مرکز کی جانب سے تنظیم میں مداخلت مسائل پیدا کررہے ہیں، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان

کوئٹہ (آن لائن) پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان کے صدر گلفراز ناصر نے تنظیم میں غیر آئینی معاملات کے ذریعے مداخلت کرکے مسائل پیدا کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دنوں صوبائی کابینہ کے اجلاس میں اتفاق رائے سے رزاق عاصم کی بطور جنرل سیکرٹری تعیناتی کو غیر آئینی قرار دیکر عہدے سے سبکدوش کیا گیا اور صوبائی صدر کو بھی نا اہل قرار دیتے ہوئے عہدے سے برطرف کرکے مجھے صوبائی صدر اور سخی جنون کو جنرل سیکرٹری سمیت دیگر عہدیداروں کا انتخاب کرلیا گیا ہے تمام فیصلوں کی 15 اراکین میں سے 8 نے کثرت رائے سے توثیق دی ہے یہ بات انہوں نے ہفتہ کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کہی انہوں نے کہا کہ پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن بلوچستان میں عوامی نیشنل پارٹی کی اتحادی تنظیم کے طور پر ملک بھر میں پشتون طلباءکے حقوق کے حصول کےلئے کوشش کررہی ہے جس نے ہمیشہ پشتون افغان وطن میں عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ ملکر پائیدار امن کے ساتھ قومی جغرافیہ کو متحد کرنے کےلئے کاربند ہیں اور روز اول سے ہی طلباءکو درپیش مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہے تنظیم عرصہ دراز سے اندرونی بحران کا شکار ہے جس کی وجہ سے مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوئی تھی انہوں نے کہا کہ آج ہم میڈیا کے توسط سے عوامی نیشنل پارٹی کی توجہ تنظیمی بحران کی مبذول کرانا چاہتے ہیں جوکہ عرصہ سے اندرونی خلفشار گروپ بندیوں کا شکار ہے اور اس بحران کے مرکزی کردار مرکزی صدر ملک احتشام الحق ہوت ، مرکزی جنرل سیکرٹری ہیں۔ اور تنظیم اپنی اکثریت اور کارکنوں کا اعتماد کھو چکی ہے جس طرح سندھ میں تین دھڑوں میں تقسیم ہے مرکزی صدر کی جانب سے اپنی سلیکشن کے ایک سال 9 ماہ کی طویل مدت کے بعد مجلس عاملہ کا اجلاس کی ناکامی کے بعد پالیسی بیان جاری نہ کرنا لمحہ فکر ہے۔ تنظیم کو یکجا کرنے کی تمام کوششوں پر پانی پھیر لیا گیا ہے اسی طرح پنجاب کی تنظیم مرکزی تنظیم سے لا تعلق اختیار کرچکے ہیں ان کا کہنا تھا کہ مرکزی صدر کو بلوچستان کی کابینہ اراکین کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ تنظیم میں مرکز کی جانب سے مداخلت ہورہی ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے عہدیداروں کو نوٹس دیئے جارہے ہیں جو درست نہیں اور بلوچستان کی تنظیمی معاملات میں بلا وجہ مداخلت کرکے حالات کو بگاڑا جارہا ہے مرکزی تنظیم اور صوبائی آرگنائزر بھی اس پر کوئی لائحہ عمل نہیں اپنا سکیں جنہیں بار بار حالات سے آگاہ کیا گیا ان کا کہنا تھا کہ تنظیم پر ایک سرکاری ملازم کو صوبائی جنرل سیکرٹری مسلط کیا گیا اور یونٹ کے عہدیداروں کو عہدوں سے سبکدوش کیا جاتا رہا اور حالات کو کشیدہ بنایا گیا بعد میں صوبائی صدر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک جمع کرائی گئی اور 28 اگست کو صوبائی کابینہ کے اجلاس میں رزاق عاصم کی تعیناتی غیر آئینی قرار دیکر سبکدوش کرکے ہٹایا گیا اسی طرح صوبائی صدر کو نا اہل قرار دیتے ہوئے عہدے سے برطرف کیا گیا اور مجھے صوبائی صدر اور سخی جنون کو جنرل سیکرٹری جبکہ سید ہمایوں شاہ کو ڈپٹی جنرل سیکرٹری ، غزال حمید کو جوائنٹ سیکرٹری ، پلوشہ خان کو نائب صدر خواتین جبکہ آسیہ کو جوائنٹ سیکرٹری خواتین اور اکرام اللہ کو انفارمیشن سیکرٹری ، عارف خان کاکڑ کو سوشل میڈیا سیکرٹری مقرر کیا گیا اور قائمقام صدر کی حیثیت سے تمام فیصلوں کی پندرہ اراکین میں سے آٹھ کی اکثریت سے توسیق کی اور تنظیم کی آئین کی روشنی میں تمام فیصلوں کی منظوری جلد صوبائی مجلس عاملہ سے لی جائے گی۔ ہماری عوامی نیشنل پارٹی کے صدر اصغر خان اچکزئی اور تمام کابینہ اراکین کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ وہ پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کی اندرونی تنطیمی فیصلوں کا خیر مقدم کرتے ہوئے وجودمیں آنے والی تنظیم کو ساتھ لیکر چلے ہم اے این پی کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے ہماری کوشش ہے کہ تنظیم کو آئین کی اصل روح کے ساتھ عملی بنیادوں پر حل کرکے آگے بڑھے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے تنظیم میں مرکزی اور صوبائی حوالوں سے مداخلت کرکے نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوتی رہی ہے اب ایسا نہیں ہونا چاہئے پہلے ہی بہت نقصان ہوچکا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں