بلوچستان اسمبلی میں خلاف ضابطہ تعیناتیاں ہوئیں، لواحقین کوٹہ پر نوکریاں دی جائیں، یونین رہنما
کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان اسمبلی کے ملازم میر ظفر علی رند نے کہا ہے کہ 10 ستمبر کو مطالبات کے حل کے لئے 18 ستمبر تک کا وقت دیا تھا۔ مطالبات حل نہ ہونے پر آج سے اسمبلی کے سامنے مطالبات کی منظوری تک تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوموار کو کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ 10 ستمبر کو میڈیا کے توسط سے مطالبات کے حل کے لئے حکام بالا کو وقت دیا تھا لیکن مطالبات حل کرنے کے بجائے بلوچستان صوبائی اسمبلی اور ایم پی ہاسٹل ملازمین یونینز پر پابندی عائد کردی گئی۔ 7 دفعہ بلوچستان صوبائی اسمبلی ملازمین کا صدر منتخب ہوا ہوں اگر یونین کی جدوجہد مثبت نہیں تھی تو یونین کی حلف برادری میں اسپیکر نے ہم سے حلف کیوں لیا تھا کیا اس وقت یونین کا رول مثبت تھا اب اچانک سے منفی ہوگیا۔ ملک میں ہر ایک کو اپنے حقوق کے حصول کے لئے آواز بلند کرنے کا حق حاصل ہے یونین کی بحالی کے لئے عدالت سے رجوع کیا ہے بہت جلد یونین بحال ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 29 ستمبر کو میرٹ کے بر خلاف بلوچستان اسمبلی میں تعیناتی آرڈرز ہوئے ہیں جس میں دفتر کے ملازمین کے عزیز و اقارب کو نوازا گیا ہے۔اگر جن کے آرڈر ہوگئے ہیں انہیں چاہئے کہ ان کا لسٹ بلوچستان اسمبلی کے سامنے آویزاں کرتھے جس طرح ٹیسٹ انٹرویو کے لئے لسٹ آویزاں کیا گیا تھا آرڈر ہونے کے بعد چھپایا جارہا ہے جس سے عیاں ہورہا ہے کہ تعیناتیاں میرٹ کے برخلاف ہوئے ہیں اور چوری چپکے سے آرڈر تقسیم کئے گئے ہیں تاکہ باقی لوگوں کا معلوم نہ ہوسکے۔ مگر ہم نے دیکھا ہے لوگ آرہے ہیں اور مبارک بادیاں وصول کررہے ہیں۔ مجھے چپ کرانے کے لئے مخالفین کو آرڈرز دیئے گئے ہیں۔ایک ملازم نے پورے دفتر کو یرغمال بنالیا ہے جس کی وجہ سے ملازمین کے مسائل حل نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے ملازمتوں کے بندر بانٹ کے لئے کوئی لسٹ نہیں دیا لسٹ مانگا گیا لیکن میں نے مسترد کردیا اور میرٹ کی بات کی۔ انہوں نے یونین کی جدوجہد کی وجہ سے پہلے ہی 19 لواحقین کو ان کے کوٹہ پر ملازمتیں دی گئیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین سے جو وعدہ کیا تھا ان کے حقوق کے حصول کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کروں گا مطالبات کے حق تک تادم مرگ بھوک ہڑتال پر بیٹھوں گا۔


