بلوچستان کو بحرانی حالات سے سنجیدہ قیادت ہی نکال سکتی ہے، نیشنل پارٹی

کوئٹہ (انتخاب نیوز) گزشتہ 5 سال میں بلوچستان کے حالات انتہائی سنگین ہوچکے۔ بلوچستان کو ان حالات سے نیشنل پارٹی کی سنجیدہ قیادت ہی نکال سکتی ہے۔ نیشنل پارٹی کوئٹہ کے زیر اہتمام شمولیتی تقریب پارٹی کے تحصیل آفس برمہ ہوٹل سریاب روڈ میں منعقد ہوئی۔ شمولیتی تقریب میں کلی نیک محمد اور کلی ابراہیم زئی سے تعلق رکھنے والے درجنوں سیاسی کارکنان نے اپنی جماعتوں سے مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ شمولیتی تقریب میں نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر دوئم ڈاکٹر اسحاق بلوچ، رکن مرکزی کمیٹی و ضلع صدر کوئٹہ حاجی عطاءمحمد بنگلزئی، صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد دہوار، تحصیل نائب صدر ڈاکٹر عطا اللہ لہڑی، تحصیل انفارمیشن سیکرٹری میر اسرار قمبرانی، شمس بنگلزئی، دانش لہڑی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013ءسے قبل بلوچستان مکمل طور پر آگ کی لپیٹ میں تھا، کوئٹہ میں کوئی چوک یا روڈ محفوظ نہیں تھا، آئے روز ٹارگٹ کلنگ، چوری ڈکیتی اور اغوا برائے تاوان کے واقعات رونما ہوتے تھے۔ تاہم یہ کریڈٹ نیشنل پارٹی کو جاتا ہے کہ اپنے مختصر ڈھائی سالہ دور حکومت میں پولیس تھانوں کو خود مختار کرکے ان جرائم پیشہ گروہوں کا نہ صرف خاتمہ کیا بلکہ امن بھی بحال کیا، بلوچستان میں صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات اٹھائے جس کے ثمرات آج بھی بلوچستان کو مل رہے ہیں۔ نیشنل پارٹی کی سنجیدہ قیادت نے محض ڈھائی سال میں یہ ثابت کر دکھایا کہ بلوچستان کی قیادت کی اہلیت صرف نیشنل پارٹی کی سنجیدہ قیادت کے پاس ہے جس کے معترف پاکستان بھر کے معتبر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور ادارے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیشنل پارٹی کی کارکردگی اور بہترین وژن کی بدولت آج بارکھان سے لیکر گوادر تک عوام جوق در جوق نیشنل پارٹی میں شمولیت اختیار کررہے ہیں جس سے مستقبل قریب کی منظر کشی واضح ہورہی ہے کہ آنے والے انتخابات میں عوامی قوت اور اعتماد کی بدولت نیشنل پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہوگی۔ انہوں نے پروگرام کے آخر میں نئے شامل ہونے والے دوستوں کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہیں پارٹی پرچم بھی پہنایا۔ جبکہ نئے شامل ہونے والے دوستوں میں حاجی محمد ابراہیم رند، بابو رند، حافظ اکرام رند، دانش حسین لہڑی، نور یاسین لہڑی، شاہ رخ خان لہڑی، جمشید علی لہڑی، مختار لہڑی، تاج محمد بنگلزئی، احسان لہڑی، عزیز احمد اچکزئی، شعیب احمد گجر، نظام الدین لہڑی، عزیز احمد لہڑی، نوروز احمد لہڑی، شامل تھے جنہوں نے اپنے ہم خیال دوستوں اور خاندان سمیت مختلف سیاسی جماعتوں سے مستعفی ہوکر نیشنل پارٹی میں شامل ہوگئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں