پسنی فش ہاربر جیٹی کی مکمل بحالی کیلئے تین ارب 90 کروڑ روپے کا پلان تیار
پسنی(یو این اے)پسنی فش ہاربر جیٹی کی بحالی کے لیے خطیر رقوم کا پلان پیش کردی گئی زرائع کے مطابق انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹیڈیز اسلام آباد نے پسنی فش ہاربر جیٹی کے حوالے سے 26 صفحات پر مشتمل ایک مونوگراف پلان پیش کردی ہے ا س سلسلے میں زرائع نے بتایا کہ رپورٹ میں پسنی جیٹی کے قیام سے لیکر زوال تک کے بارے میں لکھا گیا ہے اور ان وجوہات پر بھی تفصیلی بات کی گئی ہے جس کی وجہ سے پسنی فش ہاربر جیٹی تباہی کے دہانے پر پہچ گئی ہےرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مسلسل مٹی آجانے کی وجہ سے پسنی جیٹی کا مین چینل مکمل طور پر بند ہوگیا تھا اور جولائی 2010 میں حکومت جاپان نے پسنی جیٹی کی بحالی کے لیے 80 کروڑ روپے کی گرانٹ مہیا کی اور تین سالہ منصوبہ بندی کے تحت جیٹی کی بحالی کے لیے سروے ،مکنیکل ڈریجر کی خریداری ،مرمت اور بریکرواٹر کی توسیع کے منصوبے شامل تھے لیکن جاپانی گرانٹ سے کام لینے کے بجائے اسے محفوظ کیا گیا جبکہ 2014 اور 2016 میں ہونے والی ڈریجنگ جو کہ پاکستانی کمپنی ایم ای ڈبلیو نے کی اور 325000 کیوبک مٹی ہٹانے کا دعوی کیا گیا لیکن اِن کاموں سے جیٹی 23مارچ 2016 کو جز وقتی طور پر بحال ہوا لیکن یہ تمام کام مکمل بحالی میں خاطر خواہ ثابت نہیں ہوئے پالیسی مونوگراف رپورٹ کے مطابق 14 نومبر 2020 کو وزیرارعلی بلوچستان میرجام کمال خان نے پسنی فش ہاربر اتھارٹی کی بحالی کا سنگ بنیاد رکھا تاہم اس پر پیش رفت نہ ہوسکا،CDWP نے 6 اگست 2020 کو منعقدہ اپنی میٹنگ میں جیٹی کی بحالی پر غور کیا تھا اور 98-1454ملین روپے کی لاگت سے بحالی کی کام کا آغاز گوادر پورٹ اتھارٹی کے زریعے کرانے کا پروگرام تھا تاہم جی پی اے نے اس سلسلے میں معذرت کرلی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ وفاق اور صوبے کے مابین جاری تنازعہ کی وجہ سے پسنی جیٹی کی بحالی کا کام التوا کا شکار رہا ہے 6 اگست 2020 کو CDWP کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اس سلسلے میں اسپائنسرز ایک جامع رپورٹ پیش کریں جس میں پروجیکٹ کی تاخیر کی وجوہات کی نشاندہی کریں جبکہ غیرضروری اخراجات کے بارے انکوائری رپورٹ تین ماہ کے اندراندر مرتب کرکے پیش کریں تاکہ زمہ داروں کا تعین کیا جاسکے مونوگراف رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اپیکس کمیٹی کی جانب سے ایم او پی ڈی اینڈ ایس آئی میں پیشرفت کے جائزہ کے لیے منعقدہ اجلاس میں کے دوران 27اگست 2021 کو سیکرٹری منصوبہ بندی کی زیرصدارت اجلاس میں سیکرٹری وزارت میری ٹائم افئیرز نے پسنی جیٹی پروجیکٹ کو شروع کرانے سے ناکامی ظاہر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بلوچستان کوسٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور پسنی فش ہاربر اتھارٹی کے پاس ایسی کوئی صلاحیت نہیں کہ وہ اِس پروجیکٹ چلاسکیں اور اِسکی دیکھ بھال کرسکیں کیونکہ منصوبے کی باربار تبدیلی نے پروجیکٹ کو غیر اہم بنادیا اور اس پروجیکٹ کو پیشہ ورانہ انداز میں نہیں سھنبالا گیا سینئیرز انجینئرز نہ ہونے اور صوبائی حکومت کی عدم توجہی کے باعث پسنی جیٹی غیر فحال ہوگیارپورٹ میں 7 دسمبر2021 میں علاقے میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کا بھی جائزہ لیا گیا اور یہ تجویز دی گئی کہ پسنی جیٹی کی بحالی کے لیے حکومت ایک قابل پروجیکٹ ڈائریکٹر نامزد کرائے جبکہ سروے اور ڈریجنگ کا کام کسی وفاقی ادارے کے سپرد کیا جائے وزارت سمندری جس طرح سے کورنگی فش ہاربر اتھارٹی کو چلا رہی ہے جسطرح وہاں ریونیو شئیرنگ میکانزم کے تحت کام کر رہا ہے اسی طرح بلوچستان حکومت اور وزارت میری ٹائم بات چیت کے زریعے متفقہ طور پر پسنی فش ہاربر اتھارٹی کو وفاق کے تحت دے سکتے ہیں رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان ہائیڈروگرافک ڈیپارٹمنٹ جوکہ وزارت دفاع کے تحت ایک قومی ہائیڈروگرافک تنظیم ہے اور حکومت بلوچستان پسنی جیٹی کی سروے کے لیے اس سے درخواست کرسکتی ہے کیونکہ ہائیڈروگرافر پاکستان نے حال ہی میں باتھ میٹرک سروے کا کام کیا تھا اور گوادر پورٹ سمیت اورماڑہ جناح نیول بیس جیٹی کی ڈریجنگ کا کام بھی سرانجام دیا تھا رپورٹ میں حکومت بلوچستان سے کہا گیا ہے کہ وہ فزیبلٹی اسٹیڈی کا ایک جامع جائزہ شروع کرکے اس حوالے مختلف آڈٹ اور انکوائری رپورٹس میں کئے گئے مشاہدات کے حوالے سے ہائیڈروگرافر پاکستان کے ساتھ سروے اور ڈریجنگ کا معاملہ طے کرسکتی ہے مونوگراف رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پسنی فش ہاربر جیٹی کی بحالی کے لیے 3 ارب 90 کروڑ روپے لاگت آنے کا رپورٹ پیش کیا گیا جس میں تازہ فزیبلٹی رپورٹ کے لیے 50کروڑ روپے بریکرواٹر کی تعمیر کے لیے 100کروڑ روپے ڈریجر کی خریداری کے لیے 70 کروڑ روپے پرانے بریکرواٹر کی مرمت اور توسیع کے لیے 80کروڑ روپے ڈریجر کی مرمت کے لیے 80 کروڑ روپے جبکہ کنسلٹی سروے اور اوور ہیڈز کے لیے دس کروڑ روپے اور پی ایم یو کاسٹ کے لیے بھی دس کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہےرپورٹ میں بتایا گیا کہ پسنی فش ہاربر اتھارٹی کی بحالی کا کام اگر 2020 میں شروع کیا جاتا تو اِس کی بحالی پر ایک ارب پچاس کروڑ روپے خرچ ہو جاتے۔


