لسبیلہ آر سی ڈی شاہراہ کی سیاسی پارٹیوں اور ٹرانسپورٹرز کی جانب سے بندش معمول بن گئی، مسافروں کو مشکلات
اوتھل (این این آئی) لسبیلہ میں آئے روز بالخصوص آر سی ڈی قومی شاہراہ کو مختلف سیاسی پارٹیوں ، ٹرانسپورٹرز اور عوام کی جانب سے شدید گرمی میں احتجاجاً بلاک کرنا روز کا معمول بن گیا جس سے مسافر خاص کر مریضوں ، خواتین ، بوڑھوں اور بچوں کو اذیت،کرب، تکلیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکومت اور انتظامیہ قومی شاہراہ بلاک کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کرے۔یہ صرف لسبیلہ میں احتجاج کا طریقہ ہے،انتظامیہ اور حکومت پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑتا۔ دیگر صوبوں میں ایسے احتجاج کی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔تفصیلات کے مطابق لسبیلہ میں آئے روز بالخصوص کراچی سے کوئٹہ RCD قومی شاہراہ کو مختلف سیاسی پارٹیوں ، ٹرانسپورٹرز اور عوام کی جانب سے احتجاجاً بلاک کرنا روز کا معمول بن گیا۔جس سے مسافر خاص کر مریضوں ،خواتین ، بوڑھوں اور بچوں کو اذیت، کرب، تکلف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔حکومت اور انتظامیہ قومی شاہراہ بلاک کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کرے۔یہ صرف لسبیلہ میں احتجاج کا طریقہ ہے ملک بھر میں ایسے احتجاج کی مثالیں ملک کے دیگر صوبوں میں کم ہی ملتی ہیں لیکن لسبیلہ سے مستونگ تک آئے روز قومی شاہراہ احتجاجاً کئی کئی گھنٹے بلاک بندھ رہتی ہیں۔ یہ روایت صرف لسبیلہ اور بلوچستان میں ہے باقی صوبوں میں ایسی مثالیں کم ہی ملتی ہیں۔حکومت بلوچستان مین قومی شاہراہ کو احتجاجاً بندھ کرنے والوں کے خلاف قانون سازی کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے کیوں کہ اس سے انتظامیہ اور حکومت پر تو کچھ اثر نہیں پڑتا البتہ مسافروں ،مریضوں، کو کئی کئی گھنٹے بھوکے پیاسے رہ کر قیامت خیز گرمی میں بہت تکلیف دہ مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔


