ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک گئے، پاکستان میں پشتون عوام کا خون بے دریغ بہایا جارہا ہے، خوشحال کاکڑ

کوئٹہ(یو این اے )پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے چیئرمین خوشحال خان کاکڑ اور شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی نے عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما ارباب غلام کاسی ایڈوکیٹ کی شہادت کے المناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پنجابی استعماری ریاست میں پشتون افغان عوام کا خون بے دریغ بہایا جا رہا ہے اور سیاست دانوں سمیت زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی فرد کی زندگی نہ تو محفوظ اور نہ اسکی کوئی اہمیت ہے۔ ہم لاشیں اٹھاتے اٹھاتے تھک چکے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس ریاست کے وجود میں آنے سے لیکر آج تک مقتدر قوتوں نے پشتون افغان کے ساتھ دشمنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور اب تو پشتونخوا وطن میں سیاست دانوں، مذھبی رہنماوں، قبائلی معتبرین، سکولوں اور مدرسوں کے اساتذہ و طلبا، صحافی، تاجر، پولیس اور لیویز اہلکاروں سمیت کوئی محفوظ نہیں اور ایک منصوبہ بند سازش کے تحت ہر طرف دہشتگردی، بدامنی، بھتہ خوری اور لاقانونیت کا ماحول پیدا کیا گیا ہے جبکہ سیکورٹی ادارے کثیر تعداد میں ہونے کے باوجود امن وامان قائم کرنے میں مسلسل ناکام ہیں۔ ملی شہید عثمان خان کاکڑ، شہید اسد خان اچکزئی، شہید ملک عبیداللہ کاسی اور اب شہید ارباب غلام کاسی کی شہادت تک نہ تو اس کے اصل محرکات کا پتہ چلایا جاسکا ہے اور نہ ہی آج تک مجرموں کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جاسکی ہے۔ بیان میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسی اور اعلی عدلیہ کے ججوں کی توجہ دہشتگردی، ریاستی اداروں کی بےحسی، ناقص کارکردگی اور آمن وامان قائم کرنے میں ناکامی کی طرف مبذول کراتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملک اور بلخصوص پشتونخوا وطن میں دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، جبری گمشدگی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیکر متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جائے۔ بیان میں امن وامان کی بگڑتی صورتحال پر نکتہ چینی کرتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ ریاست کے تمام ادارے عوام کے سرومال کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں لہذا ریاستی ادارے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے پر اپنی توجہ مرکوز کرکے عوام کو عدم تحفظ اور اضطرابی کیفیت سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں