کارکنوں پر فائرنگ اور تشدد کی جوڈیشل انکوائری کروائی جائے، پی ٹی آئی بلوچستان

کوئٹہ : تحریک انصاف بلوچستان کے بیان میں پارٹی قائدین کی گرفتاری ،کارکنوں پر تشدد،فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے نتیجے میں کارکنوں کی اموات اورزخمی ہونے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ تحریک انصاف کے پرامن کارکنوں پر فائرنگ اور تشدد کی جوڈیشنل انکوائری کروائیں اور ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے۔بیان میں کہاگیا ہے کہ تحریک انصاف کے چیئرمین و سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں نے پرامن احتجاج ریکارڈ کرایا لیکن ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پرامن مظاہروں میں شرپسند عناصر کو بھیج کر جلاﺅ گھیراﺅ کرایا گیا جس کی تحریک انصاف مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایک جمہوری و سیاسی جماعت ہے جو پرامن احتجاج پریقین رکھتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کے پرامن مظاہرے اندھا دھند فائرنگ ،آنسو گیس کی شیلنگ اور تشدد کیا گیا جس کے نتیجے میں پی ٹی آئی ایک کارکن جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے جبکہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی فائرنگ سے پی ٹی آئی کے کارکن جاں بحق اورزخمی ہوئے جبکہ الٹا پولیس نے پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنوںکے خلاف جھوٹی ایف آئی آرز درج کرکے سینکڑوں کی تعداد میں قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کے قائدین اور کارکنوں کے خلاف جھوٹے مقدمات اور انکے گھروں پر چھاپوں کے دوران چادر اورچار دیواری کے تقدس کی پامالی کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے قائدین اورکارکنوں کو تشدد اور گرفتاریوں سے ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا پی ٹی آئی پرامن جماعت ہے اور تمام اداروں کا احترام کرتی ہے۔ انہوں نے رینجر اور پولیس نے جس طرح اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر سے سابق وزیراعظم عمران خان کو گرفتارکیا اسکی کوئی مثال نہیں ملتی سپریم کورٹ کی جانب سے عمران خان کو رہا اوراسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے عمران خان کی مقدمات میں ضمانت کی منظوری حق و سچ کی فتح ہے ۔انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اورچیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ سے اپیل کی کہ پی ٹی آئی کے پرامن کارکنوں پر فائرنگ اور تشدد کی جوڈیشل تحقیقات کرائی جائیں اور واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے اور گرفتار پارٹی قائدین اور کارکنوں کو رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں