بارڈر ٹریڈ سے وابستہ تاجر اب افغانستان، روس اور ایران کیساتھ تجارت کرسکیں گے، محکمہ کسٹم بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) ایڈیشنل کلکٹر کسٹم کوئٹہ عمران افضل اللہ نے کہا ہے کہ بزنس ٹو بزنس (B2B) بارٹر ٹریڈکے تحت بلوچستان کے درآمدی و برآمدی شعبوں سے وابستہ تاجر اب افغانستان،روس اور ایران کے ساتھ اشیاءخورد و نوش،کھیلوں کے سامان ،آلات جراحی و دیگر کا امپورٹ ایکسپورٹ کرسکتے ہیں اس سلسلے میں وزارت تجارت پاکستان نے یکم جون 2023 کو ایس آر او 642(I)23کا اجرا ءکردیا ہے اب تاجر خود یا پھر اس کا نمائندہ آن لائن درخواست دے کر رجسٹریشن کروا سکتاہے اور ان اشیاءکے سوا جن پر پابندی عائد ہے کے سوا دیگر کی امپورٹ اور ایکسپورٹ کر سکتا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے عہدیداران و ممبران کو بارٹر ٹریڈ میکیزم کے ایس آر او642 (I) 23 سے متعلق پریزنٹیشن دیتے ہوئے کیا اس سے قبل چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کوئٹہ بلوچستان کے صدر سید عبدالاحد آغا ،سابق صدر عبدالصمد موسی خیل و دیگر نے مذکورہ ایس آر او اور اس کے متعلق درآمد و برآمد کنندگان کے تحفظات و خدشات کے بارے میںآگاہ کیا اور کہا کہ اس سلسلے میں پائے جانے والے ابہام کو دور کیا جائے ایس آر او 642(I)23 سے متعلق پریزنٹیشن دیتے ہوئے ایڈیشنل کلکٹر کسٹم عمران افضل اللہ کا کہنا تھا کہ کسی بھی نئے میکینزم میں پہلے مسائل ضرور درپیش آتے ہیں مگر ان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کمی آتی ہے B2Bبزنس ٹو بزنس بارٹر ٹریڈ میکینزم بڑا اچھا اور مضبوط نظام ہے جس میں پہلے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو رجسٹریشن کے لئے خود یا اپنے نمائندے کے ذریعے آن لائن درخواست دینا ہوگی پاکستان ،روس ،ایران اور افغانستان کے مابین صرف ان اشیاءکی امپورٹ اور ایکسپورٹ نہیں ہو گی جن پر پابندیاں عائد ہیں اس کے علاوہ بہت سے آئٹمز کی درآمد اور برآمد کی جاسکتی ہیں جن کی لسٹ بھی موجود ہیں (بی ٹو بی)کے تحت پاکستان ،روس،افغانستان اور ایران کے مابین،اشیائے خورد و نوش ،کھیلوں کے سامان،آئرن اسٹیل،معدنیات و دیگر کا دوطرفہ بزنس کیا جاسکتا ہے۔تاہم پہلے امپورٹ اور پھر ایکسپورٹ کی جائے گی انہوں نے کہا کہ 20فیصد تک زیادہ سامان درآمد اور برآمد کیا جاسکتا ہے البتہ خلاف ورزی کی صورت میں ایف بی آر اور کسٹمز کے قوانین کے تحت جرمانہ لگایاجاسکتا ہے،انہوں نے کہا کہ اجازت نامہ ریگولیٹری کلکٹریٹ سے حاصل کیا جاسکتا ہے (بی ٹو بی)بزنس ٹو بزنس سے اس پورے خطے میں قانونی تجارت کو فروغ حاصل ہوگا اور لوگوں کو بہتر ذریعہ معاش ملے گا اس سے ہمسائیہ ممالک کے ساتھ جاری دوطرفہ تجارت کو مزید استحکام ملے گا وہ بزنس مین اس کے اہل ہوں گے جو ایکٹیو ٹیکس لسٹ،پاکستان سنگل ونڈو اور ویلڈ امپورٹ اور ایکسپورٹ معاہدہ رکھتے ہوں جتنی ویلیو کی امپورٹ ہوگی اتنی ہی ایکسپورٹ ہوگی البتہ 20فیصد تک مزید رعایت کی سہولت بھی دی گئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں