وڈھ میں جنگ اسٹیبلشمنٹ نے مسلط کی، پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان کے عہدے سے مستعفی ہوتا ہوں، ساجد ترین
کوئٹہ (پ ر) پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل پراسیکیوٹر جنرل کے عہدے کو قبول کرنے کی واحد وجہ بلوچستان کے لوگوں کی خدمت کرنا تھا اور اس بات کی خوشی ہے کہ اپنے اختیارات سے بڑھ کر اپنے فرائض انجام دیے، اس کے ساتھ ان کا کہنا تھا کہ منصوبے و سوچی سمجھی سازش کے تحت قومی راہشون سردار عطاءاللہ خان مینگل کے گھر وڈھ اور قبر پر اسٹیبلشمنٹ کے ڈمی کرداروں کے ذریعے ایک جنگ مسلط کی گئی ہے، جس کی واضح مثال موجودہ نگران حکومتیں ہیں جن کا واحد کام بلوچستان کے لوگوں کے بنیادی حقوق کیخلاف کام کرنا ہے۔ ساجد ترین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ بطور پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان اپنی ذمے داریاں بخوبی نبھائیں لیکن کسی کو بھی اپنے اختیارات میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی، موجودہ نگران حکومتوں کے آنے کے بعد واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ پاکستان میں بالخصوص بلوچستان میں مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے مسئلے جیسے لاپتہ افراد و دیگر میں کمی کے بجائے اضافہ ہوا ہے۔ سردار عطاءاللہ خان مینگل کی دوسری برسی کے موقع پر ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے ان کی نظریے پر چلتے ہوئے آج اپنے عہدے پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان سے مستعفی ہوتا ہوں، نہ پہلے کبھی عہدوں کی پرواہ کی اور نہ اب کرتا ہوں۔ سمجھتا ہوں کہ ایک سیاسی ورکر کے لیے نظریات سے بڑھ کر اور کچھ معنی نہیں رکھتا، چاہے وہ عہدے ہوں یا مراعات۔ مشرف مارشل لاءکے دوران بطور قائم مقام صدر بی این پی جب جیلوں اور زندگی کی پرواہ نہیں کی جب مجھ پر 16 سے زائد تخریب کاری کے جعلی مقدمے بنائے گئے، تب بھی اپنے نظریات پر کھڑا رہا اب تو صرف ایک عہدہ ہی چھوڑنا تھا میں نے سیاست باچا خان، سردار عطاءاللہ خان مینگل، ولی خان اور ان جیسے دیگر بڑے لیڈران کے بیچ میں رہ کر سیکھی اور یہ جانا کہ ایک سیاسی ورکر کیلئے نظریات سے بڑھ کر اور کچھ بھی نہیں۔


