بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ تنظیموں کو کمزور اور بلیک میل کرنے کی غلطی کر بیٹھی، اے این پی

کوئٹہ (یو این اے) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی بیان میں گزشتہ روز بلوچستان یونیورسٹی میں یونیورسٹی انتظامیہ کی موجودگی میں پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر طاہر شاہ کاکڑ جوائنٹ سیکرٹری ایمل تارن رکن مرکزی کمیٹی ایاز خان اور دیگر ذمہ داران پر حملہ انہیں زد کوب کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاگیا ہے کہ بلوچستان یونیورسٹی انتظامیہ عرصہ دراز سے یونیورسٹی کے اندر غیر سیاسی غیر جمہوری طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں صوبے کے حقیقی قوم دوست وطن دوست پشتون بلوچ تنظیموں کے مقابلے میں غیر سیاسی گروہ کی آبیاری کر کے غیر سیاسی ماحول کو دوام بخشا جارہاہے اور باقاعدگی سے اوٹ سائیڈرز کو یونیورسٹی کے ہاسٹلز میں رہائش دلوائی گئی ہیں سابق وائس چانسلر کے دور میں "یوبین "کے نام سے تنظیم بناکر پہلے حقیقی تنظیموں کو آپس میں دست وگریباں کیا گیا جس سے غیر سیاسی غیر اخلاقی ماحول کو قوت ملی بیان میں گورنر بلوچستان جو یونیورسٹیوں کے چانسلر بھی ہے ان سے مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان یونیورسٹی اور بیوٹمز یونیورسٹی میں طلبا اور طالبات کو درپیش مشکلات کے حل کیلئے اپنا کرردار اداکریں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی دفتر باچاخان مرکز سے جاریکردہ صوبائی بیان میں صوبے بھر کے درسگاہوں باالخصوص بلوچستان یونیورسٹی اور بیوٹمز یونیورسٹی میں طلبا اور طالبات کو درپیش سنگین مصائب و مشکلات پر گہری تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے کی درسگاہیں گزشتہ دو عشروں سے زبوں حالی کا شکار ہے یونیورسٹی انتظامیہ طلبا تنظیموں کو کمزور کرنے انہیں بلیک میل کرنے کی غلط راہ کا انتخاب کر بیٹھی ہے حقیقی قوم دوست وطن دوست پشتون بلوچ طلبا تنظیموں کے مقابلے میں ضد سیاست اور ضد قومیت طلبا کی کھیپ تیار کی جارہی ہے جس کا ہدف اور مرام طالبعلموں میں قوم وطن جغرافیہ زبان کلچر سے دوری ہے اس کام کیلئے بلوچستان یونیورسٹی میں "یوبین” کے نام سے نام نہاد تنظیم بنائی گئی جو دن رات مسلح ہو کر یونیورسٹیوں میں دندناتے پھرتے ہیں ایف آئی آرز کے باوجود جرائم پیشہ افراد یونیورسٹیوں کو محفوظ پناگاہیں سمجھ کر ہر قسم کی زیادتیاں کررہے ہیں بیان میں گورنر بلوچستان جو یونیورسٹیوں کے بلحاظ عہدہ چانسلر بھی ہے اس تمام تر صورتحال کا نوٹس لیکر پرامن تعلیمی ماحول کے قیام کیلئے اپنا فرض بروقت ادا کریں اس سے پہلے کہ علمی درسگاہیں مزید تباہی کے دہانے کھڑے ہوں بیان میں گزشتہ روز پشتون سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صوبائی صدر طاہر شاہ کاکڑ صوبائی جوائنٹ سیکرٹری ایمل خان تارن اور رکن مرکزی کمیٹی ایاز خان پر یونیورسٹی انتظامیہ کی موجودگی میں حملہ کرنیوالوں کے خلاف کاروائی عمل میں لانیکا مطالبہ کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں