وفاقی حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے،علی مدد جتک

کوئٹہ:کستان پیپلزپارٹی بلوچستان کے صوبائی صدر حاجی علی مدد جتک نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت آخری ہچکیاں لے رہی ہے کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ حکومت کا گھر جانے کا وقت آپہنچا ہے پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ عمران نیازی حکومت پرچی پر لائی گئی حکومت ہے عوامی حکومت نہیں 2 سال میں ملک کو تباہی،بربادی،تکالیف مشکلات کے سوا نیازی نے کچھ نہیں کیا کارکنان الیکشن کی تیاریاں شروع کر لیں پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ اتحادیوں کی وکٹیں اب مزید بھی گرنے والی ہیں ان خیالات کا اظہارانہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے پہلے ہی دن یہ کہہ دیا تھا کہ موجودہ حکومت عوامی نہیں بلکہ سلیکٹڈ اور پرچی پر لائی گئی حکومت ہے اب تو موجودہ حکومت سلیکٹڈ کے بجائے ریجکٹیڈ بھی قرار دی گئی ہے کیونکہ ان کے اپنے ہی اتحادیوں ان پر عدم اعتماد کااظہار کر دیا ہے اب عمران نیازی کی حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے جلد پاکستان کی عوام کو خوشخبری مل جائیگی کہ ملک کو تباہی وبربادی کی دہانے پر پہنچانے والے گھروں کو روانہ ہوگئے ہیں موجودہ وفاقی حکومت یہ نہ سمجھیں کہ وہ حکومت و چھوڑ دیں گے پاکستان کی عوام ان سے ایک ایک روپے کاحساب لے گی انہوں نے کہا کہ موجودہ وفاقی حکومت نے 2سالوں میں ملک کو خوشحالی وترقی تو درکنار بلکہ ملک کو اندھیروں کی جانب دھکیل دیا ہے اور عوام کو موجودہ کٹھ پتلی حکومت سے مایوسی،تکالیف اور مشکلات کے سوا کچھ نہیں ملا ملک کو مزید تباہی وبربادی کی دہانے پر نہیں چھوڑ سکتے انہوں نے کہا کہ کارکنان سے کہتا ہوں کہ الیکشن کی تیاریاں شروع کر لیں جلد دوبارہ الیکشن کا اعلان کر دیا جائے پاکستان پیپلز پارٹی غریبوں کی جماعت ہے روز اول سے عوام کی حقوق کی پاسداری ملک کی ترقی وخوشحالی انسانی حقوق،بے روزگاری کی خاتمے سمیت دیگر مسائل پر نہ صرف آواز بلند کی بلکہ بھر پور جدوجہد کے ذریعے مذکورہ بالا حقوق حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوئی پیپلز پارٹی آج کی جماعت نہیں ہے شہید ذوالفقار علی بھٹو ان کی بیٹی شہید بینظیر بھٹو اور اب ان کا بیٹا بلاول بھٹو زرداری بھی پاکستان کی ترقی،خوشحالی اور عوام کی حقوق کیلئے میدان میں ہیں گوہ کہ بھٹو خاندان نے نہ صرف جانوں کی قربانیاں دی بلکہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کی ہیں ہم ان کٹھ پتلیوں کے دھونس اور دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں ہمیں حق لینا بھی آتا ہے اور حق چھیننا بھی ا ٓتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں