نوکنڈی تا تفتان (لندن روڈ) عوام کیلئے وبال جان بن گیا
نوکنڈی(یو این اے )نوکنڈی ٹو تفتان شاہراہ جسے لندن روڈ بھی کہاجاتا ہے کیونکہ یہی سڑک پاکستان کوہمسایہ ملک ایران سے وسط ایشیا اوریورپ سے ملاتی ہے جہاں روزانہ سینکڑوں بڑی گاڑیاں اورہزاروں چھوٹے گاڑیوں کی آمد ورفت کے ساتھ سیندک اورریکودک کے لئے بڑی بڑی مشینریاں بڑی گاڑیوں میں لوڈ اسی لوڈ پر نظرآتے ہیں مگر اس سڑک کی حالت اب قابل رحم بن گئی ہے این ایچ اے اس سڑک کے نام پر سالانہ کروڑوں روپے کی بجٹ پاس کرتی ہے مگر اس انٹرنیشنل روٹ کے سڑکوں کامعیار بہتر بنانے میں ناکام نظرآرہی ہے نوکنڈی سے تفتان ریکودک روڈ کے ساتھ توزگی وڈ کی ہے جہاں چندسال قبل این ایچ اے کے ناقص منصوبہ بندی سے آٹھ کروڑ روپے قومی خزانے سے ضائع کئے گئے مگر ریٹ کی ٹھیلوں سے چھٹکارا پانے کی بجائے انھیں مزید راستہ دیاگیا اس پہاڑی ٹھیلے کے دونوں طرف ریت کے ٹھیلے کس خطرناک صورتحال میں موجود ہیں جنھیں ہٹانے کے لئے نہ این ایچ اے کوئی قدم اٹھارہی ہے اور نہ ہی بی اینڈ آر کی جانب سے کام کرتے مزدور نظرآئیں گے یاد رہے ان ہی ریت کے ٹھیلوں کی وجہ سے کئی روڈ حادثوں میں قیمتی جانوں کاضیاع بھی ہوچکاہے اور اب بھی کسی بڑے حادثے کو رد نہیں کیاجاسکتا این ایچ اے اور منتخب نمائندوں کو مل کر اس خطرناک چڑھائی اورریت کے ٹھیلوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے بہترمنصوبہ بندی کے ذریعہ توزگی وڈ کے کنارے سے متبادل سڑک بنانا چائیے تاکہ ٹرانسپورٹرز اور عوام کواس عذاب سے مستقل چھٹکارا مل سکے۔


