طور خم بارڈر پر ہزاروں گاڑیوں کی قطاریں ، سرحدی کشیدگی پر مذاکرات
لنڈی کوتل (این این آئی)لنڈی کوتل میں طورخم سرحدی گزرگاہ پانچویں روز بھی بند رہی جس کے باعث تجارتی سرگرمیوں سمیت ہر قسم کی آمدورفت معطل رہی۔سیکیورٹی ذرائع کے مطابق طورخم سرحد کی دونوں جانب ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں۔تاجروں نے مطالبہ کیا کہ تازہ پھل اور سبزیوں سے لدی گاڑیوں کو بارڈر پار کرنے کی اجازت دی جائے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق چیک پوسٹ کے قیام کے تنازعے پر پاک افغان فورسز کے درمیان پانچ روز قبل مسلح جھڑپ ہوئی تھی۔افغان سیکورٹی ذرائع کے مطابق پانچ روز قبل ہونے والی فائرنگ میں دو افغان سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔دوطرفہ فائرنگ میں ایک ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوا تھا۔ علاوہ ازیں طورخم سرحدی گزرگاہ پر کشیدگی کے حوالے سے پاک افغان وفود کا اجلاس ہوا جس میں ایف سی حکام کے مطابق سرحدی گزرگاہ پر آمد و رفت کی بحالی کو وفاقی حکومت کی اجازت سے مشروط کیا گیا ہے۔حکام نے کہا کہ طورخم سرحدی گزرگاہ کی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے جلد بحالی کا امکان ہے۔ایف سی حکام نے کہا کہ طورخم سرحد 5 روز قبل دو طرفہ فائرنگ کے بعد بند کی گئی تھی۔


