اسلام آباد کو بلوچستان کیساتھ منفی رویوں و عوام دشمن پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا، رحمت صالح بلوچ

کوئٹہ (انتخاب نیوز) نیشنل پارٹی کے صوبائی ورکنگ کمیٹی کا اجلاس زیر صدارت میر رحمت صالح بلوچ دوسرے روز بھی جاری رہا۔صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ نے پہلے روز کی خلاصہ پیش کیا۔ اجلاس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی مرکزی ریسرچ سیکرٹری آغا گل نے بھی شرکت کی۔ تنظیمی و سیاسی صورتحال پر زیر حاصل مباحثہ ہوا اور متعدد فیصلے ہوئے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ اور صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ نے کہا کہ کارکن عام انتخابات کی تیاریوں اور موبلائزشن کے عمل کو تیز کریں۔ آنے والے انتخابات میں عوام کے ووٹ کی طاقت سے کامیابی حاصل کرینگے اور ووٹ کی تقدس و طاقت کو بحال کرینگے۔ اب کسی کو چور دروازے سے عوام پر مسلط نہیں ہونے دینگے۔ قائدین نے کہا کہ نیشنل پارٹی کی طاقت و مضبوطی کردار و عمل ہے جو نیشنل پارٹی کو ممتاز و منفرد بناتی ہے۔بلوچستان کے عوام ادراک ہے کہ 2018 کے انتخابات میں غیر جمہوری راستوں اور قوم کے قومی ایشوز کو استعمال کرتے ہوئے اسمبلی پر براجمان ہونے والوں نے انتخابات کے بعد قوم کے احساسات و جذبات کو مکمل طور پر مجروح کیا اور مراعات و مفادات کے لیے قوم کا سودا کیا۔رہنماوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کی سیاسی بصیرت و مدبرانہ قیادت ہی بلوچستان میں تعمیر وترقی کے حصول کو ممکن بنا سکتا اور قومی تشخص ملکیت اور حق و اختیار کو یقینی بناسکتی ہے۔ رہنماﺅں نے کہا کہ اسلام آباد کو بلوچستان کے ساتھ منفی رویوں و عوام دشمن پالیسیوں کو ختم کرنا ہوگا۔ بلوچستان ایک قومی سرزمین ہے اور عوام کو اپنی سرزمین پر آزادی سے زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان فرد کی آزادی کو تحفظ فراہم کرتی ہے اس لیے ماورائے آئین اقدام و گرفتاریاں آئین سے تصادم ہے۔لاپتہ افراد ملک کا سلگتا ہوا مسلہ ہے اور اس کو حل کرنا ضروری ہے۔اور جو بھی آئین و قانون کو مطلوب ہے اس کو قانون کے مطابق ٹرائل کیا جائےاس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی ،صوبائی نائب صدر خورشید رند ایڈوکیٹ ممبر مرکزی کمیٹی ستار بلوچ میران بلوچ صوبائی ترجمان علی احمد لانگو،حاجی عبدالصمد بلوچ عبید لاشاری ،جلیل لانگو ایڈوکیٹ، ثاقب بزنجو حمیدہ فدا، نواز بلوچ، میرحفیظ بنگلزئی دیدگ بزنجو، طاہرہ خورشید شاری بلوچ،ندیم میانی، نثار مشوانی ،نواز کھوسہ، چراغ بلوچ، آدم قادربخش ،محسن بھٹو ، فیصل منشی ،صدیق کیھتران، کلثوم نیاز، امان کریم ایڈوکیٹ، فدا بلیدی، محمود رند فریدہ بلوچ سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں