سیندک سیاسی پینل کا پروجیکٹ بن گیا، علاقہ مکین بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، بابائے چاغی پینل
نوکنڈی (آن لائن) سیندک پروجیکٹ ایک سیاسی پینل کا پروجیکٹ بن گیا ہے سی ایس آر فنڈ کو شیر مادر سمجھ کر نوش فرما رہے ہیں جبکہ سیندک پروجیکٹ اورریکوڈک پروجیکٹ کے ناک تلے شہری تعلیم کی سہولیات سے محروم ہے ایم ڈی سیندک پروجیکٹ کا تعلق چاغی سے ہے۔ ان خیالات اظہار بابائے چاغی پینل کے میڈیا سیل کے ترجمان اجمل نوتیزئی نے گزشتہ روز چاغی کے مختلف علاقوں میں دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ مگرافسوس ہے کہ ایم ڈی سیندک پروجیکٹ کو اس چیز کا کوئی احساس تک نہیں اور پچھلے 5 سالوں سے سکول بند کرکے ہمارے بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھیل رہے ہے سکول میں 90 کے قریب بچے موجود ہے انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن ریشوصفر ہے اورچاغی کو تباہی کے دہانے پر لانے والے موجوہ حکمران اور آفیسر شاہی ہے سکول کے بلڈنگ موجود ہے مگر ٹیچرز نہیں سونے کی چڑیا کہنے والے ڈسٹرکٹ سیندک پروجیکٹ اور ریکوڈک کے وارث تعلیم جیسے زیور سے محروم ہے اورسیندک پروجیکٹ کے ایم ڈی کا تعلق ڈسٹرکٹ چاغی سے ہوتے ہوئے خواب غفلت کی نیند سو رہی ہیں اور اپنے کرپشن میں مصروف و مگن ہے ہمارے بچوں کی مستقبل تاریکی میں ڈوب رہی ہے انہوں نے کہاکہ پاکستان کے تمام اداروں سے دست بستہ گزارش ہے کہ سیندک پروجیکٹ کی سی ایس آر فنڈز کی تحقیقات کریں کس کس کو نوازا کیا گیا ہے اور اسکولوں کی حالت زار آپ لوگوں کیے سامنے ہے ان میں ٹیچرز ہی نہیں انہوں نے کہاکہ سیندھک پروجیکٹ کے سی ایس آر فنڈز سے کم سے کم ٹیچرز بھرتی کرتے تاکہ یہاں کے باسیوں کو تعلیم دلانے میں سیندھک پروجیکٹ کا مثبت اقدام ہوتا انہوں نے کہاکہ ایم ڈی سیندک پروجیکٹ صرف ذاتی گھر کو آباد کرنے کے لیے بیٹھے ہوئے ہیں اپنے بھائی کے نام پر سولر پینل نکال کر اپنے منظور نظر افراد کو نوازا کی جارہی ہے انہوں نے کہاکہ کاش کہ آپ ڈسٹرکٹ کے تعلیم پر توجہ دیتے اور سی ایس آر فنڈز سے ڈسٹرکٹ چاغی کے دیہی علاقوں کے لیے ٹیچرز بھرتی کیا جاتا جس فائدہ یہاں عوام ہوتا۔


