بلوچستان اسمبلی آئندہ ہفتے تحلیل ہوگی، نگران وزیراعلیٰ کیلئے حکومتی اپوزیشن کے ڈائیلاگ جاری
کوئٹہ (یو این اے) بلوچستان اسمبلی کو آئندہ ہفتے تحلیل کردی جائےگی ،نگران وزیراعلیٰ کیلئے حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ڈائیلاگ جاری ہے ،ڈائیلاگ کوحتمی شکل اسمبلی کی تحلیل کے بعد دی جائےگی ۔ذرائع کے مطابق بلوچستان کی 11ویں صوبائی اسمبلی آئندہ ہفتے تحلیل کردی جائے گی ذرائع کے مطابق اسمبلی 8اگست کو تحلیل کردی جائےگی جبکہ آئینی مدت 12اگست کو پوری ہوگی ۔ذرائع کے مطابق وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو فرینڈلی اپوزیشن کے ٹرائیکا کے ہمراہ اپنے قریبی عزیز اور ضلع چیئرمین آواران نصیر بزنجو کو نگراں وزیراعلی کیلئے نامزد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے وزیراعلی بلوچستان نے بی این پی اور صادق سنجرانی کو اس حوالے سے آمادہ کرلیا ہے، جب کہ جے یو آئی کو منانے کی ذمے داری بی این پی مینگل کو دے دی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قدوس بزنجو نگران وزیراعلی کے لئے ایک سے زائد نام اپوزیشن کے سامنے رکھیں گے، اور اپوزیشن کی اہم جماعت بی این پی حمل کلمتی کا نام تجویز کرے گی جب کہ اپوزیشن بھی حکومت کے سامنے ایک سے زائد نام سامنے رکھے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں وزیراعلی کوئی بھی ہو صوبے کا عارضی کنٹرول ٹرائیکا کے پاس رہے گا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعلی بلوچستان قدوس بزنجو کا فرینڈلی اپوزیشن کے ٹرائکا کے ہمراہ نگراں دور میں بھی مسند اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں اور انہوں نے پلان پر عمل کیلئے بلوچستان نیشنل پارٹی اور چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی کو آمادہ کرلیا، جے یو آئی ف کو رام کرنے کی ذمے داری بی این این پی مینگل کو دیدی۔قدوس بزنجو چئیرمین سینیٹ اور سردار اختر مینگل کی حکمت عملی کے تحت دو میں سے ایک نام پر اتفاق رائے کیا جائیگانگران وزیراعلیٰ کیلئے تین نام نصیربزنجو، کہدہ بابر اور نواب غوث بخش باروزئی کانام گردش کررہاہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کا کنٹرول مخصوص ٹرائکا کے پاس ہونے سے صاف شفاف انتخابات پر سوالات اٹھیں گے، وزیر اعلی قدوس بزنجو گزشتہ چند ماہ سے اہم قومی امور میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے، وہ گزشتہ چند روز سے کراچی میں مقیم ہیں۔


