قدرتی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود ماشکیل بنیادی سہولیات سے محروم اور پسماندہ ہے، اہل علاقہ
کوئٹہ (آن لائن) میر احسان الہٰی ریکی، میر جینئد خان ریکی نے کہا ہے کہ تحصیل ماشکیل پسماندگی کا شکار ہے۔ تعلیم، صحت، روڈ، کمیونیکیشن سمیت دیگر سہولیات کا فقدان ہے ماشکیل میں تمام سہولیات ناپید ہونے کے باوجود خداوند کریم کی ایک نعمت پانی موجود ہے ماشکیل سے پانی کو بے دریغ طریقے سے نکال کر چاغی کو دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے اس کی مذمت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی اس موقع پر میر نصیر ریکی، سردار زادہ گہرام ریکی، حاجی عبدالرشید ریکی، میر سعید احمد ریکی، میر عبدالبصیر ریکی، میر خرم رند بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ ماشکیل کے لوگوں کا ذریعہ معاش سرحدی کاروبار سے منسلک علاقہ میں کئی تعلیمی ادارے موجود ہیں لیکن ان میں سے صرف 2 فعال ہیں باقی بند ہیں۔ صحت، روڈ، کمیونیکیشن سمیت دیگر سہولیات کا فقدان ہے حکومتی سطح پر علاقہ کی تعمیر و ترقی پر کوئی توجہ نہیں دی گئی پسماندگی کی تصویر بنی ہوئی ہے۔ علاقہ میں خداوند کریم کی پیدا کردہ ایک نعمت پانی ہے۔ لوگوں کا ذریعہ معاش سرحدی کاروبار اور کھجور کے باغات پر منحصر ہے جس سے اپنے بال بچوں کا گزر بسر کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ایک منصوبہ کے تحت ماشکیل سے پانی نکال کر چاغی کو دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ ضلع چاغی کا پانی کھارا ہے اگر ایسا کیا گیا تو علاقہ سے پانی کی سطح گر جائے گا اور آنے والے دور میں لوگ پانی کے بوند بوند کو ترس جائیں گے۔ علاقہ بنجر اور نخلستان کا منظر پیش کرے گا۔ ہم حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چاغی کے علاقے سے کھارا پانی کو میٹھا بنانے کا منصوبہ بنایا جائے کیونکہ چاغی میں سونے کے کان اور حکومتی سہولیات موجود ہونے کے باوجود ماشکیل روز اول سے پسماندہ ہے اسے مزید پسماندگی کی طرف دھکیلنے سے گریز کیا جائے۔ گزشتہ دو سال قبل نوکنڈی ٹو ماشکیل سڑک کا ٹینڈر ہوا تھا تا حال کام شروع نہیں ہوسکا۔ بارانی پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کے لئے ڈیم کی اشد ضرورت ہے تاکہ بارش کا پانی زخیرہ کرکے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ استحصالی پالیسیاں ترک کرکے علاقہ کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لئے حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے مطالبات پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو ہم راست قدم پر اٹھانے پر مجبور ہوں جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔


