جامعہ بلوچستان کا مالی بحران حل نہ ہوسکا، جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے دوبارہ احتجاجی تحریک کا اعلان کردیا

کوئٹہ: جوائنٹ ایکشن کمیٹی جامعہ بلوچستان کے ترجمان نے اپنے ایک بیان میں وزیراعلی بلوچستان کی جانب سے جامعہ بلوچستان کے لئے 72 کروڑ روپے کی اجرا کے اعلان اور گورنر بلوچستان کی یقین دہانی کے باوجود اب تک اعلان کردہ رقم کی ادائیگی نہیں کی گئی نتیجتاً جامعہ بلوچستان کے اساتذہ اور ملازمین اپریل اور مئی کی تنخواہوں سے اب تک محروم ہیں اس پریشان کن اور گھمبیر صورتحال میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے جامعہ بلوچستان کے وائس چانسلر اور دیگر اعلی انتظامی آفیسران کے ساتھ ملکر 30 مئی کو سریاب روڈ پر احتجاجی کیمپ اور دھرنے کا اعلان کیا لیکن جامعہ بلوچستان کے اعلی انتظامی آفیسران کی اس یقین دہانی پر کہ وزیر اعلی کی جانب سے اعلان کردہ 72 کروڑ کی سمری منظور ھوچکی ہے اور ایک دو دنوں میں رقم کی منتقلی جامعہ بلوچستان کو ھوجائیگی لہذا جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے اپنا اعلان کردہ احتجاج بھی تین دنوں کے لیے موخر کردیابیان میں کہا کیا کہ صوبائی و مرکزی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ جامعہ بلوچستان و دیگر جامعات کے لئے فنڈز کی بروقت فراہمی یقینی بنائے اور مستقل حل کےلئے لازم ہے کہ 2023-2024 کے سالانہ بجٹ میں صوبائی حکومت صوبے کی جامعات کے لئے 10 ارب روپے مختص کریں اور مرکزی حکومت ملک بھر کی جامعات کی ریکرنگ بجٹ میں 500ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ میں 200 ارب روپے مختص کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں