بلوچ تخریب کار نہیں، ایرانی بارڈر سے اشیا خورونوش کو اسمگلنگ کا نام دینا ریاست کی ناکام پالیسی ہے، نیشنل پارٹی

پنجگور (نامہ نگار) نیشنل پارٹی اور بی ایس او بچار ضلع پنجگور کے زیر اہتمام پاک ایران بارڈر کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں پر قدغن، پنجگور کے امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کیخلاف عوامی ریلی اور مظاہرہ۔ ریلی میں ہزاروں افراد کی شرکت ریلی بازار کے مختلف شاہراہوں پر گشت کرتے ہوئے بسم اللہ چوک اخباری دفاتر کے سامنے جلسے کی شکل اختیار کرگیا۔ ریلی کے شرکاءنے بارڈر کی بندش کے خلاف شدید نعرہ بازی کیا بارڈر کی بندش نامنظور بلوچوں کی معاشی قتل عام نامنظور پنجگور کے امن وامان بحال کرنے کے حق میں نعرہ لگایا۔ ریلی کی قیادت نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءحاجی محمد اسلام بلوچ مرکزی رہنماءپھلیں بلوچ حاجی صالح محمد بلوچ حاجی ایوب دھواری حاجی اکبر بلوچ عبدالمالک صالح فرہاد شعیب نے کی جس میں جمعیت علماءاسلام کے رہنماءحاجی عبد العزیز بلوچ بارڈر بچاو¿ تحریک کے سعود بلوچ، انجمن تاجران کمیٹی کے سابق صدر حاجی خلیل احمد دھانی بھی ریلی میں شامل تھے۔ احتجاجی ریلی سے نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ نے کہا کہ پاک ایران بارڈر میں یہاں کے عوام کی روزگار گزر بسر کا واحد زریعہ ہے بارڈر مین کاروبار ابھی سے نہیں بلکہ برسوں سے جاری جس میں غریب عوام کھٹن اور مشکل حالات کو برداشت کرتے ہوئے تیل اور اشیاءخورونوش بارڈر سے لاکر اپنی بچوں کا پیٹ پالتے ہیں یہاں کوئی ڈالر منشیات غیر ممنوعہ چیز اسمگلنگ نہیں ہوتی ہے نہ کوئی ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے کہ یہاں سے منشیات اسلحہ برآمدگی ہوئی ہے، بارڈر کی بندش اور کاروبار سرگرمیوں پر پابندی کا حالیہ فیصلہ صرف یہاں کے عوام کی معاشی قتل کے علاو¿ہ کچھ نہیں ہے افسوس کا مقام پر بالائی سطح پر جب بھی کوئی فیصل کیا گیا ہے ہمیشہ یہاں کے عوام کی خواہشات کے برعکس کیا گیا ہمیں بحیثیت ایک فیڈریشن اور قوم تسلیم کرنے کے بجائے بلوچستان کے عوام کے ساتھ متعصبانہ رویہ اختیار کرکے ہمیں نفرت کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے انہوں نے کہاکہ پاک ایران بارڈر کی بندش ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے نیشنل پارٹی کی یہ تحریک بارڈر بچاﺅ تحریک میں تبدیل ہوگیا ہے۔ نیشنل پارٹی اپنے عوام اور انکی ذرائع معاش کو تحفظ دینے کیلئے ہر سطع پر جدوجہد اور آواز بلند کریگی۔ عوام کے معاشی قتل کو کسی صورت برداشت نہیں کریگی، پاک ایران بارڈر ایک قدرتی تحفہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مظلوم عوام کو دیا ہے مگر افسوس یہ قدرتی تحفہ بھی بلوچستان کے عوام کیلئے ہمارے حکمرانوں کو ناگوار گزر رہی ہے، سی پیک سے بلوچستان کے عوام کو فائدہ ملنے کے بجائے سی پیک کی وجہ سے بلوچستان ایک عارزعن میں تبدیل ہوکر بلوچوں کو قربانی کا بکرا بنانے کی منصوبہ بندی ہورہی ہے بلوچستان کی بے پنا وسائل اور ساحل پٹی بلوچوں کی تقدیر بدلنے کے بجائے بلوچوں پر پانچ فوجی آپریشن کے تحفے میں تبدیل ہوگئے ہیں اور اب یہاں کے طاقت ور قوتیں فوجی آپریشن مسخ شدہ لاشوں کی فراہمی سے تنگ آکر اب بلوچستان پر معاشی قتل کا منصوبہ تلاش کررہا ہے پاک ایران بارڈر کی بندش اور کاروبار پر پابندی بلوچوں پر معاشی آپریشن تصور کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر فوری طور پر بارڈر کی بندش کا فیصلہ واپس اور بارڈر کے کاروبار کو بحال نہیں کیا تو 18ستمبر میں شثرڈوان اور 24ستمبر کو بلوچستان میں آل پارٹیز اجلاس بلا کر شدید احتجاج پر مجبور ہونگے نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنماءحاجی محمد اسلام بلوچ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری پھلیں بلوچ جے یو آئی کے رہنماءحاجی عبدالعزیز بلوچ نیشنل پارٹی کے بزرگ رہنماءحاجی صالح محمد بلوچ بارڈر بچاﺅ تحریک کے سعود بلوچ انجمن تاجران کمیٹی کے سابق صدر حاجی خلیل احمد دھانی شنید یونین کے سربراہ سیف اللہ سیفی حاجی محمد اکبر بلوچ حاجی محمد ایوب دھواری انجمن تاجران کے نائب صدر لعل دوست شعیب بلوچ تاج بلوچ نے کہا کہ پاک ایران بارڈر کی بندش بلوچستان کے عوام کو بھوکا مارنے کی سازش ہیں مکرام میں روزگار کاروبار کے دیگر زرائع نہ ہونے سے یہاں کے عوام روزگار کیلئے پاک ایران بارڈر جا کر اپنا روزی کماتے ہیں لیکن افسوس یہ کاروبار بھی یہاں کے بالادست قوتوں کو قبول نہیں ہے دنیا جہاں میں جہاں۔ بھی سرحدیں ملتی وہاں کے عوام کو ریلیف دیا گیا اور کاروبار کی سہولت فراہم کیا گیا ہے مگر یہاں کے مائنڈ سیٹ کو بلوچستان کے عوام کی نہیں بلکہ بلوچستان کے ساحلی پٹی اور دولت کی فکر ہے وہ ہمیں بھوکا مار کر بلوچستان کے دولت پر قبضہ جمانا چاھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر ہماری موت اور زیست کا مسئلہ ہے بارڈر کی بندش ہر گز قبول نہیں ہے بارڈر کی بندش کے خلاف ہمیں جو بھی قربانی کی ضرورت ہے تیار ہیں لیکن بارڈر کی بندش کو برداشت نہیں کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اداروں کی اندرونی اختلاف کو بھی یہاں کے عوام کا استحصال کا ذریعہ بنادیا گیا ہے حالانکہ پورے ملک کو پتہ ہے کہ سابق آرمی چیف نے اپنے پورے ٹیم اور بلوچستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز اعلیٰ سطحی دورہ پنجگور میں اعلان کیا تھا ایرانی بارڈر عوام کیلئے کھلا ہے عوام اسلحہ اور منشیات کے علاوہ ہر چیز لاسکتے ہیں، باقاعدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن کرکے کاروبار کی اجازت دی گئی، اس وقت ہزاروں گاڑیوں ریاستی اداروں کے پاس رجسٹرڈ ہیں ، پاک ایران بارڈر میں کوئی اسمگلنگ نہیں ہورہی ہے، اسمگلنگ کا طعنہ بدینتی پر مبنی ہے، بلوچ دہشت گرد نہیں بلکہ محبت دینے والا قوم ہے۔ انہوں نے فوری طور پر بارڈر کو کھولنے اور کاروباری سرگرمیاں بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں