گوادر،چائنہ کمپنی کے قافلے پر مسلح افراد کا حملہ، شہر دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا

گوادر(یو این اے )بلوچستان کے ضلع گوادر میں حکام کے مطابق چینی انجینئرزکے ایک قافلے پر نامعلوم افراد نے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں دو سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے تاہم چینی انجینئرزمحفوظ رہے۔سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں دو حملہ آور بھی مارے گئے۔اتوار کو گوادر پولیس کے ڈی ایس پی چاکر بلوچ نے دو اہلکاروں کے زخمی ہونے اور دو حملہ آوروں کے مارے جانے کی تصدیق کی اور بتایا کہ دو گھنٹے تک فائرنگ کا سلسلہ جاری رہنے کے بعد دوپہر کو رک گیا جس کے بعد کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔تاہم ڈی ایس پی نے حملے کے ہدف سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ حملے کا ہدف گوادر پورٹ جانے والے چینی انجینئرزکا قافلہ تھا تاہم اب تک سرکاری طور پر اس کی کسی نے تصدیق نہیں کی۔گوادر میں تعینات ایک سکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتوار کی صبح گوادر ایئرپورٹ روڈ پر نامعلوم افراد نے اس وقت فائرنگ شروع کر دی جب وہاں سے چینی تعمیراتی کمپنی کا قافلہ گزر رہا تھا- چینی ورکرز اور انجینئرزبکتر بند گاڑی میں ہونے کی وجہ سے محفوظ رہے۔انہوں نے بتایا کہ قافلے کی حفاظت پر سکیورٹی فورسز کے اہلکار تعینات تھے جنہوں نے فوری جوابی کارروائی کی۔ حملہ آور سڑک کے کنارے جھاڑیوں اور سیمنٹ کے بلاکس کے پیچھے چھپے ہوئے تھے جن کے ساتھ فورسز کا دو گھنٹے سے مقابلہ جاری رہا۔ اس دوران علاقہ فائرنگ اور دھماکوں کی آوراز سے گونجتا رہا۔ مقابلے میں کم از کم دو اہلکار زخمی ہوئے ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔جائے وقوعہ کے قریب پاک چائنا ٹیکنیکل انسٹیوٹ، جوڈیشل کمپلیکس، پولیس تھانہ اور سکیورٹی فورسز کے دفاتر بھی واقع ہیں۔حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ گوادر کے داخلی و خارجی راستے بھی بند کر دیے ہیں۔سکیورٹی عہدیدار کے مطابق دو گھنٹے سے زائد جاری مقابلے میں تمام حملہ آور مارے گئے ہیں، ان میں سے دو کی لاشیں تحویل میں لے لی گئی ہیں- ممکن ہے مزید حملہ آور بھی ہوں جن کی تلاش جاری ہے۔انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کے پاس جدید اسلحہ، دستی بم اور بارودی مواد بھی تھا جن کو ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔بلوچستان کے سابق وزیرداخلہ داخلہ بی اے پی کے سینیٹر سرفراز بگٹی نے ٹویٹر پر لکھا کہ میں گوادر میں چینی کارکنوں کے قافلے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن اطلاعات ہیں کہ حملہ پسپا کر دیا گیا ہے اور حملہ آور مارے گئے ہیں۔ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والے کسی رعایر کے مستحق نہیں۔ کالعدم تنظیم بی ایل اے نے حملے کے بعد میں جاری کئے گئے ایک بیان میں اپنے دو حملہ آوروں کے مارے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے ان کے نام بھی جاری کیے ہیں -بیان کے مطابق حملہ آوروں میں ایک کا تعلق بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت نگور تربت اور دوسرے کا ضلع آواران کے علاقے گیشکور سے تھا- اگست 2021 میں گوادر میں ایسٹ بے ایکسپریس وے پر کام کرنے والے چینی انجینئرزپر خودکش حملہ کیا گیا جس میں دو افراد ہلاک اور ایک انجینیئر زخمی ہو گیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں