تک تھیلہ لوگوں کو دستیاب نہیں فی کے جی چینی 180 تا 200 روپے فروخت ہورہا ہے، جو انتہائی ظلم اور نا انصافی ہے، عوامی حلقوں اور تاجر برادری کا کہنا ہے گزشتہ روز ضلع انتظامیہ کے ساتھ تفصیلی اجلاس کے بعد اب کوئٹہ سے ضلع کے لیئے آٹا کی ترسیل شروع ہوچکی ہے مگر المیہ یہ ہے ہر چیک پوسٹ اس طرح گاڑیوں کو کلیرنس دے رہا ہے جیسے آٹا کسی بارڈر پوائنٹ سے کسی اور ملک ایکسپورٹ ہورہا ہے۔ عوامی حلقوں نے عوامی نمائندوں کی جانب سے ضلع چاغی کے روزمرہ ضروری اشیا کو سمگلنگ کا نام دے کر عوام میں شدید غم اور غصہ پیدا کردیا ہے۔ عوامی حلقوں نے سینیٹر انوار الحق کاکڑ کے بیان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چاغی میں اس وقت 280 روپے فی لیٹر بھی پیٹرول دستیاب نہیں ہے، موصوف نے بغیر تحقیق کے پٹرول کو اسمگلنگ کا نام دے کر پتہ نہیں کونسی دشمنی اور چاغی عوام سے بدلہ لے رہا ہے گزشتہ ایک ماہ قبل علاقے سے منتخب ایم پی اے نے بھی اسمبلی فلور پر چینی کو اسمگلنگ کا نام دے کر 100 روپے سے چینی کو 200 روپے تک پہنچا دیا۔ عوامی حلقوں نے تمام تر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے ضلع چاغی کے لوگوں کا تمام انحصار بارڈرز کے ساتھ وابستہ ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان، وفاقی نمائندہ چیف سیکرٹری اور کور کمانڈر بلوچستان کو عوامی مسئلہ فوری طور پر حل کرے، بصورت دیگر یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہوجائے گا۔


