وزیر اعلی اور اختر مینگل دونوں نہیں چاہتے کہ گوادر کے مسائل حل ہوں, حق دو تحریک

کوئٹہ:گوادر میں حق دو تحریک کے اور جماعت اسلامی بلوچستان کے جنرل سیکریٹری مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاہے کہ ہمیں اپنی تحریک کے ابتدا ہی سے علم تھا کہ ہم ایسے ملک میں حقوق مانگ رہے ہیں جہاں عدل و انصاف ملنا بہت مشکل ہے ہمیں اس بات کا بھی علم تھا کہ ہمارے آنسو پونچھنے والے کوئی نہ ہوگا۔ہم نے اپنی جدوجہد عوامی مسائل کے حل کے لیے شروع کی اور اسے جاری رکھیں گے،یونیورسل نیوز، سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن کا کہنا تھا کہ میں نے عوام کے لیے اپنی زندگی کے 125 قیمتی دن حراست میں گزارے۔ اپنی زمین اور اپنے لوگوں کے لیے جتنی بھی قربانیاں ہمیں دینی پڑیں وہ ہم دیں گے پہلے گوادر کی مقامی عدالت میں 2 بار اور پھر ہائی کورٹ میں ایک بار میری ضمانت مسترد ہوئی، یہ وہ وقت تھا جب ملک میں ضمانتوں کی بارش ہو رہی تھی اس دوران ججز صاحبان یہ کہتے تھے لاڈلوں پر جتنے بھی مقدمات درج ہوں گے ان کی گرفتای عمل میں نہیں لائی جائے گی، لیکن میری ضمانت تو اس وقت بھی مسترد ہو رہی تھی مولانا ہدایت نے کہا ہے کہ ہمارے ہاں روایت رہی ہے کہ چہرے دیکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں، لیکن میری ضمانت کسی شرط پر نہیں ہوئی۔ اگر میں نے شرائط پر ضمانت لینی ہوتی تو 4 ماہ سے زائد کا عرصہ حراست میں نہ گزارتا میں نے اپنے نظریے اور اصولوں پر کبھی سمجھوتا نہیں کیا۔ میرا سافٹ ویئر نہیں بلکہ مجھے گرفتار کرنے والوں کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کیا گیااس سوال پر کہ کیا اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے دوبارہ سڑکوں پر نکلیں گے؟ مولانا ہدایت الرحمن کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان میں ہر پاکستانی کے حقوق درج ہیں۔ اسی طرح آزادانہ نکل و حرکت اور احتجاج کا حق بھی آئینِ پاکستان کی مرہونِ منت ہے کسی کو بھی احتجاج کا شوق نہیں ہوتا، جب ادارے غیر فعال اور حکومتیں کرپٹ ہوں، جب وزرا امیر ترین اور عوام مفلس بن رہے ہوں، جب اشرافیہ کا کتا دودھ پیتا ہو اور عوام کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہوں، جب ظلم کا معاشرے قائم ہو جائے اور کسی کی عزت محفوظ نہ ہو تب ہی عوام احتجاج کا راستہ اپناتے ہیں۔ اگر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کی ضرورت پڑی تو حتجاج کریں گے اس کے علاوہ حکومت سے بھی مذکرات کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ہمارے کچھ مطالبات پر فوری عملدرآمد کیا گیا تھا۔ مثلا غیر قانونی ٹرالرز کو گوادر کی سمندری حدود سے ہٹایا گیا، بھتہ خوری کا خاتمہ کیا گیا اور چیک پوسٹوں کا خاتمہ بھی اسی دور میں ہوا اس کے علاوہ فورسز کا رویہ بھی ہمارے نوجوانوں سے بہتر ہوا تھا۔ روزگار کے مواقع فراہم کیے جارہے تھے لیکن پی ڈی ایم کی حکومت آتے ہی معاملات یکسر بدل گئے یوں وہ مطالبات پر عملدر کا معاملہ ختم ہوگیاانہوں نے شکوہ کیا کہ وفاق میں شہباز شریف اور صوبے میں عبدالقدوس بزنجو کی حکومت آنے سے ہماری مشکلات میں مزید اضافہ ہوا ہے گوادر کی عوام کو قدرت نے روزگار کا موقع فراہم کیا ہے، نہ تو ریاست گوادر کے لوگوں کو روزگار فراہم کرتی ہے اور نہ انہیں اس کا موقع دیتی ہے۔ اگر ماہی گیر مچھلی نہیں پکڑیں گے تو کیا کمائیں گے اور کیا کھائیں گے؟یا تو ریاست یہ فیصلہ کرے کہ ہر مچھرے کو معاوضہ دیا جائے گا، اگر ایسا نہیں ہو سکتا تو انہیں باعزت طریقے سے مچھلی پکڑنے دی جائے اس بات پر جب ماہی گیر احتجاج کرتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جاتی ہے۔ کارروائی تو ان عناصر کے خلاف کی جاتی ہے جو ریاست کے خلاف ہوتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ ماہی گیر ریاست کے خلاف ہیں؟ حکومت کے ان اقدامات سے عوام میں مایوسی پیدا ہوگی۔ ایسے اقدامات کے سبب فساد پیدا ہوتا ہے اور لوگ جمہوریت کا دامن چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کرتے ہیںانہوں نے کہا ہے کہ قدوس بزنجو صاحب کی بات کا کیا اعتبار کریں، نہیں معلوم کہ انہوں نے یہ بیان دن میں دیا ہے یا رات میں، کیوں کے چوبیس گھنٹوں میں کئی ایسے لمحات ہوتے ہیں جب وہ فرش پر نہیں بلکہ کہیں اور ہوتے ہیں وزیراعلی صاحب خود کہتے ہیں کہ حکومت کو اللہ پاک چلا رہا ہے۔ قدوس بزنجو کا تو یہ حال ہے کہ وہ ہوش ہی میں نہیں ہوتے، کابینہ اجلاس میں وزیر اعلی ہاوس سے ویڈیو میٹنگ کرتے ہیں۔ ایسے وزیر اعلی کی باتوں پر کیا اعتبار کیا جائے وزیر اعلی کا یہ بیان غلط ہے بی این پی مینگل کی بلیک مینگ میں آکر وزیر اعلی نے ہمارے لیے مزید مشکلات کھڑی کیں۔ وزیر اعلی اور اختر جان مینگل دونوں نہیں چاہتے کہ گوادر کے مسائل حل ہوںمولانا ہدایت الرحمن نے کہا ہے کہ اختر مینگل زبانی باتیں کرکے وفاق میں اپنے لوگوں کا سودہ کرنا قوم پرستوں کا پرانا وتیرہ ہے۔ آج بھی وفاق اور صوبے میں اختر مینگل کی جماعت کی نمائندگی ہے تو پھر آج تک لاپتا افراد کا مسئلہ حل کیوں نہیں ہو رہا بی این پی کی حکومت میں تو لاپتا افراد کی فہرست میں اضافہ ہوا ہے۔ بلوچستان کے وسائل کو لوٹنا اور کرپشن کرنا ان کا کام ہے۔ اختر مینگل کی دن کو تقاریر اور ہوتی ہیں اور رات کی تقاریر اور ہوتی ہیں میرے مخالفین بیت اللہ جانا چاہتے ہیں؟ وہ بھی ایوان ہی میں آنا چاہتے ہیں۔ ایم پی اے اور ایم این اے بننا ہمارا جمہوری حق ہے۔ ہم جمہوریت پر یقین رکھنے والے سیاسی لوگ ہیں اور انتخابات سے ایوان میں آنا ہمارا حق ہے، لیکن ہمارامقصد ایوان میں آکر عوام کے مسائل حل کرنا ہے گوادر کا سب سے بڑا مسئلہ عوام کا روزگار ہے آج بھی ہمارے ماہی گیر معاشی طور پر عدم استحکام کا شکار ہیں۔ اسی طرح سرحدی تجارت ہمارے روزگار کا ایک اہم جزو ہے لیکن تجارت میں رکاوٹوں کی وجہ سے روزگار کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے گوادر میں آج بھی بہتر علاج کی سہولت موجود نہیں ہے، ہمیں بخار کے علاج کے لیے بھی کراچی جانا پڑتا ہے۔ گوادر میں ڈیپ سی پورٹ اور ایئر پورٹ تو تیار کر رہے ہیں لیکن ہسپتال نہیں بناتے، ظاہر ہے کہ یہ سب حکومتی عدم سنجیدگی کی وجہ سے ہو رہا ہے کیا سی پیک سے بلوچستان کے عوام کے مسائل حل ہوں گے؟ مولانا ہدایت الرحمن کا کہنا تھا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہم سی پیک کے مخالف ہیں۔ ایسی بات نہیں ہم سی پیک کی مکمل حمایت کرتے ہیں سی پیک کو آئے کئی برس ہو گئے ہیں لیکن دھماکوں، لاشیوں اور دہشت گردی کے علاوہ سی پیک نے اس صوبے کو کیا دیا ہے۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ بدامنی کے علاوہ صوبے سی پیک سے ہمیں کیا ملا ہے۔سی پیک کے دھماکے تو اس صوبے میں ہوتے ہیں لیکن ترقیاتی منصوبے پنجاب میں ہوتے ہیں لوگ سی پیک کو پاک چائنا اقتصادی راہ داری کا منصوبہ سمجھتے ہیں لیکن بلوچستان کی عوام کے لیے یہ پنجاب چائنا اقتصادی راہ داری ہے۔ اگر بلوچستان پاکستان حصہ ہے تو یہاں پر بھی سی پیک کے منصوبے شروع ہونا چاہیے تھے لیکن یہاں کچھ بھی نہیں۔ سی پیک کا کوئی وجود بلوچستان میں نہیں ہیں انہوں نے کہا ہے کہ کہ عوام کی محبت ہم پر قرض ہے میں جب گرفتار تھا تب میرے گھر سے ایک بار بھی کھانا نہیں آیا۔ یہ گوادر کے لوگ ہی تھے جنہوں نے مجھے جیل میں کھانا دیا۔ گوادر کے لوگوں نے اس بار عید تک نہیں منائی آئندہ انتخابات میں صوبے بھر سے حصہ لیں گے امید ہے عوام ہمیں مکمل سپورٹ کرے گے ہم ایوان میں آکر ایم پی اے نہیں بلکہ عوام کے چوکی دار بنیں گے اسلام آبا د والے سنگ دل ہیں۔ ایک جانب عوام مہنگائی سے تنگ آکر خودکشی کر رہے ہیں، لوگوں کے چولہے ٹھنڈے پڑے ہوئے ہیں، لیکن وفاق کے درندہ صفت حکمران کرسی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ایک بندر بانٹ لگی ہے کہ کون وزیراعظم بنے گا اور کون صدر بنے گاکوئی بھی ہو سب عوام کے حقوق ہڑپ رہے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں