مردم شماری میں پشتون بیلٹ پر کٹ، بلوچ بیلٹ کی آبادی میں اضافہ نامنظور ہے، بی اے پی

چمن (انتخاب نیوز) حالیہ مردم شماری کے پشتون بیلٹ کی آبادی میں کٹ لگانا اور بلوچ بیلٹ کی آبادی میں اضافہ نامنظور ہے سیاسی اتحاد سیاست کا محور ہیں ان خیالات کا بلوچستان عوامی پارٹی کے سابق صوبائی وزیر ریٹائرڈ کیپٹن عبدالخالق اچکزئی نے پریس کلب چمن میں باچاخان ہال میں ہنگامی اور ہرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ ہم نگران وزیراعظم انورالحق کاکڑ کو مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ وزیراعظم کا تعلق باپ پارٹی ہے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ بلدیاتی الیکشن میں سہہ فریقی سیاسی اتحاد کے نام سے میونسپل کارپوریشن اور ڈسٹرکٹ کونسل کے الیکشن میں ہم نے عوام اور علاقے کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے حصہ لیا جو الحمداللہ کامیابی سے ہمکنار ہو اس میں ایک سیاسی پارٹی کے بے جا تنقید کرنا شروع کیا کہ یہ اتحاد خاص مقصد کیلئے بنایا گیا ہے لیکن یہ اتحاد کسی سیاسی پارٹی یا کسی کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ اتحاد عوامی امنگوں اور خواہشات پر بنایا گیا ہے ماضی میں بھی ایسے سیاسی اتحاد بنتے رہے ہیں مخالفین نے ہم سے اتحاد بنانے کی کوشش کی اور تمام حربے استعمال کئے جس میں وہ ناکام رہے اور یہاں سے ناامید ہوکر بلوچستان عوامی پارٹی کے قائدین کے سفارشات ہرطرف سے کروائے حتی کہ مئیرشہ اور ڈسٹرکٹ چیئرمین شپ کے آفر بھی کئے گئے لیکن ان کو یہ معلوم نہیں کہ ہم ہرچیز سے بڑھ کر علاقائی اور قبائلی روایات زبان اور قول کے پابند اور سیاست میں مثبت سوچ رکھنے والے ہیں . پریس کانفرنس میں انہوں نے مزید کہا کہ ہم چمن شہر میں امن و امان کی خراب صورتحال کی مذمت کرتے ہیں اکثر علاقوں میں حالات انتہائی حد تک خراب ہے علاقے کے عوام اپنی مدد آپ کے تحت اپنے علاقوں میں امن وامان کی صورتحال بہتر کررہے ہیں اور منشیات کے اڈے سرعام چل رہے ہیں جس کا خاتمہ انتہائی ضروری ہیں کیونکہ نوجوان نسل اس موذی لت میں مبتلا ہورہے ہیں جو کہ انتہائی نقصان دہ ہے انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ کئی عرصے سے چمن کے دو حلقوں پر ہم نے اور دیگر سیاسی جماعتوں نے عدالت میں کیس کیا ہوا تھا جس کا فیصلہ اسی دو سیٹوں کے بنیاد پر ہوا جو ہمارے موقف کے مطابق وہی فیصلہ ہوا جو ہم چاہتے تھے کہ گزشتہ جو حلقے بنے تھے وہ حلقے عوام کے درمیان نفرت کا سبب بن رہے تھے ہم عدالت کے اس فیصلے کے حق میں ہیں جو سٹی کیلئے الگ سیٹ اور صدر چمن کیلئے الگ سیٹ ہو انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دور چمن کے ناکام ترین دور میں تھا جس چمن کے عوام کیلئے نفرت قبائلی جھگڑے بدامنی منشیات کے اڈے ٹارگٹ کلنگ چوری ڈکیتی بلکہ چمن کا حلیہ ہی بدل دیا تھا انہوں نے مزید کہا کہ تمام تر ترقیاتی کام مخصوص علاقوں تک محدود تھے انہوں نے پریس کانفرنس میں تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ الکیشن کمیشن کے موجودہ فیصلے کے خلاف یکجاہوکر اقدامات کریں اور پشتون بیلٹ کی آبادی کو کم کرنے خلاف آواز بلند کریں جس میں ضلع قلعہ عبداللہ اور دیگر پشتون بیلٹ متاثر ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں