حقیقی علم وہی ہے جو معاشرے میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لاسکتا ہو، گورنر بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے کہا کہ معاشرے میں حصول علم کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے، حقیقی علم وہی ہے جو معاشرے میں مثبت اور تعمیری تبدیلی لاسکتا ہو اور انسان کو انسان دوست بناتا ہو نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ورکشاپ ایک درسگاہ ہے، یہاں آپ وہ کچھ دو ہفتہ کے قلیل عرصہ میں سیکھتے ہیں، جو بڑی یونیورسٹیوں میں بھی نہیں سیکھ سکتے۔ یہ بات انہوں نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کی اختتامی تقریب کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اختتامی تقریب سے خطاب کے دوران گورنر بلوچستان نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کو اس ورکشاپ کے ذریعے قابل اور تجربہ کار اساتذہ اور ماہرین سے سیکھنے کا موقع ملا ہے علاوہ ازیں پاکستان کے مختلف علاقوں سے اس ورکشاپ میں آنے والوں کے ساتھ مشاہدات اور تجربات کا تبادلہ بھی کر سکتے ہیںضرورت اس بات کی ہے کہ اس ورکشاپ کی تکمیل کے بعد اپنے اپنے علاقوں اور محکموں میں یہاں حاصل ہونے والے علم و تجربہ کو پوری محنت اور دیانت کے ساتھ بروئے کار لائیں تاکہ آپ کی آپ کے محکمہ کی کارکردگی میں بہتری ہوامید ہے کہ اس ورکشاپ کے شرکا ملک و صوبوں میں پائیدار امن، ہم آہنگی اور قومی جذبے کے فروغ کیلئے زیادہ متحرک، فعال اور پرجوش کردار ادا کریں گے انہوں نے کہا کہ ورکشاپ میں پہلے مرض کی نشاندہی ہوتی ہے پھر ماہرین تشخیص کرتے ہیں اور اس کے بعد علاج بتاتے ہیںگورنر بلوچستان نے کہا کہ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے ہر ذی فہیم شخص نے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا. تقریب کے اختتام پر گورنر بلوچستان نے ورکشاپ کے شرکا میں اسناد تقسیم کیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں