موجودہ اور سابقہ چیئرمینز سینیٹ کیلئے خصوصی مراعات کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی، مولانا شیرانی
کوئٹہ (آن لائن) جمعیت کے رہنما مولانا محمد خان شیرانی نے کہاہے کہ کسی شخص کو ذاتی فائدہ پہنچانے یا کسی مخصوص شخص کی نقصان کے خاطر کی جانے والی قانون سازی سے قانون کے بنیادی ساخت، اصولوں اور دائرہ کار کی نفی ہوتی ہے پی ڈی ایم نے مقننہ کو اپنے وقتی گروہی اور ذاتی ضروریات کی تکمیل کے فورم میں تبدیل کر دیا ہے انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بدنیتی سے کی جانے والی قانون سازی اور اقدامات وقت بدلنے پر اکثر خود ان اقدامات کو اپنے آپ کیلئے سہارا سمجھنے والوں کی گردن کا طوق بن جاتے ہیں حکومت اور اقتدار کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتے لیکن اپنی حکومت کے دوران عدل و انصاف کے تقاضوں سے انحراف کرنے والے لوگ بعد میں بے انصافی کی دوہائی دیتے ہوئے اخلاقی موقف اور قانونی جواز سے محروم ہوتے ہیں انہوں نے کہا کہ بظاہر محسوس ہوتا ہے کہ مقررہ مدت میں ملک میں انتخابات کا انعقاد کا ارادہ موجود نہیں ہے ایک طرف ملک کی معاشی صورتحال کو الیکشن کے التوا کیلئے بنیاد بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف سینیٹ میں موجودہ اور سابقہ چیئرمینز کیلئے مراعات کے ایسے پیکج کی منظوری دے دی گئی ہے جس کا تصور دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں بھی نہیں کیا جاسکتا اور افسوس کی بات ہے کہ سینیٹ میں نمائندگی رکھنے والی کسی بھی جماعت نے مذکورہ ایکٹ کے خلاف ووٹ نہیں دیا اور تمام جماعتوں نے مل کر اس مراعاتی ایکٹ کو پاس کروایا انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اصولا عوام کے حقوق کا وکیل اور ان کے مفادات کا محافظ ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے تمام تگ و دو کا محور قومی منافع کے بجائے ذاتی نفع اندوزی ہوتی ہے اس طرز سیاست نے عوام کی نظروں میں سیاست کو سنجیدگی اور اعتبار سے ساقط کردیا ہے اگر سیاسی لیڈروں نے اپنے اس روش پر نظرثانی نہیں کی تو عوام لیڈروں کے مسائل سے اپنے آپ کو اسی طرح لاتعلق سمجھنے لگ جائیں گے جس انداز میں سیاسی قیادت اپنے آپ کو عوام کے مسائل و مشکلات سے لاتعلق سمجھتی ہے۔


