افغان باشندوں کی پاکستان سے بے دخلی، کشیدگی اور ردعمل کے پیش نظر سرحدی فورسز الرٹ
کوئٹہ(یو این اے )76 سال میں پہلی بار بلوچستان کے ضلع چمن سے ملحقہ پاکستان افغان سرحد پر آمدورفت کو مکمل دستاویزی بنانے اور ویزا اور پاسپورٹ لازمی قرار دیے جانے کے اعلان کے بعد پاکستانی حکام کو خدشہ ہے کہ اس فیصلے کا سب سے زیادہ ردعمل بلوچستان کے سرحدی شہر چمن اور اس سے ملحقہ سرحد پر سامنے آ سکتا ہے۔سرحد پر کشیدگی کے پیش نظر پاکستانی سرحدی فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔روزانہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر سرحد پار کرکے تجارت اور مزدوری کے لیے افغانستان جانے والے ہزاروں پاکستانی تاجروں اور مزدوروں کو بھی کاروبار اور روزگار متاثر ہونے کی تشویش لاحق ہو گئی ہے۔تجزیہ کار سلیم شاہد کے مطابق قیام پاکستان کے بعد بلوچستان کے ضلع چمن سے ملحقہ پاکستان افغان سرحد پر آمدروفت کے لیے ون ڈاکومنٹ رجیم یعنی صرف مستند ویزے اور پاسپورٹ کی پالیسی لاگو ہونے کا یہ پہلا موقع ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ انگریز دور میں راہداری پر سفر کی اجازت دی جاتی تھی جو متعلقہ ضلع کا ڈپٹی کمشنر کا دفتر دیتا تھا۔ اس کے بعد پاکستانی یا افغانی شناختی کارڈ یا پھر بغیر دستاویزات کے ہی آمدروفت ہوتی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاسپورٹ اور ویزا کی نئی شرط علاج، کاروبار، روزگار اور پناہ کی تلاش میں پاکستان آنے والے افغان باشندوں بالخصوص بلوچستان سے ملحقہ افغانستان کے پشتون اکثریتی جنوبی صوبے قندھار کے رہائشیوں کے ساتھ ساتھ پاکستانی شہر چمن کے باشندوں اور سرحد پر آباد منقسم قبائل کو متاثر کرے گی۔چمن کے صحافی اختر گلفام کے مطابق چمن سے تعلق رکھنے والے تقریبا سات ہزار پاکستانی باشندوں کی افغانستان کے سرحدی ضلع سپین بولدک میں دکانیں، موٹر شوروم اور گودام ہیں یا وہاں کوئی نہ کوئی کاروبار کر رہے ہیں۔ یہ لوگ روزانہ صبح افغانستان جاتے اور شام کو پانچ بجے سرحد بند ہونے سے پہلے پہلے واپس پاکستان آجاتے ہیں۔اسی طرح چمن سرحد پر پاکستانی حکام نے مقامی باشندوں کو باب دوستی دروازے پر چھوٹے پیمانے پر تجارتی سامان کی سمگلنگ کی اجازت دے رکھی ہے۔ سامان کی ترسیل کرنے والے ان افراد کو مقامی طور پر لغڑی کہا جاتا ہے۔ ان کے لیے سرحد پر آزادانہ طور پر آنے جانے کے لیے صرف پاکستانی شناختی کارڈ پر چمن کا پتہ درج ہونے کی شرط ہے۔اختر گلفام کے مطابق سرحد پر آمدروفت کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کی شرط عائد ہونے کی وجہ سے یہ دو طبقات سب سے زیادہ متاثر ہوں گے اور کم از کم دس سے 12 ہزار خاندان بے روزگار ہو جائیں گے۔اس طرح حکومت کی نئی پالیسی سے پاکستان میں سب سے زیادہ چمن کے لوگ متاثر ہوں گے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی حکومت ان پاکستانی باشندوں کو شناختی کارڈ پر آمدروفت کی اجازت پر کوئی قدغن نہ بھی لگائے تو اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ افغان سرحدی علاقوں کے باشندوں کو رعایت نہ دینے کے رد عمل میں افغان طالبان چمن کے تاجروں اور مزدوروں کو بھی افغانستان کے ویزے کے بغیر داخل نہیں ہونے دیں گے۔لغڑی اتحاد کے رہنما غوث اللہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ روزانہ پانچ سے چھ ہزار لغڑی سامان چمن سے بولدک یا بولدک سے چمن پہنچانے کا کام کرتے ہیں اور ایک سے دو ہزار روپے ہزار روپے تک کما کر اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت تو شناختی کارڈ پر چمن کا پتہ ہونے کی وجہ سے آنے جانے کی اجازت ہے۔ نہیں معلوم کہ نئی پالیسی لاگو ہونے کے بعد کیا ہو گا۔ اگر شناختی کارڈ پر آمدروفت بند کر دی گئی تو یہ ہزاروں خاندان بے روزگار ہوجائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ چمن میں نہ زراعت ہیں اور نہ کارخانے۔ سرحد پر انحصار کرنے والے مزدوروں کو یک دم بے روزگار کیا گیا تو اس کے بڑے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ہم اس کے خلاف خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ احتجاج کریں گے اور دھرنے دیں گے۔غوث اللہ کے بقول نئی پالیسی کے اطلاق سے قبل ہی سرحد پر بہت سختی کر دی گئی ہے۔ سامان لانے لے جانے پر کبھی کبھی کئی کئی روز تک پابندی لگا دی جاتی ہے۔ پہلے کی نسبت اب 20 فیصد بھی کام نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پہلے لوگ روزانہ صبح جاتے اور شام کو واپس آتے تھے اب سختیوں کی وجہ سے چمن کے لوگوں نے روزانہ آنا جانا چھوڑ دیا ہے اور وہیں افغان شہر سپین بولدک میں کمرے اور مکانات کرایے پر لے لیے ہیں اور ہفتہ یا مہینے میں ایک بار چمن اپنے گھر آتے ہیں۔چمن چیمبر آف کامرس کے صدر اور پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے سابق عہدے دار عمران کاکڑ کہتے ہیں کہ پاکستانی حکومت پڑوسی ملک افغانستان سے متعلق اس نئی امیگریشن پالیسی کے نتیجے میں عسکریت پسندوں، جرائم پیشہ افراد کی آمدروفت اور سمگلنگ کے تدارک کے مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے تو یہ اچھی بات ہے مگر 70 سالوں سے رائج روایت اور پالیسی کو مرحلہ وار کی بجائے یک دم تبدیل کرنے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے بڑی مشکلات پیدا ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ اور ویزے کا اطلاق کرنے سے پہلے دونوں ممالک کو ملٹی پل ویزا کے اجرا کو آسان بنانا چاہیے۔ سرحد پر تجارت اور روزگار کرنے والے اسی طرح سرحد پار رشتہ رکھنے والے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے خصوصی رعایت دینے کی ضرورت ہے۔عمران کاکڑ نے کہا کہ اگر تاجروں اور سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے ویزے کا حصول آسان ہوجائے اور اس پر روزانہ آنے جانے کی اجازت دی جائے تو نئی پالیسی کے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔چمن کی ضلعی انتظامیہ کے ایک سینیئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر( اردو نیوز )کو بتایا کہ افغان حکومت کے سخت رد عمل کے نتیجے میں سرحد پر تنا اور کشیدگی میں اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ ان کے بقول بدھ کو سرحدی دروازے (باب دوستی ) پر فائرنگ کا واقعہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں افغان سکیورٹی اہلکار کی فائرنگ سے دو پاکستانی باشندوں کی ہلاکت اور ایک ایف سی اہلکار سمیت دو افراد زخمی ہو گئے تھے۔ضلعی افسر کا کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے کسی بھی منفی رد عمل کا جواب دینے کے لیے پاکستانی سکیورٹی فورسز کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔


