دالبندین میں چینی کی 2 سو روپے سے زائد میں فروخت، ذمے دار انتظامیہ ہے، تاجر برادری
چاغی (یواین اے) دالبندین میں چینی کی قیمت کم نہ ہوسکا فی کلو چینی دو سو سے دو سو 20 روپے فروخت کیا جارہا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے دالبندین میں مہنگائی کی جن بوتل سے باہر ہوچکی ہے کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر اضلاع میں چینی 120 سے 130 روپے کلو فروخت ہورہا ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر چینی کی مصنوعی مہنگائی نے غریب عوام کی زندگی اجیرن بنا دیا ہے تاجر برادری کا کہنا ہے چینی مہنگا ہونے کا زمہدار انتظامیہ ہے جو دوکانداروں کو ضلع کی کھپت کے مطابق پر منٹ جاری نہیں کرتا ہے جس کی سبب بہت کم مقدار میں چینی آتا ہے جس کی سبب مہنگا فروخت ہورہاہے ضلع کے جتنے دوکاندارڈیلر ہے انھیں معمول کے مطابق پرمنٹ جاری کرے تووافر مقدار میں چینی مارکیٹ میں موجود ہوجائے گا اور نرخ خود بخود گر جائے گا اسمگلنگ کی آڑ میں انتظامیہ مقامی تاجروں کو پرمنٹ دینے میں حیلے اور بہانہ کی پیش نظر تاجروں نے بھی چینی لانا چھوڑ دیا ہے عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس رویہ پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے انتظامیہ کو چایئے وہ عوام کوریلیف فراہم کرے اورچینی ڈیلرز کو جاری پرمنٹ کا نگرانی کرکے آسانی پیدا کرے نہ کہ چینی پر کڑی پابندی عائد کرکے عوام کو پریشان کریں اس وقت ضلع چاغی میں کسی بھی اشیا کی پرائس مقرر نہیں ہے تمام لوگوں کو کھلی چھوٹ دی گئی جسکا مرضی ہے جتنا ریٹ لگا کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ لیں چینی،دال،گھی،آٹا،ودیگر ضروری اجناس کی نرخ چیک کرکے عوام کے لیئے آسانی پیدا کرے۔


