بلوچستان کے کسانوں کو ٹریکٹر، سولر سسٹم سمیت زرعی قرض دیے جائیں، نیشنل پارٹی
تربت (یو این اے) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی تعاون سے حبیب بینک لمیٹڈ کے زیر اہم زرعی بینکنگ پروگرام کے تحت کسانوں کی مالی خواندگی اور آگاہی کا پروگرام شروع کیا گیا۔ حبیب بینک لمیٹڈ بلوچستان کے کسانوں کو ٹریکٹر، سولر سسٹم سمیت زرعی مقاصد کیلئے قرضوں تک رسائی کو بہتر بنانے اور دیگر معاملات کے حوالے سے آگاہی دینے کیلئے ایس پی او میں ایک روزہ پروگرام کا انعقاد کیا ۔ پروگرام کے مہمان خصوصی ڈپٹی کمشنر کیچ حسین جان بلوچ اور نیشنل پارٹی کے سینیٹر کہدہ اکرم دشتی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کو نچلی سطح پر زرعی قرضوں کی فراہمی سے زرعی شعبے کو نمایاں ترقی حاصل ہوگی اور یہ پروگرام بلاشبہ اسٹیٹ بینک کا بہترین عزم ہے ۔ڈی سی حسین جان نے کہا کہ یہاں کے لوگوں کی زیادہ تر ترجیحات بارڈر پر وابستہ ہے ، وہ کاشت کاری پر توجہ نہیں دیتے ہیں ، ان کی توجہ صرف اور صرف بارڈر پر مرکوز ہے ۔ آگاہی پروگرام نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں شعور کا فقدان ہے لوگ سمجھتے ہیں کاشت کاری منافع بخش کام نہیں ہے۔ ی سی کیچ نے کہاکہ حبیب بینک لمیٹڈ لوگوں کو ایک بہترین آفر فراہم کر رہا ہے اس سے بڑی کوئی اور پیکج نہیں ہے حبیب بینک لمیٹڈ صرف 7 فیصد آسان شرائط پر قرضہ فراہم کر رہا ہے لوگ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر ایگریکلچر پر کام کریں ۔ صرف باڈر تک محدود نہ رہیں باڈر کے ساتھ ساتھ دوسرے کام بھی کریں ۔ ڈپٹی کمشنر کیچ نے زور دیتے ہوئے شعبہ بینکاری کاشت کاروں کو آسان قرضے فراہم کریں انہوں نے کاشتکاروں پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان قرضوں کا بہتر استعمال کی کریں ۔ کہدہ اکرم دشتی نے کہاکہ ہمارے یہاں لوگوں کی بیشتر معیشت سمندر سے وابستہ ہے۔ میرانی ڈیم کی تعمیر سے کے وقت حبیب بینک لمیٹڈ کو چاہیے تھے اس وقت یہ پلاننگ شروع کر دیتے تو لوگ بڑھ چڑھ کر بینک میں لون لیتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہمارے یہاں سب کچھ الٹا ہے گوادر میں پورٹ تو بنایا گیا ہے مگر وہاں نہ روڈ ہے نہ بجلی حتی کہ پینے کے لئے پانی تک دستیاب نہیں ہے۔ اس ملک کو 76 سال ہوگئی ہے مگر اب تک چلنے سے قاصر ہے دوسروں کے سہارے کے بغیر چل نہیں سکتا ہے۔ انہوں نے کسان بھائیوں کو زور دیتے ہوئے کہا وہ اب حبیب بینک کی طرف سے اس پیشکش کو قبول کریں۔ حبیب بینک لمیٹیڈ مکران ڈویژن کے ایریا منیجر عبدالوہاب شوہاز ، ایگریکلچر فنانسنگ کی ٹیم لیڈر محمد انور ، منیجر منیر شاہی اور ایریا آپریشن منیجر کفایت اللہ اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کا بنیادی مقصد کسانوں کو زرعی قرضے کے حصول طریقہ کار وغیرہ سے آگاہ کرنا ہے پروگرام میں بتایا گیا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے حبیب بینک لمیٹڈ کے اشتراک سے صوبے کے منتخب اضلاع میں کسانوں کی مالی خواندگی اور زرعی قرضوں سے آگاہی کے پروگرام شروع کیا ہے ایگریکلچر فنانسنگ کی ٹیم لیڈر محمد انوار نے کہا ہے کہ ملک میں زرعی قرضوں تک رسائی بڑھانے میں بہت سی دشواریوں کا سامنا ہے جن میں سے ایک اہم دشواری مالی خواندگی کا فقدان اور کاشتکاروں کو دستیاب مالی خدمات آگاہی کی کمی ہے۔ اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اسٹیٹ بینک کی تعاون سے صوبے میں زرعی قرضوں کے بارے میں کاشتکاروں کی مالی خواندگی اور آگاہی کا پروگرام شروع کیا ہے تاکہ نچلی سطح پر بینکاری خدمات کا شعور اور آگاہی پیدا کی جا سکے۔ ان پروگراموں کا مقصد کاشت کار طبقہ کو حبیب بینک لمیٹڈ کی طرف سے فراہم کی جانے والی زرعی قرضہ کی مصنوعات و خدمات رقم کو بہتر استعمال کرنے کے طریقوں اور قرض دینے کے طریقوں بشمول دستاویزی ضروریات بطور قرض دار کاشت کاروں کے حقوق و فرائض وغیرہ کے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہے۔ اس پروگرام سے پالیسی سازوں، عمل درآمد کے اداروں، خدمات فراہم کرنے والوں اور کاشت کار برادری سمیت زرعی قرضہ تک رسائی بہتر بنانے کے لئے کوشاں تمام متعلقہ طریقوں کی کوششوں کو ہم آہنگ کرنے میں مدد ملے گی۔ اس پروگرام میں حبیب بینک کی طرف سے حبیب بینک کے ایریا مینیجر عبدالوہاب شوہاز ، ایگریکلچر ٹیم لیڈر محمد انور ، منیجر منیر شاہی اور ایریا آپریشن منیجر کفایت اللہ شریک تھے ۔ ایریا منیجر عبدالوہاب شوہاز نے حبیب کی طرف کسانوں کو مالی خواندگی اور آسان قرضہ لینے کے متعلق کسانوں کو آگاہ کیا۔ محمد انوار ایگریکلچر ٹیم لیڈر نے حبیب بینک سے قرضہ لینے کے شرائط و ضوابط بتائے اور کہا قرضہ لینے کی مدت 3 سال سے پانچ سکا تک ہے اور قرضہ لینے والے کی عمر 18 سال سے 75 سال تک ہونی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا قرضہ لینے کی درخواست پر عملدرآمد اور قرض کی فراہمی کا مختصر اور آسان عمل ہے ۔ انہوں نے کہا پاکستان بھر میں یہ سہولت دستیاب ہے حبیب بینک رعایتی قرضہ جات میں صرف 7 فیصد مارک اپ ہے ۔ حبیب بینک لمیٹڈ کی طرف کاشتکاروں کو ٹریکٹر ، سولر اور کاشتکاری کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں گے اس پروگرام ضلع کونسل کیچ کے ڈپٹی چیئرمین باہڈ جمیل دشتی ، محکمہ خوراک کے ڈپٹی ڈائریکٹر یونس بلوچ ،میجر جمیل دشتی ، ڈاکٹر سلیم ، حاجی شوکت ، حاجی عطا محمد ، شے مقبول عالم سمت زمینداروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔


