افسران کی مفت بجلی ختم کرنا صرف مذاق ہے، بلوں میں بھاری ٹیکسز ختم کیے جائیں، مرکزی انجمن تاجران بلوچستان

کوئٹہ(یو این اے )مرکزی انجمن تاجران بلوچستان(رجسٹرڈ) کے رہنماﺅں نے کہاہے کہ واپڈا کے بڑے افسران کی مفت بجلی ختم کرنا صرف مذاق ہے ، باقی ملازمین کیلئے بجلی مفت کیوںہے؟عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈال کر اشرافیہ اور بیوروکریسی عیاشی میں مصروف ہیں ، ملک بھر میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح 44 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ گئیں ایک غریب شخص اس مہنگائی میں کیسے گزارا کرے گا؟مل ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔آج مرکزی انجمن تاجران بلوچستان احتجاجی ریلی نکالے گی ۔ان خیالات کااظہار مرکزی انجمن تاجران بلوچستان(رجسٹرڈ) کے صدر عبدالرحیم کاکڑنے سینئر نائب صدر یاسین مینگل،قائم مقام جنرل سیکرٹری حاجی ظفر گلستان،سیکرٹری اطلاعات سید عبدالخالق آغا،چیئرمین حاجی سعد اللہ اچکزئی ،ڈپٹی چیئرمین حاجی محمد ہاشم کاکڑاور اتحاد تاجران سید حسن آغا، سید شاہ رضا، حاجی جہانگیر لانگو، حاجی اللہ داد اچکزئی کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)صوبے کے تاجر برادری کی نمائندہ تنظیم ہے جس نے تاجروں کو درپیش مسائل کو اجاگر کرنے کے ساتھ عوامی مشکلات کے حل کیلئے بھرپور جدوجہد کی ہے جو صحافیوں کے سامنے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آل پاکستان انجمن تاجران کی کال پر بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلوں کے علاہ مہنگائی کے خلاف کل 29 اگست بروز منگل کو ملک گیر احتجاج اور مظاہرے کئے جائیں گے، اس سلسلے میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کی جانب سے مرکزی صدر اجمل بلوچ کی اس حوالے سے احتجاج کی بھرپور حمایت کا اعلان اور کل مظاہرے کئے جائیں گے۔ادارہ شماریات کے گزشتہ ہفتے کی رپورٹ ہے کہ ملک بھر میں مہنگائی کی شرح انتہائی بلند سطح 44 فیصد سے بھی تجاوز کر گئی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھ گئیں ایک غریب شخص اس مہنگائی میں کیسے گزارا کرے گا؟ملک میں اس وقت بد ترین مہنگائی ، بےروزگاری اور بدامنی کا دور دورہ ہے۔ گیس بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ، گیس پریشر میں کمی نے عوام کو اذیت ناک صورتحال سے دوچار کیا ہے۔ ایک لیٹر پیٹرول 291 روپے ہیں ڈیزل کا یہی عالم ہے۔تاجر برادری اور عوام کی جانب سے ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور بھاری بھرکم بلوں کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، گزشتہ تین دنوں سے ملک کے مختلف شہروں میں تاجر برادری اور عوام نے مہنگی بجلی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔حالات مہنگائی سے آگے نکل کر تباہی کے قریب پہنچ چکے ہیں، 16 ماہ اور اس سے قبل کی حکومت نے تباہی مچائی، 5 لاکھ کا سوٹ اور 10 کروڑ کی گاڑی حکمران استعمال کریں لیکن ٹیکس چوری کا الزام تاجروں پر آتا ہے۔تاجر برادری کا سوال ہے کہ بڑے واپڈا افسران کی مفت بجلی ختم کرنا مذاق ہے ، باقی ملازمین کیلئے بجلی مفت کیوں؟ملک بحرانواں میں گر چکا ہے مہنگائی ملک کے عوام کی دسترس اور برداشت سے نکل چکی ہے ۔ آج ملک میں گیس اور بجلی ، آٹے کا بحران کے ساتھ قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے مہنگائی نے عوام کا جینا دوبھرکردیا ہے ، عام آدمی صبح وشام کی ضرویات سے محروم ہوگیا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی کا زندگی گزارنا ناممکن ہوگیا ہے ۔ساتھ ہی ساتھ ملک کے عوام کو سخت ترین مہنگائی ، بدترین بیروزگاری کا سامنا ہے جس کا ازالہ کرنا وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے۔ملک اور صوبوں میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتیں مکمل طور پر ناکام ہوچکے ہیں حکومت میں عوامی مشکلات کے ازالے میں مکمل طور پر ناکام ہیں۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ)کا بحیثیت نمائندہ تنظیم نگران حکومت سے مطالبہ ہے کہ بجلی سمیت دیگر زائد تمام ٹیکسز کو ختم کیا جائے کیونکہ تاجروں کیلئے کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا، ملک کا ہر شہری ڈیفالٹ کر چکا ہے، حالات سول نافرمانی کا اشارہ دے رہے ہیں جس کے بعد تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ اپنے تمام یونٹوں، عوام الناس اور تاجر برادری سے اپیل ہے کہ وہ احتجاجی مظاہرے میں بھرپور حصہ لیکر یہ پیغام دیں کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کسی ظالمانہ اقدام کو نہیں مانے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں