عظمت ملک جنرل اسپتال خداباداں پنجگور کئی سال بعد بھی فنکشنل نہ ہوسکا، مشینری زنگ آلود ہونے لگی

پنجگور (نامہ نگار) عظمت ملک جنرل اسپتال خداباداں کئی سال گزرنے کے باوجود تاحال فنکشنل نہ ہوسکا۔ صوبائی حکومت نے پچاس بستروں پر مشتمل اسپتال کو فنکشنل کرنے اور خود مختار ادارہ بنانے کے لیے ایک ایکٹ اسمبلی اور کابینہ سے پاس کیا ہے، ادارہ بورڈ آف گورنرز کے مطابق کام کرے گا۔ اسپتال کو فنکشنل ہونے کیلئے حکومت بلوچستان کی جانب سے گرانٹ اینڈ ایڈ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جو سمری بنائی گئی ہے مگر منظوری کیلئے کافی عرصے سے زیر التوا ہے۔ بدقسمتی سے اسپتال کے کروڑوں روہے ایم ایس نہ ہونے کی وجہ سے لیپس ہوگئے ہیں اور ادویات کی خریداری بروقت نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپے لیپس ہوگئے ہیں جوکہ علاقے کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ پچاس بستروں پر مشتمل جنرل اسپتال کی فعالیت کیلئے سیاسی رکاوٹیں حائل ہیں، جس کی سزاغریب عوام کو مل رہی ہے۔ اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی، ادویات کی قلت برقرار ہے جبکہ اسپتال میں اسٹاف کو پینے کا پانی تک دستیاب نہیں، کروڑوں روہے کے جدید طبی آلات موجود ہیں مگر اسپتال کے فنکشنل نہ ہونے سے زنگ آلود ہورہے ہیں۔ اسپتال کا جنریٹر عرصہ دراز سے بند پڑا ہے۔ عوامی حلقوں کی جانب سے صوبائی حکومت اور محکمہ صحت سے اپیل کی گئی ہے کہ عظمت ملک جنرل اسپتال پنجگور کو فوری طور پر فنکشنل اور 24 گھنٹے ایمرجنسی کی سروس کو بحال کیا جائے تاکہ علاقے کے مریض استفادہ کرسکیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں