کوئٹہ کو ایک سال کیلئے ہمارے حوالے کیا جائے، نقشہ نہ بدلا تو اپنا نام بدل دیں گے، انجمن تاجران بلوچستان
کوئٹہ (آن لائن) کوئٹہ کو ایک سال کے لئے ہمارے حوالے کیا جائے نقشہ نہ بدلا تو اپنا نام بدل دیں گے نام نہاد ایم پی ایز اور وزرا صرف کرپشن اور کمیشن کے فکر میں رہتے ہیں عوامی مسائل سے انکا کوئی سروکار نہیں ہے ان خیالات کا اظہار سیاسی سماجی شخصیت اور انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر رحیم آغا نے اپنے دفتر میں وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، اس وقت کوئٹہ جو صوبے کا دارالحکومت ہے لیکن ایسا لگ رہا ہے جیسے یہاںپر کوئی ادارہ نہیں ہے سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار، نالیاں گندگی سے بھری ہوئی، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے ہر طرف منشیات فروشوں کا راج ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں ہے ماضی کا لیٹل پیرس اب دنیا کا گندہ ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے جو کسی المیہ سے کم نہیں ہے کوئٹہ میں جو کچھ تھوڑا بہت کام ہوا ہے وہ بھی کورکمانڈر کے ذاتی دلچسپی سے ہوا ہے جس پر ہم کورکمانڈر آصف غفور اور اسکے ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںجنہوں نے ریلوے اسٹیشن کو خوبصورت بناکر کوئٹہ کا کوئٹہ کے خوبصورتی میں ایک حد تک اضافہ کیا ہے باقی صوبائی حکومت اور محمکہ خواب غفلت میں سوئے ہوئے ہیںانکو کوئٹہ سمیت بلوچستان کا کوئی فکر نہیں ہے سریاب روڈ ، سبزل روڈ اور پائی پاس کھنڈرات کا منظر پیش کررہا ہیں گزشتہ ایک سے ضلعی لسبیلہ اوتھل میں 6 پل سیلاب میں بہہ چکے تھے تاحال اس پر ایک فیصد کام بھی شروع نہیں ہوا ہے اسی طرح پنجرہ پل بولان جو گزشتہ ایک سے پانی میں بہہ چکا ہے ایک روپے کا کام اس پر شروع نہیں کیا گیا ہے جس میں کئی گاڑیاں گر کر قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں لیکن بد قسمتی سے کسی نے بھی نوٹس نہیں لیا ہے نہ کوئی اس بارے بات کرتا ہے جس صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے اسمبلی تک پہنچنے والوں کو صرف اپنی بینک بیلنس کا فکر رہتا ہے عوامی مسائل سے انکا کوئی سروکار نہیں ہوتا جس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے جب تک عوام میں شعور نہیں آئیگی اس وقت تک ہمیںاچھے حکمران نہیں ملیں گے ہم نے سوچ سمجھ کر ووٹ کا استعمال کرنا ھوگا اور ایک ایسے شخص کو منتخب کرنا ھوگا جو صحیح معنوں میں عوام اور علاقے کا خیر خواہ ہونہ کہ جیبیں بھرنے والا ہوا،کوئٹہ کی حالات دیکھ کر بہت افسوس ہوتا ہے کہ دارالحکومت کا اگر یہ حال ہے تو باقی علاقوں کا تو اللہ ھی حافظ ہے ،میں دعوے سے کہتا ہوںکہ کوئٹہ کو ایک ڈیڑھ سال کے لئے ہمارے حوالے کیا جائے نقشہ تبدیل نہ کیا تو اپنا نام تبدیل کریں گے انھوں نے مزید کہا کہ ہم اس جذبے سے آگے جاسکتے ہیں اور ترقی کرسکتے ہے کہ ہم دل و جان سے اس دھرتی کو اپنی ماں سمجھے اور ماں کی خدمت اولاد پر فرض ہے۔


