ملک کے امن کو کسی صورت داﺅ پر نہیں لگنے دینگے ، بلاول بھٹو
اسلام آباد( آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ و چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہمارا کام پاکستان میں دہشتگردی کا خاتمہ اور امن بحال کرنا ہے، ملک کے امن کو کسی صورت داﺅ پر نہیں لگنے دینگے ، بہتر خارجہ پالیسی کی بدولت عالمی سطح پر پاکستان کو بہت سے عہدے ملے ،پاکستان کا مستقبل پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے منسلک ہے، ہرگز اس منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، خوشی ہے پاک امریکہ تعلقات بحال ہوئےلیکن مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کو ظلم و بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ، کشمیر کا مسئلہ دنیا کے ہر فورم پر اٹھایا ہے ،سیلاب متاثرہ علاقوں کادورہ کے دوران خود کو بے بس پایا ، دوست ممالک اور عالمی برادری نے توقع سے بڑھ کر مدد کی ، قرآن پاک کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں ، اسلام فوبیا کے خاتمے کیلئے دنیا کے ہر فورم پر آواز اٹھائی ہے ، روس یوکرین جنگ کے باعث دنیا میں کافی تبدیلی آئی ،یوکرین کے معاملے پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے ، ایف اے ٹی ایف گرے لسٹ سے نکلنے سے دو ماہ پہلے ہی ایکشن پلان پر عملدرآمد مکمل کیا ، افغان بہن بھائیوں کی ہر قسم کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار بلاول بھٹو زرداری نے دفتر خارجہ میں اپنی الوداعی پریس کانفرنس کے دوران کیا ۔ اس موقع پر وزیر مملکت امور خارجہ حنا ربانی کھر ،سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر اسد مجید خان، نامزد سیکرٹری خارجہ ڈاکٹر سائرس سجاد قاضی ،ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرا بلوچ بھی اور وزارت خارجہ حکام بھی موجود تھے ۔ وزیر خارجہ نے کہا پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلو ہیں ، جیسے ہی وزارت کا قلمدان سنبھالا تو خارجہ پالیسی کافی دباﺅ کا شکار تھی ،پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ،سی پیک کو بحال کیا اور دس سالہ تقریبات کا انعقاد کیا ،دوست ممالک کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں کردارادا کیا ،بہتر خارجہ پالیسی کے باعث بیلا روس اور یوکرین کے وزرائے خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا ،وزارت خارجہ نے بیرون ملک پاکستانیوں کو روزگار کی فراہمی کیلئے اہم کردار ادا کیا ہے ،ہمارا کام پاکستان میں دہشتگردی کا خاتمہ اور امن بحال کرنا ہے ،انہوں نے کہا خارجہ پالیسی داخلی اور جاری خارجہ حالات سے متعلقہ ہوتی ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو داخل صورتحال سے خطرات کا سامنا تھا چین، امریکہ، یورپ ،اسلامی دنیا سے تعلقات انتہائی خراب تھے پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں تھا، جی ایس پی پلس بارے خطرات کا سامنا تھا پاکستان کو دہشتگردی کے نئے خطرات کا سامنا تھا آج پاکستان نے خارجہ سطح پر کئی ایک اہم کامیابیاں حاصل کیں چین کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات میں روز افزوں اضافہ ہوا سی پیک کے تمام منصوبوں میں تیزی آئی امریکہ کے ساتھ تعلقات نہ صرف بحال ہوئے بلکہ بہتر ہوئے امریکہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں کلیدی توازن پیدا ہوا یوکرائن پر پاکستان نے بہترین اور متوازن پوزیشن لی، جس کا آج ادراک کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے انتہائی مشکل وقت میں مدد کی پاکستان وقت سے پہلے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ نکلا وزیر مملکت حنا ربانی کھر نے ایف اے ٹی ایف پر کمیٹی کی سربراہی کی، بہت محنت کی پاکستان نے ایف اے ٹی ایف پر مختلف جانب سے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا یورپین یونین کو برآمدات، طلبائ کے لیے ویزا امور، افرادی قوت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ دی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ جی ایس پی پلس کی نئی سکیم میں شمولیت اور اسے جاری رکھنے پر مفید گفتگو ہوئی افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ سرحدی انتظام، تجارتی راہداری اور دیگر امور پر گفتگو جاری رہی افغانستان میں امن و استحکام کے قیام، افغان عوام کی ترقی کے لیے ہر فورم پر نکات اٹھائے افغانستان سے بہر حال پھیلتی دہشتگردی کے سلسلہ روکنا ہو گا ہندوستان کا شنگھائی تعاون تنظیم وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے دورہ کیا مسئلہ کشمیر اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل قراردادوں کے تحت حل پر زور دیا دنیا بھر میں پاکستان کا مسئلہ کشمیر پر موقف بھرپور انداز میں اٹھایا مظلوم کشمیریوں پر تاریخ کا بدترین ظلم و ستم کیا جارہا ہے نہتے کشمیری بھائیوں کی آواز کو ہر فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا خصوصاً یورپ میں اسلاموفوبک واقعات اور خطرات پر تشویش کے ساتھ یہ معاملہ بین الاقوامی سطح پر اٹھایا ۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، ایران، ترکیہ، متحدہ عرب امارات، آذربائیجان اور دیگر کے ساتھ تعلقات بہترین ہوئے پاکستان کے افریقہ، جنوب مشرقی ایشیائ ، وسط ایشیائ اور لاطینی امریکہ سے بھی تعلقات بڑھے اقوام متحدہ، ذیلی اداروں، اسلامی تعاون تنظیم، شنگھائی تعاون تنظیم، اور دیگر سے تعلقات مضبوط ہوئے پاکستان کے پاس کم وسائل کے باوجود ملک کے لیے بین الاقوامی سطح پر کئی اہم عہدے حاصل ہوئے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں تباہ کن سیلاب کو آنکھوں سے دیکھا، اپنے آپ کو بہت بے بس محسوس کیا پاکستان نے موسمیاتی تغیر بارے آگہی دی، اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل کو پاکستان لائے اقوام متحدہ سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جنرل اسمبلی اجلاس کو پاکستان کے نام کر دیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب کے دوران پوری دنیا نے بھرپور مدد کی پاکستان نے موسمیاتی تغیر کانفرنس مصر میں "نقصانات اور توڑ پھوڑ” کے حوالے سے فنڈ مختص کرانے میں کامیاب ہوئے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں "پرعزم پاکستان کانفرنس” میں بین الاقوامی برادری نے امداد کے بڑے وعدے کیے سندھ میں موسمیاتی تغیر کے خلاف استعداد رکھنے والے گھر، اراضی خواتین کو دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ، غریب خاندانوں کو 20 لاکھ گھر بنا کر دیں گے 2010 کے سیلاب میں امداد، گھر اور اراضی نہ دے سکے، دنیا تو درکنار وفاق بھی ساتھ نہیں تھا پاکستان میں سیلاب کے دوران 50 فیصد تعلیمی ادارے تباہ ہو گئے وزیراعظم کے شکر گزار ہیں کہ اب وہ سکول، ہسپتال، گھروں کی تعمیر میں مدد دے رہے ہیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ وزارت خارجہ میں جدید وژن کے تحت تبدیلی لانے کے لیے کئی منصوبوں کا آغاز کیا آٹومیشن اور ڈیجیٹائزیشن سمیت 51 منصوبے مکمل کیے فارن سروس اکیڈمی کا بورڈ 12 سال بیٹھا اور اب اکیڈمی کو جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے فروغ، اعتماد بحال کرنے اور دعوت دینے پر توجہ دی وزارت خارجہ کے لاہور، کراچی، پشاور، کوئٹہ میں کیمپ دفاتر کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے وزارت خارجہ کے علاقائی کیمپ دفاتر صوبائی حکومتوں کو خارجہ پالیسی اور غیر ملکی سرمایہ کاری پر معاونت فراہم کریں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر، سکھر، جہلم، ملتان، فیصل آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں قونصلر دفاتر کھولے جا رہے ہیں مجھے امید ہے کہ اپریل 2022ء کے مقابلے میں آج پر مسرت خارجہ ٹیم چھوڑے جا رہا ہے تمام ممالک کے ساتھ مساوی بنیادوں پر ترجیحی تعلقات ہی پاکستان کی پالیسی کو دوام بخشیں گے بین الاقوامی برادری کا سیلاب کے ردعمل میں کلیدی مدد، طویل المیعاد معاونت اہم کامیابی رہی ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنا، آئی ایم ایف پروگرام بڑی کامیابی تھی۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک ہو اسے بین الاقوامی ضابطوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے افغانستان کو بھی ہم ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں کسی بھی ملک کے لیے اس کے عوام کی سلامتی کلیدی اہمیت رکھتا ہے کابل پر قبضے کے بعد پاکستان میں کس طرح دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہوا، یہ سب ہو پتا ہے افغانستان اگر سفارتی سطح پر اپنے آپ کو تسلیم کرانا چاہتا ہے تو رویے تبدیل کرنا ہو گا۔ ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا کہ نئے آرمی چیف نے انسداد دہشتگردی پر مکمل وضاحت کے ساتھ سامنے آئے دہشتگردی کا معاملہ پاکستان کی اپنی لڑائی ہے دہشتگردوں کو افغانستان سے لا کر پاکستان میں بسانا غلطی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کہا تھا مودی سے خیر کی امید نہیں کہا تھا مودی گجرات کا قصائی تھا، کشمیر کا قصائی بنے گامودی، نہ واجپائی ہے، نہ منموہن ہم سب کو مودی کے حوالے غلط فہمی تھی آج پاکستان کے بیشتر حلقے میرے موقف پر آ چکے ہیں ۔ ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاک، ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر مکمل طور پر پرعزم ہیں پاکستان، ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کی جلد از جلد تکمیل چاہتا ہے ایران کے ساتھ توانائی اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے۔۔انہوں نے کہاپاکستان کا مستقبل پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے منسلک ہے۔اسلام آباد ہرگز گیس پائپ لائن منصوبے سے پیچھے نہیں ہٹے گا ۔پاکستان یہ منصوبہ مکمل کرنے کا پابند ہے۔ پاکستان اور امریکہ تعلقات کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان، امریکہ تعلقات میں بہتری آئی لیکن مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال پر وزیر خارجہ نے کہا پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات کی خرابی کی وجہ تنازعہ کشمیر ہے۔ہندوستان نے تمام دوطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں بکھیریں۔بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر پر غیرقانونی، غاصبانہ قبضہ کیا ہے ۔آئی سی سی اور بھارت اگر پاکستانی ٹیم کو سیکیورٹی فراہم کرے تو اچھا ہو گا۔پاکستان کو بہرحال اپنی کرکٹ ٹیم کی بھارت میں سلامتی بارے تحفظات ہیں۔انہوں نے کہا پاکستانی کرکٹرز کو کسی صورت عالمی کپ میں شرکت سے محروم نہیں کرنا چاہیے۔کھیلوں کو کسی صورت باہمی تعلقات اور سیاست کی نظر نہیں ہونا چاہیے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ ایسے تعلقات ہوں کہ ہم ایک دوسرے کے بازو بنیں۔پاکستان کو بار بار اپنے برادر ممالک کے پاس مدد کے حصول کے لیے نہ جانا پڑے۔پاکستان روس کے ساتھ کلیدی دوطرفہ تعلقات چاہتے ہیں۔پاکستان کے روس کے ساتھ تعلقات کو کسی صورت کسی اور کے زمرے میں نہ دیکھے جائیں۔پاکستان، روس اور یوکرائن تنازعہ کا سفارتی سطح پر پرامن حل چاہتا ہے


