کوئٹہ کے سرکاری اسپتالوں میں ادویات ناپید، خراب مشینوں کی مرمت بھی نہ ہوسکی
کوئٹہ : سرکاری ہسپتالوں میں ادویات ناپید ہو چکی ہیں اور پچھلے ایک سال سے سی ٹی سکین، ایم آر آئی اور انجیو گرافی مشینوں کا مرمت نہ ہونا تشویش ناک ہے صوبہ بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں بالخصوص ٹرشیری کئیر ہسپتالوں میں سرنج اور کینولا سے لے کر لائف سیونگ ادویات پچھلے 8 مہنوں سے ناپید ہو چکی ہیں جس کے باعث آئے روز ڈاکٹروں کے ساتھ مریضوں کے لواحقین کی طرف سے گالم گلوچ اور تشدد کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کا مکمل فقدان ہے اور مریضوں کو لیبارٹری کے ٹیسٹ بھی باہر سے کروانے پڑتے ہیں جس کا سارا زور لواحقین کی طرف سے ڈیوٹی پر مامور ڈاکٹرز پر نکالا جاتا ہے بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کی سی ٹی سکین اور انجیو گرافی مشین ایک سال سے خراب ہے، شیخ خلیفہ بن زید ہسپتال کی سی ٹی سکین اور ایم آر آئی مشین پچھلے 10 مہینوں سے خراب ہے اور سنڈیمن پراونشل ہسپتال میں ابھی تک ایم آر آئی مشین کا نہ آنا اور خراب مشینوں کی مرمت نہ کرانا غریب عوام کے ساتھ ظلم اور حکومت وقت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان تمام الیکٹرانک اور میڈیا پرسنز کو دعوت دیتی ہے کہ ہسپتالوں کی حالت زار پر خصوصی رپورٹنگ کریں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن بلوچستان اعلی حکام سی اپیل کرتے ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کی جلد ازجلد فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔


