بلوچستان کی جیلوں میں قیدیوں کی اصلاح کیلئے مختلف سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں،شجاع الدین کاسی

ڈیرہ اللہ یار (این این آئی) آئی جی جیل خانہ جات ملک شجاع الدین کاسی نے کہا ہے کہ بلوچستان کے جیلوں میں قیدیوں کی اصلاح کیلئے مختلف سرگرمیاں ترتیب دی گئی ہیں تاکہ قیدی ان سرگرمیوں سے فائدہ اٹھا کر معاشرے میں آگے بڑھ سکیں انہیں ہنر مند بنانے کیلئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں جیلوں میں فائن آرٹس کی کلاسوں کے ساتھ انہیں موبائل فون کی مرمت جیسے ہنر بھی سکھائے جا رہے ہیں سینکڑوں قیدی کمپیوٹرز کی بھی کلاسیں لے رہے ہیں ہماری اولین ترجیح ہے کہ قیدیوں کے جینے کا ڈھنگ تبدیل ہو اور وہ معاشرے کے کارآمد شہری بن سکیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سب جیل ڈیرہ اللہ یار کے دورے کے موقع پر مقامی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر اے آئی جی جیل خانہ جات چھٹا خان نصیرآباد ڈسٹرکٹ جیل کے سپریٹنڈنٹ حماد اسلم اسسٹنٹ سپریٹنڈنٹ نزیر احمد عمرانی ایکسین بی اینڈ آر اکبر علی لاشاری و دیگر پولیس حکام ان کے ہمراہ تھے ان کا کہنا تھا کہ جیلوں میں اصلاح لانے کیلئے بلوچستان حکومت بھر پور اور سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے قیدیوں کو بنیادی انسانی حقوق کی سہولیات بہم پہنچائی جا رہی ہیں جیلوں میں انہیں معیاری کھانے اور بہتر علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ قیدی مجرم ہونے کے ساتھ انسان بھی ہیں جن کے بنیادی حقوق کا مکمل خیال رکھنے کیلئے واضح ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جیلوں میں واش رومز بہتر کئے گئے انہیں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے مچھ سمیت مختلف جیلوں میں واٹر پیوروفکیشن پلانٹس نصب کئے گئے ہیں قیدیوں کے مسائل کے حل کیلئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں صوبے بھر کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ان کے عزیز و اقارب کی ملاقاتوں کے طریقہ کا اور دیگر بنیادی ضروریات کی فراہمی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہوئی ہے حکومت، سول سوسائٹی اور مخیر لوگوں کے تعاون سے ویلفیئر کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور جرمانے کی رقوم ادا نہ کرنے والے غریب اور لاوارث قیدیوں کی مالی معاونت جیسے اقدامات بھی کئے جا رہے ہیں جو خوش آئند اقدام ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈیرہ اللہ یار سب جیل کی بلڈنگ کو دوبارہ بحال کر کے اسے قابل استعمال بنانے کیلئے بہت جلد فزیبلٹی رپورٹ تیار کی جائے گی تاکہ جعفرآباد،اوستہ محمد اور صحبت پور اضلاع کے قیدیوں اور ان کے ورثا کو مسائل و مشکلات کا سامنا نا کرنا پڑے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ جیل سے نوعمر کے قیدی کے فرار ہونے کے واقعہ کے بعد غفلت برتنے پر پانچ ملازمین کو معطل کر دیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں