بلوچستان میں شہید نذیر مری، صباءدشتیاری، زاہد آسکانی، پروفیسر رزاق زہری جیسے استادوں کو شہید کیا گیا، این ڈی پی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی شال زون کی جانب سے شہید نذیر مری کی 11 ویں برسی کی مناسبت سے ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ سیمینار سے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ، این ڈی پی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر سلمان بلوچ، ڈاکٹر دین محمد بزدار، نذیر شہید کے فیملی ممبران ضیاءالرحمن بلوچ، عمران بلوچ اور شہید نذیر مری کے اسٹوڈنٹس عابد عدید، محمد عمران لہڑی و دیگر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ آفتاب بلوچ نے ڈاکٹر سیلم کرد کا مقالہ پڑھا۔ اس موقع پر شہید نذیر مری کی زندگی پر ایک ڈاکومنٹری بھی پیش کی گئی۔ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ این ڈی پی کی جانب سے آج یہ پروگرام منعقد کیا گیا ہے، یہ بھی بہت بڑی بات ہے کہ وہ اپنے ان شہیدوں کو بھولے نہیں جنہوں نے اپنا خون دیا، اپنی زندگیاں قربان کییں، مشکلات اور مصائب دیکھے ہیں اسی طرح ہمارے اور بھی بہت سے شہداءہیں جو تاریک راہوں میں مارے گئے، ہونا تو یہ چاہیے کہ ان تمام شہداءکی یاد منائی جائے، ان پر لکھا جائے کیونکہ جب آپ ان کو یاد نہیں کرینگے، ان پر نہیں لکھیں گے گوکہ ان شہداءکو ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انہوں نے جس مقصد کیلئے اپنی جانیں قربان کیں، پھر وہ ان تمام چیزوں سے ماورا ہوجاتے ہیں، لیکن ان کو یاد کرنا ہماری ضرورت ہے، جب آپ اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ان چیزوں کو ریکارڈ پر نہیں لائیں گے اگر ان کو نہیں لکھیں گے تو ہماری آنے والی نسلوں کو یہ کیسے پتہ چلے گا کہ ہمارے آباﺅ اجداد نے کتنی قربانیاں دی ہیں۔ مقررین نے مزید کہا کہ شہید نذیر مری نہ صرف بابا مری کے قریبی ساتھی بلکہ وہ ایک استاد بھی تھے، لیکن پنجاب کی جانب سے یا ہمارے نام نہاد صحافی اور دانشور بھی یہی بات کرتے نہیں تھکتے کہ بلوچ اسی لیے پسماندہ ہیں کہ وہ تعلیم حاصل نہیں کرتے وہ نہیں پڑھتے، لیکن دوسری جانب ہمارے ان استادوں کو جو ہمیں تعلیم دیتے ہیں ان کو نہیں بخشتے، انہیں لاپتہ کردیا جاتا ہے یا انہیں شہید کر دیتے ہیں تو تعلیم کہاں سے آئے گا۔ شہید نذیر مری سمیت ہمارے استاد صباءدشتیاری، زاہد آسکانی، پروفیسر رزاق زہری جیسے استادوں کو شہید کیا گیا تو اس کا مطلب یہی ہے کہ مسئلہ تعلیم کا نہیں ہے اصل مسئلہ کچھ اور ہے۔ بہت سے ہیروز ہیں جو زندانوں میں آج بھی قید ہیں یا شہید کردیئے گئے ہیں، ہمیں ان کے بارے میں معلوم نہیں ہے کس طرح وہ لوگ زندانوں میں جی رہے ہیں، سانس لے رہے ہیں اور جو اذیت سہے رہے ہیں ہم اگر ان کو بھول جاتے ہیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گے اور ہم تاریخ کے مجرم ہوں گے۔ انہیں جو کام کرنا تھا وہ کر کے چلے گئے اب آگے ان کے نقشے قدم پر چلنا ہمارا فرض ہے ہمیں بھی بہت سی قربانیاں دینی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے بہت کچھ کرنا ہے اگر وہ بھی اپنے ذاتی آرام و آسائش کو مد نظر رکھتے ہوئے قومی کاز کو بھول جاتے تو شاید انہیں بھی بہت زیادہ مراعات ملتیں لیکن وہ جس مشن کے لیے نکلے تھے وہ انہوں نے پورا کیا اور تاریخ میں امر ہوگئے۔ شہید نذیر مری پیشے کے اعتبار سے ایک استاد تھے، وہ 4 اپریل 1955ءکو محمد مراد کے گھر کوئٹہ میں پیدا ہوئے، اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ سینٹرل ہائی اسکول سے حاصل کی اور مزید تعلیم کیلئے بلوچستان یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ اس کے بعد محکمہ تعلیم میں بطور استاد بھرتی ہوئے اور مختلف جگہوں پر اپنی خدمات سرانجام دیں۔ آخر وقت تک کلی شیخان ہائی اسکول میں وائس پرنسپل کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ شہید نذیر مری کا خاندان شروع دن سے نواب خیر بخش مری کے نائب کے طور پر کام کررہا تھا، اسی مناسبت سے شہید نذیر مری بھی نواب خیر بخش مری کے قریبی ساتھی کے طور پر جانے جاتے تھے۔ نواب خیر بخش مری سے تعلق کی وجہ سے شہید نذیر مری کو مختلف اوقات میں لاپتہ کیا گیا، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، ذہنی اور جسمانی اذیت برداشت کرتے رہے مگر آخر دم تک نواب خیر بخش مری کے فلسفے کے ساتھ کھڑے رہے۔ حق اور سچ کے ساتھ کھڑے رہنے کی وجہ سے انہیں متعدد دفعہ لاپتہ کیا گیا اور آخرکار انہیں 19 جون 2012ءکو کلی شیخان ہائی اسکول کے سامنے ڈیوٹی پر جاتے ہوئے شہید کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں