صوبائی حکومت معاشی اور اقتصادی پابندیاں لگا کر پنجگور کے عوام کو بھوکا مارنا چاہ رہی ہے، نیشنل پارٹی
پنجگور (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے ضلعی ترجمان نے کہا کہ پنجگور میں صوبائی حکومت نے عوام کیلئے معاشی اقتصادی پابندیاں لگائی ہے روزگار، تعلیم، صحت پر بھی پابندیاں عائد کر کے عوام کو بھوکا مارنے کی کوشش کررہی ہے پنجگور کیلئے بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے آٹا، چینی اور دیگر اشیاءخورونوش کی ترسیل بند کیا گیا ہے گوداموں میں ضلعی کوٹہ کی سرکاری گندم دوسرے علاقوں خصوصاً افغانستان منتقل ہورہے کیونکہ افعانستان بھجنے سے وزراءاور بیوروکریسی کو کروڑوں روپے بھتہ وصولی ہورہا ہے مارکیٹ میں اٹا اور چینی ناپید ہوگیا ہے تاجروں کا کہنا ہے کہ دارالحکومت کوئٹہ سے پنجگور آنے والی گندم اور چینی لانے والے گاڈیوں کو لک پاس چیک پوسٹ پر کسٹم اور دیگر سکیورٹی فورسز یا ادارے روک رہے ہیں پنجگور آنے نہیں دیتے ہیں جوکہ آٹا اور چینی سے لدھا گاڈیوں کو واپس کوئٹہ کی طرف بھیجے جا تے ہیں جسطرح کہ امریکہ نے ایران اور عراق پر کئی سال سے اقتصادی پابندیاں لگائی ہے اس طرح صوبائی حکومت اپنے وزراءکی عیاشیوں کیلئے پنجگور میں بھی اقتصادی اور معاشی پابندیاں لگا دی ہے جس کی وجہ سے پنجگور میں آٹے اور چینی کی شدید بحران پیدا ہو گئی ہے جس سے پنجگور کے عوام گزشتہ ایک ماہ سے چاول اور دیگر اجناس کے ساتھ گزارہ کررہے ہیں ظالم ذخیرہ اندوز مافیا نے عوام کی حالات کا فائدہ اٹھا کر دوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں عوام کو آٹا چینی دستیاب نہیں ہے اسکے برعکس آٹے اور چینی افغانستان کے بارڈر کی طرف بھیجا جا رہا ہے کیونکہ اسمبلی ممبران اور حکومت میں شامل تمام وزراءٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں اس ٹھیکے میں دولت کمانے میں مصروف ہیں ظالموں نے پنجگور کی بنیادی سہولتیں انٹرنیٹ، جہاز ، ائیرپورٹ، ہسپتال، سکول، روزگار اور پاک ایران بارڈر پر اشیاءخورونوش بند کرکے عوام کو ناں شبینہ کا محتاج بنا دیا گیا ہے ان تمام سہولتوں کو بند کرنے کے بعد عوام جو دو وقت کی روٹی پر گزارہ کرکے اپنے بچوں کو مطمئن کرانے کی کوشش کررہے تھے اب آٹا اور چینی کو بھی بند کیا گیا ہے انہوں موجودہ صوبائی وزراءاور نمائندوں سے استفسار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آپ لوگ کس منہ سے دعویٰ کرتے ہو ہم فرزند بلوچستان رہشوں بلوچستان خادم عوام ہیں کیا آپ کو بلوچستان کے عوام کی نمائندگی کا حق حاصل ہے۔


