پاکستان سرحد پار عسکریت پسندوں کیخلاف کارروائی کرے، بائیڈن اورمودی ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ جاری
واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر جو بائیڈن سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میںسرحد پار عسکریت پسندی اور عسکریت پسندوں پراکیسزکی مذمت کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بھارت کو نشانہ بنانے والی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے ۔ دونوں رہنماؤں نے ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔ امریکی صدر جو بائیڈن سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق امریکا اور بھارت نے عالمی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک ساتھ کھڑے رہنے، ہر طرح کی عسکریت پسندی اور پرتشدد انتہاپسندی کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ القاعدہ، داعش، لشکر طیبہ، جیش محمد اور حزب المجاہدین سمیت اقوام متحدہ کی فہرست میں شامل تمام عسکریت پسند گروہوں کے خلاف اجتماعی طور پر کارروائی کی جائے۔دونوں رہنماؤں نے سرحد پار عسکریت پسندی اور عسکریت پسند پراکیسزکی بھی مذمت کی اور پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ فی الفور کارروائی کرے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اس کے زیر اثر کوئی علاقہ عسکریت پسندانہ حملوں کیلئے استعمال نہ کیا جائے۔ دونوں رہنماؤں نے 2008ممبئی اور پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔اعلامیہ میں کہا گیا کہ امریکا اور بھارت کثیرالملکی اور خاص طور پر کواڈ اور علاقائی گروہوں کے ساتھ مل کر انڈو پیسفیک علاقے کو آزاد اور مستحکم بنائیں گے۔ دونوں رہماؤںکا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کی شراکت داری سمندروں سے ستاروں تک ہوگی، یہ شراکت داری اگلی صدی کا تعین کرے گی۔چین کو زیر کرنے کی کوشش میں امریکی صدر نے بھارت میں بڑھتی آمریت کے الزامات نظر انداز کردئیے۔امریکا نے لڑاکا طیاروں کے انجن بنانے کی ٹیکنالوجی دینے، سیمی کنڈکٹرز پلانٹ میں 8 سو ملین ڈالرز کی امریکی سرمایہ کاری اور خلائی منصوبوں میں تعاون سے متعلق سمجھوتے کیے۔بھارت امریکا سے ایم کیو نائن بی سی گارڈیئنز اور ہدف کو انتہائی مہارت سے نشانہ بنانے والے مسلح ڈرونز بھی لے گا جبکہ 2025 تک چاند پر بھیجے جانے والے امریکی مشن میں بھارت بھی شامل ہوگا۔


